صفحہ اول تجارت انڈیا سے درآمد کی اجازت، پاکستانی روئی کی خریداری محدود

انڈیا سے درآمد کی اجازت، پاکستانی روئی کی خریداری محدود

2 min read
0
0
11
Share on Pinterest
There are no images.
Share with your friends










Submit

کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتیں مستحکم رہیں تاہم ہفتہ وار کاروبار میں بدھ کے دن مارکیٹ میں پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھارت سے روئی کی درآمد کی پرمٹ ارسال کرنے کی خبروں کے باعث ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری سرگرمیاں محدود کردی گئیں جو کاٹن مارکیٹ کے کاروباری حجم میں نمایاں کمی کاباعث بنی۔

مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بدھ کواپٹما کے نمائندوں کے ایک وفد نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ سے بھارت سے روئی کی درآمد کے پرمٹ ارسال کرنے کی استدعا کی جس کے جواب میں پی پی ڈی نے شرطیہ طور پر پرمٹ جاری کرنے کی حامی بھری جس کے باعث کاٹن مارکیٹ میں ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے محتاط رویہ اختیار کرلیا۔ دوسری جانب کپاس کے کاشتکاروں اور جنرز میں گھبراہٹ پیدا ہوگئی، پھٹی اور روئی کی قیمتوں میں مندی کا رجحان غالب ہوگیا، نتیجتاً کاروبار ٹھپ ہوگیا۔

علاوہ ازیں عیدمیلادالنبیﷺ کی تعطیلات اور اتوار کے باعث بھی کاروبار سست روی کا شکار رہاجبکہ 3 یا 4 دسمبر کو پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 30 نومبر تک کے کپاس کی پیداوار کی رپورٹ جاری کی جانے والی ہے، اس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی گئی۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کاٹن مارکیٹ میں غیر یقینی ماحول ہونے کی وجہ سے بھاؤ کاتعین کرنا مشکل ہوگیا ہے تاہم بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کے بھاؤ میں مضبوط ٹون تھا۔

نیویارک کاٹن کے بھاؤ میں خاصا اضافہ ہوگیا اور ایک وقت وعدے کا بھاؤ 75 امریکن سینٹ کی اونچی سطح پر پہنچ گیا جبکہ بھارت سے پاکستان میں روئی کی درآمد شروع ہونے کی خبروں کی وجہ سے بھارت میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ ہوگیا۔ چین میں روئی کا بھاؤ مستحکم رہا۔ نسیم عثمان کے مطابق فی الحال بیرون ممالک سے روئی کی تقریبا 20 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرلیے ہیں جبکہ مزید معاہدے ہورہے ہیں۔

بھارت سے بھی روئی کی درآمد کے معاہدے ہونا شروع ہوچکے ہیں کہا جارہا ہے کہ بھارت سے روئی کی تقریبا 8 لاکھ گانٹھوں کے معاہدے ہونے کی توقع ہے۔ گو کہ مقامی کاٹن مارکیٹ میں بھی اعلی کوالٹی کی روئی کا فقدان ہے اس وجہ سے بھاؤ میں زیادہ گراوٹ ہونا مشکل ہے۔

30 نومبر تک ملک میں روئی کی ایک کروڑ گانٹھوں سے زیادہ کی پیداوار ہوگی۔ مزید براں 10 تا 15 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار متوقع ہے۔ اس طرح کل پیداوار ایک کروڑ 10 تا 15 لاکھ گانٹھوں کی ہوسکتی ہے۔ ملک میں روئی کے بھاؤ میں اضافے کے باعث کاٹن یارن کے بھاؤ میں اضافہ ہونے کی ٹیکسٹائل مصنوعات تیار کرنے والے ادارے شکایت کر رہے ہیں، وہ کاٹن یارن پر دی گئی ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ اپٹما کاٹن کی درآمد پر سے 4 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 5 فیصد سیلزٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

دونوں سیکٹروں کی جانب سے کشمکش چل رہی ہے۔ دریں اثنا صوبہ سندھ میں روئی کی فی من قیمت 6200 تا 7000 روپے فی 40 کلو گرام پھٹی کی قیمت2800 تا 3300 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 6500 تا 7000 روپے فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت2800 تا 3450 روپے رہی۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی ریٹ کمیٹی نے فی من روئی کی اسپاٹ قیمت 6600 روپے پر مستحکم رکھا۔

Share on Pinterest
There are no images.
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

روپے کی بے قدری سے مہنگائی کے طوفان کا خدشہ

کراچی: امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی بے قدری ملک کوبڑی مہنگائی سے دوچار کردے گی جب کہ آنے و…