صفحہ اول بلاگ جوان خودکشیاں کیوں کررہے ہیں، ایک چشم کشا رپورٹ

جوان خودکشیاں کیوں کررہے ہیں، ایک چشم کشا رپورٹ

56 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ جوانی کی زندگی مزے اور لاپروائی کی ہوتی ہے اور نوجوانوں کو کسی بھی طرح کے مسائل اور پریشانیاں نہیں ہوتیں۔ یہ سچ نہیں۔ آج کل کے نوجوان بہت زیادہ ذہنی دبائوکا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ تناؤ، پریشانی اور ڈپریشن کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں اور بعض اوقات خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔ جو نوجوان تناؤ ، پریشانی اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں مندرجہ ذیل علامات نمایاں طور پر نظر آتی ہیں: وہ ہر وقت دکھی رہتے ہیں اوران کا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا۔ وہ بے چینی محسوس کرتے ہیں، چھوٹی اور غیر ضروری باتیں ان کو غصہ دلاتی ہیں۔ وہ لوگوں میں رہ کر بھی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی جان کی پروا کرنا چھوڑ سکتے ہیں اور شدید مایوسی کی کیفیت میں خودکشی کے خیالات ان کے ذہن میں آنے لگتے ہیں۔ ان میں سے چند خودکشی کر لیتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایسا سوچنے اور محسوس کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ یہ جسمانی، نفسیاتی اور سماجی ہو سکتی ہیں اوران عوامل کا مجموعہ بھی ہوسکتی ہیں: ۱) وراثت ان میں سب سے پہلی وجہ ہو سکتی ہے۔ اگر خاندان میں کسی نے بھی گزشتہ زندگی میں ڈپریشن کا سامنا کیا ہے، تو امکانات ہیں کہ آنے والی نسلوں میں بھی اس کے اثرات منتقل ہوں۔ ۲) غذائیت کی کمی بھی ذہنی امراض بشمول ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے۔۳) شدید جسمانی مرض جیسے ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس، کینسر اور پارکنسن وغیرہ سبب ہو سکتے ہیں۔ ۴) کسی بھی قسم کی زیادتی یا بدسلوکی ان کیفیات کو پیدا کر سکتی ہے جن کا نتیجہ ڈپریشن کی صورت میں نکلے۔ ۵) مختلف طرح کے مسائل، جیسا کہ مالی وسائل کی کمی، اقلیت ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا، گھر یلو مشکلات ، توقعات پر پورا اترنے میں ناکامی یاسیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ۶ ) زندگی میں کوئی اچانک آنے والی تبدیلی، جیسے ملازمت کا چلا جانا یا کسی قریبی ساتھی سے علیحدگی۔ ۷) تعلیمی دبائو۔ آج کل کے نوجوانوں کے سامنے جو مشکلات ہیں ان میں سے بہت سارے ان سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈپریشن ایک ایسا مرض ہیں جو پوری دنیا میں ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کی روز مرہ کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں ڈپریشن، موت کا دوسرا اہم سبب ہے۔ اکثر ڈپریشن کی تشخیص نہیں ہوتی کیونکہ اس کو بیماری نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان میں سالانہ ہزاروں افراد اپنی جان لے لیتے ہیں۔ خودکشی کی بڑی وجہ ڈپریشن ہے جو خودکشی کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ ڈپر یشن سے لڑنے اور خودکشی سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں سے بات کریں، ان کی مشکلات کو سمجھیں اور ان کو یقین دلائیں کہ ان کی ہر مشکل میں وہ ان کے ساتھ ہیں۔ اگر ڈپریشن کی علامات بہت زیادہ ہوں تو ان کا علاج جلد سے جلد شروع کروائیں۔ اس میں کسی قسم کی شرم یا ہچکچاہٹ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذات سے ہمدردی کی تعلیم دینی چاہیے، یعنی خود سے محبت کرنا سکھانا چاہیے ۔ خود سے ہمدردی کو بنیاد بنا کر انسان تین اہم باتیں سیکھ سکتا ہے، احساس، انسانیت اور محبت۔ یوں اپنی جان لینے کے خیالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

35total visits,3visits today

مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

ضمنی انتخابات: ضمنی حالات کیا بتاتے ہیں؟.

بروز اتوار 14 اکتوبر 2018، پاکستان میں 11قومی اور 26صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی الیکشن…