صفحہ اول بلاگ سیاں مورے کوتوال، اب ڈر کاہے کا!

سیاں مورے کوتوال، اب ڈر کاہے کا!

53 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

یہ تو ہم نے بارہا سنا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے کہ ‘چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے’۔ یہ بھی سن رکھا ہے کہ ‘چور کا بھائی گرہ کٹ’، مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ چور کی کوتوالی کرنے والا ہی چور نکلے گا۔۔ یا یوں کہنا بہتر ہوگا کہ چوروں اور ڈاکوؤں سے بڑھ کر کوتوال چوروں کے سردار کا خدمت گار!

یہ خبر مجھ پر اُس وقت آشکار ہوئی جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کراچی میں ایک نجی اسپتال کے دورے پر پہنچے جہاں سندھ کے سابق وزیر اور رہنما پیپلز پارٹی شرجیل میمن کو شدید علیل قرار دے کر علاج کے لیے جیل سے منتقل کیا گیا تھا۔ اس اسپتال میں گذشتہ کئی ماہ سے ان کا ‘علاج’ جاری ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ اسپتال پیپلز پارٹی کے ہی ایک رہنما کی ملکیت ہے اور جسٹس ثاقب نثار اس سے قبل ایک بار شرجیل میمن کو جیل کے اسپتال کے خصوصی وارڈ سے واپس جیل منتقل کرواچکے ہیں، تاہم کچھ عرصے بعد ایک بار پھر ان کو مبینہ طور پر شدید علیل ظاہر کرکے نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا، لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اب بھانڈہ پھوٹنے والا ہے۔

یکم ستمبر کی صبح جب چیف جسٹس صاحب اسپتال کی پہلی منزل پر واقع رکن صوبائی اسمبلی کے کمرے میں پہنچے تو وہاں انہوں نے طبی عملے کے بجائے شرجیل میمن کے ملازمین کو موجود پایا ۔شاید یہ منظر ان کے لیے اتنا حیرت انگیر نہیں ہوتا اگر چیف جسٹس صاحب کے سامنے اسپتال کے کمرے سے شراب اور نشے کی دیگر ممنوعہ اشیاء برآمد نہ ہوتیں۔

رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے فوری طور پر شرجیل میمن کے خون کے نمونے لیبارٹری بھجوانے کا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس، سندھ انتظامیہ اور دیگر ذمہ داروں کو طلب کرلیا۔ ساتھ ہی ساتھ چیف جسٹس نے رکن سندھ اسمبلی کو جیل منتقل کرنے اور وارڈ سے مبینہ طور پر برآمد شدہ شراب کی بوتلوں اور دیگر اشیاء کو پولیس سے لیبارٹری ٹیسٹ کروا کر رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ عدالت پہنچ کر انہوں نے اٹارنی جنرل کو طلب کیا اور اس واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔

پاکستان بھر میں کسی بھی قیدی کو جیل سے علاج کے بہانے اسپتال منتقل کروانے اور دورانِ قید جیل میں آرام دہ سکونت کی فراہمی کا ‘انتہائی منافع بخش کاروبار’  کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ زیادہ تر قیدیوں کے کوتوال ہی یہ سہولت بھاری معاوضوں کے عوض آسانی سے فراہم کرتے آ رہے ہیں۔ انہیں کوئی خوف نہیں ہوتا، اُن کے سر پر پہلے ہی سے جیل حکام اور متعلقہ ڈاکٹر کا ہاتھ ہوتا ہے کیوں کہ ان کے بغیر قیدیوں کے لیے سہولت کاری کا یہ ‘انوکھا کاروبار’ چلانا ممکن نہیں۔

یہ تو سب کو یاد ہی ہوگا کہ حال ہی میں سندھ کے ایک نہایت طاقتور شخصیت کے بیٹے کو بھی اسی طرح کی سہولت دے کر جناح اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جبکہ اُس پر ایک نوجوان پڑوسی کے بہیمانہ قتل کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ پنجاب میں دن دھاڑے قتل کی ایک واردات میں ملوث طاقتور شخصیت کے بیٹے کو بھی کوتوالوں کی ملی بھگت سے ہی بیرون ملک فرار کروادیا گیا تھا۔

شہرِ کراچی کی جیلوں کا تو عجیب ہی حال ہے۔گذشتہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سینٹرل جیل میں قیدیوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں موبائل فون، نشے آور اشیاء سمیت دیگر ممنوعہ چیزیں برآمد کیں۔ خیال یہ تھا کہ اب پیسے کے زور پر سہولیات کی فراہمی کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا ہوگا، لیکن یہ سوچ بھی خام خیالی ثابت ہوئی کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے بعد بس ‘سہولت’ کی فراہمی کے ریٹ بڑھا دیئے گئے، یعنی بااثر قیدیوں کے لیے ‘پیسہ پھینک، تماشہ دیکھ’ اور ‘جس کی لاٹھی اُس کی بھینس’ والے محاورے یہاں سو فیصد صادق آتے ہیں۔

