صفحہ اول بلاگ ہم کس طرح اپنے ملک سے پیسہ اکٹھا کرسکتے ہیں؟

ہم کس طرح اپنے ملک سے پیسہ اکٹھا کرسکتے ہیں؟

56 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے اپنے وسائل پر ہوتا ہے اور ان وسائل کو بہتر استعمال کرکے اپنے لوگوں کا معیار زندگی بہتر کرنا ہی جمہوریت کی صحیح عکاسی ہے۔ ایک طرف یہاں ہمارا ملک قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے تو دوسری طرف لاقانونیت کا راج ہے جو ایک عام آدمی کو اس سسٹم سے متنفر کر رہا ہے۔ ہر دوسرا شخص یہی سوچتا ہے کہ وہ کیوں ٹیکس دے کیونکہ اس ٹیکس کا فائدہ اس کو یا ایک عام آدمی کو نہیں پہنچ رہا۔

سوال یہ ہے کہ ہم کیسے اپنے ملک سے پیسہ اکٹھا کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیسے اس عام آدمی کو یقین دلاسکتے ہیں کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ اس کی فلاح پر ہی خرچ ہوگا۔ یوں تو اس کے بہت سے طریقے ہیں، بہت سے شعبے ہیں جہاں سے ہم بہ آسانی اربوں روپے اکٹھے کرسکتے ہیں اور غریب عوام پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ ان پیسوں سے ہم اس ڈائریکٹ ٹیکس کو بھی خاصی حد تک کم کرسکتے ہیں جو اس عوام پر لاد دیا گیا ہے۔ اپر کلاس کےلیے تو شاید یہ ٹیکس مسئلہ نہ ہوں مگر اس سے بڑی حد تک مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس متاثر ہو رہی ہے۔

آئیے ان مختلف شعبوں میں سے اس ایک شعبے پر بات کرتے ہیں جہاں سے ہم اربوں روپے ہر سال اکٹھے کرسکتے ہیں اور اپنے ٹیکس نیٹ کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ کبھی ہم نے دیکھا یا سوچا ہے کہ ہمارے ارد گرد جو کاروبار ہو رہے ہیں، ان میں سے کتنے رجسٹرڈ ہیں اور کتنے بغیر رجسٹریشن کے ہی اداروں کی ناک کے نیچے کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ خود اپنے ارد گرد، گلی محلے یا اپنے شہر میں دیکھیے کہ کتنے کاروبار ہیں جو بغیر رجسٹریشن کے چل رہے ہیں۔
ان میں آپ ہر چھوٹی بڑی دکان اور پھر بڑے سے بڑے کاروبار کو بھی شامل کرکے دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ کتنی بڑی مارکیٹ ہے جسے ہم نے کھلا چھوڑ رکھا ہے۔ کتنے کاروبار ایسے ہیں جو گھروں کے اندر ہو رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ کاروباری طبقہ اپنے کاروبار کو رجسٹر کیوں نہیں کرواتا؟ اس کی شاید ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موجودہ رجسٹریشن سسٹم اتنا مشکل اور پیچیدہ بنادیا گیا کہ ان کاروباروں کی رجسٹریشن مالکان کےلیے اتنی آسان نہیں، جس وجہ سے لوگ رجسٹریشن کے بغیر اور سسٹم سے دور رہ کر ہی کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہمیں سب سے پہلے اپنے بنائے ہوئے قانون کو دیکھنا ہے، بزنس رجسٹریشن کو آسان ترین اور کم قیمت پر کرنا ہے، ایک ویب سائٹ لانچ کرنا ہوگی جس پر کاروبار رجسٹریشن کی مکمل معلومات اور آسان ترین ضروریات (ریکوائرمنٹس) ہوں (ان ریکوائرمنٹس کو کیسے آسان بنایا جا سکتا ہے، یہ ایک الگ موضوع ہے) تاکہ آپ خود آن لائن رجسٹریشن کرواسکیں یا کسی وکیل یا اکاؤنٹنٹ سے کرواسکیں۔ آپ آن لائن بزنس نیم سرچ کیجیے اور ریکوائرمنٹس پوری کرتے ہوئے رجسٹریشن مکمل کرسکیں۔ اس رجسٹریشن میں آپ کو کاروبار کی نوعیت، جگہ اور اپنے ملازمین کی تعداد اور مکمل انفارمیشن ضرور دینی ہوں گی۔ آپ صرف وہی بزنس کرسکیں گے جو آپ نے رجسٹر کروایا ہے، کسی دوسرے کاروبار کےلیے دوسرا بزنس رجسٹر کروانا ہو گا یا دوسری برانچ کا علیحدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔

علاوہ ازیں، اس کے بعد ہر چھوٹے بڑے کاروباری طبقے پر اپنا کاروبار رجسٹر کروانے پر زور دینا ہے۔ ہر کاروباری فرد، فرم، کمپنی اور کارپوریشن کےلیے لازمی بنانا ہے کہ وہ اپنا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ/ لائسنس اپنی کاروباری جگہ پر نمایاں طور پر عوام کےلیے چسپاں کرے۔ بزنس رجسٹریشن ساری زندگی کےلیے نہ ہو بلکہ ہر ایک یا دو سال بعد اس کی تجدید بھی ضروری ہو۔

