صفحہ اول بلاگ شادی کیلئے لڑکی بھگانا ضروری ہے، وادی کیلاش کا اصول

شادی کیلئے لڑکی بھگانا ضروری ہے، وادی کیلاش کا اصول

2 min read
0
0
95
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

بلاگ: وجاہت علی
چترال شہر سے کوئی دو گھنٹے کی مسافت پر کافرستان واقع ھے۔کیلاش مذھب میں خدا کا تصور تو ھے مگر کسی پیغمبر یا کتاب کا کوئی تصور نہیں.انکے مذہب میں خوشی ھی سب کچھ ھے.وہ کہتے ہیں جیسے کسی کی پیدائش خوشی کا موقع ھے اسی طرح اسکا مرنا بھی خوشی کا موقع ھے.
چنانچہ جب کوئی مرتا ھے تو ھزاروں کی تعداد میں مردوزن جمع هوتے هیں- میت کو ایک دن کے لئے کمیونٹی ھال میں رکھدیا جاتا ھے ، مہمانوں کے لئے ستر سے اسی بکرے اور آٹھ سے دس بیل ذبح کئے جاتے ھیں اور شراب کا انتظام کیا جاتاھے.تیار ھونے والا کھانا خالص دیسی ھوتا ھے.
آخری رسومات کی تقریبات کا جشن منایا جاتا ھے.ان کا عقیده هے که مرنے والے کو اس دنیا سے خوشی خوشی روانہ کیا جانا چاهیۓ.جشن میں شراب ، کباب ، ڈانس اور هوائی فائرنگ ھوتی ھے ۔مرنے والے کی ٹوپی میں کرنسی نوٹ ، سگریٹ رکهی جاتی هے- پرانے وقتوں میں وہ مردے کو تابوت میں ڈال کر قبرستان میں رکھ آتے تھے ، آج کل اسے دفنانے کا رواج ھے.کیلاش میں ھونے والی فوتگی خاندان کو اوسطاَ اٹھارہ لاکھ میں پڑتی ھے جبکہ یہ کم سے کم سات لاکھ اور زیادہ سے زیادہ پینتیس لاکھ تک بھی چلی جاتی ھے۔
فوتگی کی طرح انکے ھاں شادی اور پیدائش بھی حیران کن ھے- لڑکے کو لڑکی بھگا کر اپنے گھر لیجانی ھوتی ھے.لڑکے کے والدین لڑکی کے والدین اور گاؤں کے بڑوں کو اس کی خبر کرتے ہیں جو لڑکے کے ھاں آکر لڑکی سے تصدیق حاصل کرتے ہیں کہ اسکے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی گئی بلکہ وہ اپنی مرضی سے بھاگی ھے، یوں رشتہ ھو جاتا ھے.اسکے بعد دعوت کا اھتمام ھوتا ھے جس میں لڑکی والے بطور خاص شرکت کرتے ھیں.شادی کے چوتھے دن لڑکی کا ماموں آتا ھے جسے لڑکے والے ایک بیل اور ایک بندوق بطور تحفہ دیتے ھیں ، اسی طرح دونوں خاندانوں کے مابین تحائف کے تبادلوں کا یہ سلسلہ کافی دن تک چلتا ھے.
حیران کن بات یہ ھے کہ پیار ہونے پر شادی شدہ خاتون کو بھی بھگایا جا سکتا ھے.اگر وہ خاتون اپنی رضامندی سے بھاگی ھو تو اسکے سابقہ شوھر کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔پہلا بچہ پیدا ھونے پر زبردست قسم کی دعوت کی جاتی ھے جس میں بکرے اور بیل ذبح ھوتے ھیں.یہ دعوت ھوتی لڑکی والوں کے ھاں ھے مگر اخراجات لڑکے والوں کو کرنے ھوتے ھیں.اسکے علاوہ لڑکے والوں کو لڑکی کے ہر رشتےدار کو دو ہزار روپے فی کس بھی دینے ھوتے ھیں.اگر پہلے بچے کے بعد اگلا بچہ بھی اسی جنس کا ھوا تو یہ سب کچھ اس موقع پر بھی ھوگا یہاں تک کہ اگر مسلسل صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ھوتی رھیں تو یہ رسم برقرار رھیگی ، اس سے جان تب ھی چھوٹ سکتی ھے جب مخالف جنسکا بچہ پیدا ھو.
اگر کیلاش لڑکے یا لڑکی کو کسی مسلمان سے پیار ھو جائے تو شادی کی واحد صورت یہی ھے کہ کیلاش کو اسلام قبول کرنا ھوگا خواہ وہ لڑکا ھو یا لڑکی ۔۔۔حالیہ عرصے میں شادی سے قطع نظر کیلاش لڑکیوں میں اسلام تیزی سے پھیل رھا ھے جس سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ یورپین این جی اوز بھی پریشان ھیں جو اس علاقے میں کام کر رھی ھیں چنانچہ ان این جی اوز کی جانب سے ھر کیلاش فردکے لئے ایک بنک اکاؤنٹ کھولا گیا ھے جس میں ھر ماہ پابندی کے ساتھ بیرون ملک سے رقم ڈالی جاتی ھے جسکے عوض فقط یہی مطالبہ کیا جاتا ھے کہ مسلمان بننے سے پرھیز کیا جائے اور اگر کیلاش مذہب سے بیزار ھوں تو عیسائی بن جائیں لیکن مسلمان بننے سے گریز کریں.ان وادیوں میں پیدا ھونے والا بچہ رھتا تو کافرستان میں ھی ھے لیکن اسے پیدائش کے ساتھ ھی کوئی یورپین گود لے لیتا ھے اور وہ اسکے لئے ھر ماہ رقم بھیجتا رھتا ھے.ایسا کیوں کیا جاتا ھے ؟اسے سمجھنا مشکل نہیں-

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

بابا آپ نے کئی بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا، شہید کیپٹن مبین کی بیٹی کا والد کے نام رقت آمیز خط

لاہور: ایک سال قبل لاہور دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس افسر کیپٹن (ر) مبین کی صاحبزادی ن…