صفحہ اول تجارت ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے معیشت پر دباؤ کم ہوگا: مودیز

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے معیشت پر دباؤ کم ہوگا: مودیز

54 second read
0
0
29
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مودیز کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت کی ٹیکس سے استثنیٰ اسکیم کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے خزانے پر پڑنے والے بیرونی اور مالی دباؤ کو کم کیا جاسکے گا، جو کالے دھن کو سفید بنانے کی سرکاری اسکیم ’ٹیکس اصلاحات پیکج‘ کا حصہ ہے۔

عالمی ادارے نے نشاندہی کی کہ پاکستانی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جب کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے اخراجات سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی، اس کے علاوہ بیرون ملک اثاثے ظاہر کرکے وطن لائی جانے والی رقم سے، رواں مالی سال کے گزشتہ کچھ مہینوں میں ادائیگیوں کے توازن پر پڑنے والے دباؤ کم کیا جاسکتا ہے، جو جون 2018 کو ختم ہورہا ہے۔ واضح رہے یہ پاکستان کی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ہے۔

حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے حالیہ اندازے کے مطابق ماضی میں چھپائے گئے اثاثوں تک ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کر کے پاکستان کے مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ 20 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 12 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں جس میں سے صرف 7 لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی میں محصولات کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی، پڑوسی ممالک اور ایشیا پیسیفک کے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔

پاکستان میں محصولات سے حاصل شدہ آمدنی کی ابتر صورتحال کے سبب گزشتہ 25 برس میں کوئی خاص مالی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔

خیال کیا جارہا ہے کہ کامیاب ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کی آمدنی کا بہتر دور شروع ہوگا، بیرون ملک اثاثوں پر کم سے کم عائد کردہ ٹیکس سے اس اسکیم کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی ٹیکس اسکیم 2016-17 انڈونیشی ٹیکس اسکیم کی طرز پر بنائی گئی ہے جس کے تحت بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے پر 4 فیصد اور وہ اثاثے واپس ملک میں منتقل کرنے پر صرف 2 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

یہ ٹیکس اسکیم موجودہ مالی سال کے اختتام کے ساتھ ہی جون 2018 میں ختم ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ سی پیک کی مد میں کی جانے والی درآمدات کے سبب پاکستانی خزانے اور زر مبادلہ کے ذخائر پر خاصہ بوجھ پڑ رہا ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2017 سے اب تک روپے کی قدر 9 فیصد تک گھٹ چکی ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

امریکی امداد میں کٹوتی کی پاکستان کو فکر ہونی چاہیئے؟

پاکستانیوں کوغصہ آتاہے جب امریکا کہتاہےکہ دہشت گردی کےخلاف جنگ کامعاوضہ نہیں دیا جائےگا۔ پ…