صفحہ اول Featured سرکاری گاڑیاں چھنوانے میں سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف

سرکاری گاڑیاں چھنوانے میں سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف

57 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

اے سی ایل سی پولیس کے ہاتھوں گرفتارملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سچل کےعلاقے سے چھینی گئی سرکاری گاڑی ڈرائیور نے خود چھنوائی تھی۔

گزشتہ دنوں اینٹی کارلفٹنگ سیل پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزم عطا مینگل ولد صالح محمد کی تحقیقاتی رپورٹ ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دنوں سچل کےعلاقے سے چھینی گئی سرکاری گاڑی ڈرائیور انور بروہی نے خود چھنوائی تھی۔ سرکاری گاڑیوں میں ٹریکر نصب نہیں ہوتا اس لیے چھینی یا چوری کی جاتی ہیں اور انہیں بلوچستان میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ گرفتار ملزم نے دوران تفتیش متعدد سرکاری گاڑیوں سمیت دیگرگاڑیاں چھیننے اور چوری کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
گرفتارملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انور بروہی اس کا رشتہ دار ہے اور سرکاری محکمہ میں بطور ڈرائیور ملازمت کرتا ہے جو اکثر سرکاری گاڑیوں میں حب چوکی آتا تھا اوراس کے ساتھ نشہ بھی کرتا تھا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ 3 سے 4 ماہ قبل انور بروہی اوراس نے ایک منصوبہ بنایا کہ سرکاری گاڑی کو خضدارمیں فروخت کر دیتے ہیں اور کراچی میں گاڑی چھینے جانے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائیں گے اور یہ گاڑی 2 لاکھ روپے میں نصیرزیدی جو کہ چوری کی گاڑیاں خریدتا ہے اسے فروخت کردیں گے۔
ملزم نے بتایا کہ نصیر زیدی سے گاڑی کی بات چیت کی اور وہ گاڑی خریدنے پر آمادہ ہو گیا اور ہم نے اپریل میں اپنے تیسرے ساتھی سعود بروہی کو خضدار سے کراچی بلوایا اور منصوبے کے مطابق انور بروہی کی نشاندہی پر صبح 6 بجے سچل گوٹھ کے قریب سے سرکاری گاڑی رجسٹریشن نمبرجی پی 5887 چھینی اور سعود بروہی گاڑی خضدار لے کر چلا گیا اسی دوران انور بروہی کو کراچی میں پولیس نے گرفتار کر لیا اور انور بروہی نے سب اگل دیا۔ ملزم نے بتایا کہ انوار بروہی نے فون کر کے اسے بھی بتایا کہ وہ گرفتار ہو گیا ہے آپ گاڑی چھوڑ دو جس پر میں نے گاڑی خلیج ہوٹل کے قریب چھوڑ دی جو کہ کراچی پولیس نے برآمد کرلی۔

ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سال 2012 سے لے کر 2014 کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے سرکاری گاڑیاں چھینی یا چوری کر کے بلوچستان لے جا کر مخرالدین مندرانی اور اس کے بھائی قطیب الدین مندرانی عرف جمالی عرف پاکستانی کو فروخت کیں۔

گرفتارملزم نے بتایا کہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جنوری 2012 میں جوہر چورنگی کے قریب سے سفید کلٹس چھینی، فروری 2012 میں جوہر چورنگی سے سفید سرکاری گاڑی چھین کر فروخت کی، فروری 2012 میں طارق روڈ سے سفید گاڑی چھینی اور بلوچستان میں بیچ دی، اپریل 2013 میں گلشن سے گولڈن سرکاری گاڑی چھینی اور بیچی، ستمبر 2013 درخشان کے علاقے سے سفید سرکاری ہائی روف چوری کی، دسمبر 2013 عزیز بھٹی کے علاقے سے سیاہ سرکاری گاڑی چھینی اور فروخت کی۔ جون 2014 میں گلشن اتوار بازار سے سفید کار چوری کی اور فروخت کردی، نومبر 2014 میں درخشاں کے علاقے سے سلور سرکاری جیب چوری کی۔

اے سی ایل سی پولیس کے مطابق گرفتار ملزم عطا مینگل کے 2 ساتھی سرکاری ڈرائیور انور بروہی اور نصیر زہری پہلے سے گرفتار ہیں۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

22total visits,2visits today

مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

قلت آب؛ کراچی میں ٹینکر کی قیمت میں کمی کا حکم

سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن نے شہر میں پانی کی قلت سے متعلق معاملے کی سماعت کی۔ شہریوں ن…