اب ان بزنسز رجسٹریشن کی چیکنگ کےلیے آپ کو پروفیشنل انسپکٹرز ہائر کرنے ہوں گے جو ہر میونسپیلٹی کے دائرہ اختیار میں ہوں۔ جو باقاعدگی سے ان بزنسز کی رجسٹریشن اور کنڈکٹ کو چیک کریں۔ (ان انسپکٹرز کو کیسے مانیٹر کرنا ہے کہ یہ کسی کاروباری شخص کو بلاوجہ تنگ نہ کریں؟ اس کےلیے ایک علیحدہ کوڈ آف کنڈکٹ بنایا جا سکتا ہے جو بہت آسانی سے ہوسکتا ہے۔ اس کا ذکر کسی دوسرے آرٹیکل میں کروں گا۔)

دوسرا ان سب رجسٹرڈ بزنسز کو ایف بی آر کے ساتھ لنک کرکے ان کو ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ہر چھوٹا بڑا بزنس اور ان کے ملازمین آپ کے ریکارڈ میں ہوں گے اور ہر بزنس، چاہے وہ سول بزنس ہو یا کارپوریشن، سب کو اپنا اور بزنس ٹیکس فائل کرنا ہوگا اور ہر اس ملازم کو بھی جو وہاں نوکری کرتا ہو۔ اور جو نہیں کرے گا، وہ ایف بی آر کے ریکارڈ میں ہوگا جسے ایف بی آر نوٹس بھیج سکتا ہے۔ (اب ایف بی آر میں بھی اصلاحات لانے کی اشد ضرورت ہے جو بہ آسانی لائی جاسکتی ہیں۔)

آپ چھوٹے بزنس یا کم آمدنی والے بزنسز کو رعایت دے سکتے ہیں تاکہ غریب کاروباری طبقے پر بوجھ نہ پڑے اور بڑے کاروباری طبقے ٹیکس نیٹ میں آئیں۔

اکثر لوگوں کے ذہنوں میں ایک خیال یہ ہے تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ سے ٹیکس پہلے ہی کاٹ لیا جاتا ہے تو وہ ٹیکس کیوں فائل کرے؟ لوگوں کو اس بارے میں مکمل معلومات دینا ہوں گی کہ ٹیکس فائلنگ بالکل دوسری چیز ہے ٹیکس فائل کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ ٹیکس اصلاحات میں آپ آمدنی کی ایک حد مقرر کرسکتے ہیں۔ اس حد سے کم آمدنی والے طبقے کو مزید ٹیکس نہیں دینا پڑے گا بلکہ تنخواہ دار، کم آمدنی والا طبقہ ٹیکس فائلنگ کے بعد اس ٹیکس کا ایک حصہ واپس بھی لے سکے گا جو اس کی تنخواہ سے کاٹ لیا گیا تھا۔

ٹیکس فائلنگ کےلیے آپ کو جدید اور آسان سافٹ ویئر متعارف کروانے ہوں گے۔ دنیا میں ایسے بہت سے سافٹ ویئر ہیں جو ایک عام صارف کےلیے استعمال میں بہت آسان ہیں۔ موجودہ مشکل ترین ٹیکس فائلنگ سسٹم کو تبدیل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا سسٹم ہو جو لوگوں کو بہ آسانی سمجھ میں آجائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ٹیکس کے متعلق کورسز متعارف کروائے جاسکتے ہیں جہاں سے بچے ٹیکس فائلنگ اور ٹیکس اصطلاحات کے شارٹ کورسز کرکے اپنا روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔

جب ٹیکسیشن سسٹم بہتر ہوگا، اس میں اصلاحات کی جائیں گی تو لوگ ٹیکس بائی چائس نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری کے طور پر فائل کریں گے۔ ایک ایسا جدید سسٹم ہو جو لوگوں کو ٹیکس فائل کرنے اور اپنے واجب الادا ٹیکس دینے پر مجبور کرے گا تو ٹیکس نیٹ بھی بڑھے گا۔ جب ملک میں ٹیکس سسٹم بہتر ہوگا تو آپ تمام اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ کی عام چیزوں سے ٹیکس بہت کم کرسکتے ہیں یا ختم کرسکتے ہیں۔ جب گروسری آئٹمز لوگوں کو کم سے کم قیمت پر بہ آسانی میسر ہوں گے تو ان کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا؛ اور شاید یہی جمہوریت کے بہترین ثمرات میں سے ایک ہوگا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

65total visits,2visits today

مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

ضمنی انتخابات: ضمنی حالات کیا بتاتے ہیں؟.

بروز اتوار 14 اکتوبر 2018، پاکستان میں 11قومی اور 26صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی الیکشن…