اسلام آباد

پاکستان کی موروثی سیاست بھی ’گیم آف تھرونز‘

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو انہوں نے موروثی سیاست کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے اقتدار اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے نیم جاگیردارانہ معاشرے میں سرپرستی اور رشتہ داریاں سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اکثر اوقات یہ معاملات تقریباﹰ ایک ’نظریے‘ جیسی حیثیت کے حامل ہو جاتے ہیں۔

کچھ پاکستانی ماہرین کی رائے میں ملک کی موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نصف سے زیادہ ارکان ایسے ہیں، جو اپنے والد یا کسی دوسرے قریبی رشتہ دار کے باعث منتخب ہو کر لیکن دراصل ’موروثی طریقے‘ سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔

نواز شریف کی طرف سے بھی سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے ایک روز بعد ہی ملک کے اس اعلیٰ ترین عہدے کے لیے اپنے ہی چھوٹے بھائی شہباز شریف کا نام تجویز کرنا کوئی غیر متوقع اعلان نہیں تھا۔ اس دوران عبوری مدت کے لیے اب شاہد خاقان عباسی کو ملکی وزیر اعظم بنا تو دیا گیا ہے، تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ ان کی حیثیت ایک ’کٹھ پتلی‘ کی سی ہو گی اور اصل اقتدار اور فیصلے اب بھی نواز شریف ہی کے ہاتھ میں ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ نگار عمیر جواد کے مطابق، ’’اس سارے معاملے میں بالواسطہ پیغام یہی ہے کہ نواز شریف آئندہ انتخابات اور شاید ان کے بعد بھی ملکی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ ان طرح وہ اپنی پارٹی کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’نواز شریف برانڈ‘ اب بھی چل رہا ہے۔‘‘

شہباز شریف اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں، پنجاب اور صوبائی دارالحکومت لاہور ہی اس خاندان کا سیاسی گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونا اور بعد ازاں ملکی وزیر اعظم بننا بظاہر شہباز شریف کے لیے کوئی مشکل مرحلہ نہیں ہو گا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق شہباز شریف کی جگہ ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف کو صوبائی وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ پاکستان کے ’ہیرالڈ‘ میگزین کے ایڈیٹر بدر عالم کے مطابق، ’’موروثی سیاست کی کامیابی پر یقین کے باعث ہی ایسے اقدامات کرنا ممکن ہو رہے ہیں۔ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ ملک کے کئی حصوں میں موروثی سیاست اس قدر مضبوط ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔‘‘

لیکن کیا نون لیگ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ان کے پیچھے بھی ویسے ہی کھڑی رہے گی جیسا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی تھی؟ تجزیہ نگار عمر وڑائچ کا کہنا ہے، ’’نواز شریف کی اپنی ایک سیاسی اپیل ہے جو کہ ان کے بھائی کے پاس نہیں۔ میرے خیال میں شہباز شریف کی قیادت میں اس خاندان کی موروثی سیاست کمزور ہو جائے گی۔‘‘

پاکستان کی موروثی سیاست میں ایک قد آور نام پیپلز پارٹی کے بھٹو خاندان کا بھی ہے۔ سن 2007 میں ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پی پی پی کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئی پاکستان پیپلز پارٹی قریب چار دہائیوں تک ملکی سیاست پر چھائی رہی تھی۔

لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پارٹی کی قیادت جزوی طور پر ان کے بیٹے بلاول کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی مقبولیت کم ہوتی گئی۔ سن 2013 کے عام انتخابات میں 76 نشستیں پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گئی تھیں۔

Pakistan - Oppositionspolitiker Imran Khan in seinem Anwesen in Bani Gala

’عمران خان یہی فائدہ خود شخصیت پرستی کی سوچ کے باعث حاصل کر رہے ہیں‘

وڑائچ کے مطابق، ’’سیاسی جماعتوں کی نسبت سیاسی رہنما زیادہ ’مضبوط برانڈ‘ ہوتے ہیں۔ بینظیر ہمیشہ پاکستان پیپلز پارٹی سے زیادہ طاقتور تھیں۔ نواز شریف بطور برانڈ اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔‘‘

اسی طرح اپوزیشن کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی، جو اپنی جڑیں عوام میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، سیاست بھی اپنے بانی رہنما عمران خان کی شخصت کے گرد ہی گھومتی ہے۔ عمر وڑائچ کا کہنا ہے، ’’عمران خان کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ موروثی سیاست کے مخالف ہیں۔ لیکن وہ یہی فائدہ خود شخصیت پرستی کی سوچ کے باعث حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

عمران خان نے نواز شریف کے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد ’یوم تشکر‘ منایا اور اپنے کارکنوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا نام بطور وزیر اعظم تجویز کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’کیا تمہاری (نواز شریف کی) سیاسی جماعت میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کوئی اور شخص نہیں؟ یہ جمہوریت نہیں، بادشاہت ہے۔‘‘

سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین نے اپنے ایک حالیہ کالم میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کے نا اہل قرار دیے جانے کے فیصلے کو ’ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی‘ اور موروثی سیاست کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ تاہم زاہد حسین نے بھی اپنے مضمون کے اختتام میں یہی کہا: ’’یہ ابھی بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ شریف خاندان کی پاکستان میں حکمرانی ختم ہو گئی ہے۔‘‘

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close