صفحہ اول تجارت کارساز کمپنیوں نے حکومت کو پیڑول کا معیار تعین کرنے پر مجبور کردیا

کارساز کمپنیوں نے حکومت کو پیڑول کا معیار تعین کرنے پر مجبور کردیا

56 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

اسلام آباد: جاپان اور پاکستان میں کاربنانے والی صنعتوں کی جانب سے ملک میں موجود پیٹرول کے معیار پرسخت تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت سے فوراً پیڑولیم مصنوعات کے معیارات تعین کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اوگرا حکام نے تصدیق کی کہ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کو مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں پٹرولیم کے معیارسے متعلق فوری اقدامات اٹھانے کا تذکرہ ہے۔

واضح رہے کہ ایندھن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے میگنیز ملایا جاتا ہے جس سے ایندھن کا خرچ کم ہوتا ہے تاہم اس کے اخراج سے انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچرز ایسوسی ایشن اور جاپان آٹو موبائل مینوفیکچرز اسیو سی ایشن نے تحفظات کا ظہار کیا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں فروخت ہونے والے پیڑول میں میگنیز کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دونوں ایسو سی ایشنز نے پیٹرول میں میگنیز کی زیادہ مقدار کو مضر صحت بھی قرار دیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں ہونڈا موٹر کمپنی کے ماتحت ادارے ہونڈا اٹلس کار( پاکستان) لمیٹڈ نے اوگرا کو شکایت کی تھی کہ پیڑول میں میگنیز کے باعث گاڑیوں کے کیٹالیٹک کنورٹرمیں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ ریگولیٹری معیار کے مطابق ایندھن ہونے کے لیے ریسرچ آکٹین نمبر( آر او این) کا 92 درجہ تک ہونا ضروری ہے۔

بعدازاں نومبر2017 میں حکومت نے ایڈیشنل سیکریٹری کی نگرانی میں پیٹرول ڈویژن، اوگرا اور آئل انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تاکہ پٹرولیم مصنوعات میں میگنیز اور سلفر کی مقدار کا جائزہ لے سکیں تاہم کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ جاپان آٹو موبائل مینوفیکچرز اسیو سی ایشن (جاما) نے گزشتہ مہینے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں 88 پارٹز فی ملین (پی پی ایم) میٹل موجود ہے جبکہ عمومی طور پر 52.6 فیصد پی پی ایم ہوسکتا ہے۔

جاما کے مطابق اقوام متحدہ اکنامکس کمیشن برائے یورپ (یو این ای سی ای) کسی بھی میٹل (میگنیز) کے استعمال کو ممنوع قرار دیتی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، کویت، بحرین، بھارت، انڈونیشیا، ہائی لینڈ، اومان اور ویت نام میں سے صرف کویت اور ویت نام ایسے ممالک ہیں جہاں پیٹرول میں 10 پی پی ایم میٹل استعمال ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کی مقدار 86 پی پی ایم ہے، جاپان نے پاکستان کو تجویز دی تھی کہ وہ پیٹرول میں میٹل کی مقدار 18 پی پی ایم رکھے۔

خیال رہے کہ ہونڈا پاکستان کی جانب سے شکایت درج کی گئی کہ غیر معیار پیٹرول کی وجہ سے وہ اپنا نیا یونٹ 0.5ایل ٹربو وی ٹی ای سی متعارف نہیں کررہا۔

جس کے بعد آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے ہونڈا پاکستان کو دھمکی دی کہ وہ اپنی شکایت واپس لے بہ صورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی تاہم او سی اے سی کی جانب سے کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

45total visits,3visits today

مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

ایمنسٹی سے محروم افراد کے لیے نئی اسکیم پر غور

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت300 ارب روپے سے زائدمالیت کاکالادھن سفید ک…