چیف جسٹس صاحب کے اس اقدام پر رد عمل دیتے ہوئے محترم آصف علی زرداری نے کہا کہ ‘جب چیف جسٹس چھاپے مارنے لگے تو ہم کیا کہیں؟’ انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے بجائے سرے سے حقیقت سے یوں انکار کرنے کو کیا ڈھٹائی نہیں کہا جاسکتا؟ یا یہ سچ کو جھوٹ کا رنگ دینے کی کوشش نہیں؟ ایسی صورت حال میں سوال یہ بنتا ہے کہ اگر پولیس قانون کی عملداری اور نگہبانی کے برعکس مجرموں کی ساتھی اور سہولت کار بن جائے تو معاشرے کو تباہی سے کون بچاسکتا ہے؟ ان واقعات اور ایسے رویوں کے ذریعے نئی نسل کو عجیب سبق دیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بلاشبہ معصوم پاکستانیوں کو بنا کسی جرم کے سزا دیئے جانے کے مترادف ہے۔ کیا لا قانونیت اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے تباہ کن دور کا خاتمہ نئے پاکستان میں بھی ممکن نہیں؟

ایک جانب غریب اور بے گناہ جیلوں میں سڑتے رہے ہیں اور دوسری جانب اشرافیہ جرم پر سزا ملنے کے باوجود جیل کے بجائے اسپتالوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ المیہ یہ کہ غریب قیدی اگر شدید بیمار بھی ہو جائے تو اس کی قسمت میں بے بسی کی موت یا کربناک زندگی کے علاوہ کچھ نہیں۔

یہ تو سب نے ہی سنا ہوگا کہ ‘ظلم اور کفر پر مبنی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن لاقانونیت اور بے انصافی پر نہیں’۔ سیانے کہتے ہیں کہ انصاف کی بلا امتیاز فراہمی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن لا قانونیت اور بے انصافی عوام میں ناامیدی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس پر اگر فوری قابو نہ پایا جائے تو یہ انقلاب کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگر حکومت اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں دیانت اور ایمانداری سے ادا کرنے میں نہ صرف ناکام بلکہ بری طرح ناکام ہو جائے تو اس کا کیا حل ہے؟

کچھ لوگ اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ اور انتظامیہ کو اپنے اپنے کام کرنے چاہئیں لیکن جب صورت حال یہ ہو کہ طاقتور اشرافیہ بے خوفی کے ساتھ جرم پر جرم کیے جائے اور ان سے پوچھنے و الا کوئی نا ہو اور اگر کسی طرح وہ قانون کی گرفت میں آ بھی جائیں تو ان کے ‘گرہ کٹ’ انہیں بچانے کے لیے زمین اور آسمان ایک کر دیں تو کسی نا کسی کو تو ہمت دکھانا ہوگی، کیونکہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو برائی کے خلاف نا صرف آواز اٹھانا ہوگی بلکہ عوام کو بھی آگے آنا ہوگا۔

مملکت خداد پاکستان ہم سب کے لیے اللہ عزو جل کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے ، جو قدرتی دولت سے مالا مال ہے۔ سونے، چاندی، تانبے،کوئلہ اور ہیرے جیسی قیمتی دھاتوں سے بھرے زیرِ زمین خزانوں کے ساتھ ساتھ سفید، کالے اور رنگ برنگے سنگ مرمر کے پہاڑی سلسلے کسی اور ملک میں کہاں؟ پھر زرخیز زمین، بہتے دریا، خوبصورت سیاحتی مقامات کے علاوہ ذہین اور قدرتی صلاحیتوں سے مالامال انسانی و افرادی قوت جیسی دولت کسی دوسرے ملک کو میسر نہیں ۔ ہماری اس جنت نظیر دھرتی کو اگر ضرورت ہے تو دیانت اور ایمانداری سے کام کرنے والے حکمرانوں کی، قانون کے بلا امتیاز عملدرآمد کی، مجرموں اور بدعنوانی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی، کمزور ہو یا طاقتور ، غریب ہو یا امیر سب سے برابری کے سلوک کی، اقربا پروری اور سفارش کی لعنت سے نجات کی، میرٹ پر بھرتیوں اور قومی اداروں کو پوری ایمانداری اور صلاحیت سے چلانے کی، بیرونی امداد پر انحصار اور کشکول توڑنے کی، سیاسی اور سماجی رواداری کی اور بھروسے کی۔

سچ ہے ‘ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی’، لیکن ایک تازہ ترین رپورٹ یہ ہے شرجیل میمن کے معاملے میں درج پولیس رپورٹ کے مطابق وارڈ میں شراب رکھنے کی ذمہ داری رکن اسمبلی پر عائد نہیں ہوتی۔ اب اس پر کہیں تو کیا کہیں، سوائے اس کے کہ ‘سیاں مورے کوتوال، اب ڈر کاہے کا’….

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

اقبالؒ حقیقتاً بلند اقبال… مگر کیوں؟

’اقبالؒ میری پسند اور توجہ کا مرکز اس لیے ہیں کہ وہ بلندنظری، محبت اور ایمان کے شاعر ہیں، …