بلاگ

انا للّٰہ و انا الیہ راجعون, ڈاکٹر ممتاز احمد بھی سوگوار چھوڑ کر چلے گئ

ابھی ابھی ( سوا بارا بجے دن ) مجھے میرے بڑے بیٹے اعجاز عارف نے ڈیلس سے یہ دل دہلا دینے والی یہ المناک خبر دی کہ میرے بھائی اور بہت ہی پیارے دوست ڈاکٹر ممتاز احمد وائس پریذیڈنٹ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا اسلام آباد میں انتقال ہو گیا ہے۔ اللھم الغفرہ والرحمہ۔

یہ المناک خبر سن کر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسووں کی جھڑی لگ گئی۔ میرے سامنے پوری نصف صدی جی ہاں پورے پچاس سال کی یادیں ایک ایک کر کے ذہن میں آنے لگ گئیں۔ یادیں اس قدر زیادہ ہیں کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کروں۔

یہ تین چار ہفتے پہلے کی بات ہے کہ میرے بیٹے اعجاز ہی نے ہیوسٹن میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی پر مجھے یہ خبر دی تھی کہ ڈاکٹر ممتاز کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ ڈاییلیسس پر ہیں اور وہ اس وقت اسلام آباد میں ہیں۔ میں نے اسی وقت ان سے رابطے کی کوشش کی مگر کسی بھی فون پر ان سے رابطہ نا ہو سکا۔ اصل میں ان کے فون تبدیل ہو گئےتھے۔ میں مسلسل کوشش کرتا رہا لیکن کامیابی نا ہوئی۔ میں نے ان کے بڑے بیٹے ڈاکٹر فیصل ممتاز سے بھی رابطہ کیا لیکن بات نا ہو سکی۔ میں نے پیغام چھوڑ دیا۔ چار دن پہلے فیصل نے نئے فون نمبرز دئیے تو ان سے بات ہوئی۔ بڑے خوش ہوئے۔ میں بے بتایا کہ کب سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ سن کر کہنے لگے۔ عارف آجکل کے دور میں کوئی کسی سے اتنی محبت کر سکتا ہے یہ آج معلوم ہوا۔ بڑے اچھے موڈ میں تھے۔ اپنی بیماری کی تفصیلات اگاہ کیا اور کہا کہ اب میری طبیعت کافی بہتر ہے۔ اور میں ہفتے میں دو تین گھنٹے کے لئے یو نیورسٹی جا تا ہوں۔ میں نے اس موقع پر چند پرانی یادوں کا زکر کیا تو بڑے خوش ہوئے۔ میں سوچنے لگا کہ اگر ان سے رابطہ نا ہو تا اور بات نا ہوتی تو کتنا دکھ ہوتا۔کہ انتقال سے پہلے بات نا ہو سکی۔

میرا ڈاکٹر ممتاز سے تعلق 1965 میں اس وقت شروع ہوا جب میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی میں شامل ہوا۔ جمعیت کے 23 اسٹریچن روڈ کے دفتر میں ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ سید منور حسن کراچی جمعیت کے ناظم تھے۔ ممتاز احمد اس وقت جمعیت کے دانشور طلبہ گروپ کے لیڈر اور تقریری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے قائم فورم کے انچارج تھے۔ ان کی شخصیت اتنی پرکشش اور دلآویز تھی کہ ہر ایک ان سے دوستی کرنے کا خواہشمند رہتا تھا۔ ان سے میری دوستی کا آغاز بھی اسی طرح ہوا۔ ہم دونوں طالب علم اور بیچلر تھے۔یہ دوستی آہستہ آہستہ بڑھتی گئی کہ دونوں نے ایک ساتھ رہنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔ دوستی کی ایک وجہ غالبا ایک دوسرے کا دیہاتی خاندانی پس منظر بھی تھا۔ حیدر آباد کالونی سے اس کا آغاز ہوا اور پھر یہ سلسلہ ناظم آباد نمبر ایک اور فیڈرل بی ایریا تک تقریباً 5 سال تک جاری رہا۔ نصیر سلیمی، اختر گیلانی،قاضی سعید اور محبوب بھی ہمارے روم میٹ رہے۔مشہور وکیل سپریم کورٹ حشمت حبیب ایڈوکیٹ بھی کچھ عرصہ ہمارے روم میٹ رہے۔

ڈاکٹر ممتاز اسلامی ریسرچ اکیڈیمی ( ادارہ معارف اسلامی ) کے ابتدائی فیلو تھے۔ جب کہ میں تو محض ایک طالب علم کچھ سیکھنے کے لئے کوشاں رہتا۔ عمر اور تعلیم میں جونیئر ہونے کے باوجود محض اپنی خداداد ذہنی صلاحیتوں اور دانش ورانہ سوچ کی وجہ سے انہوں نے پروفیسر خورشید، مصباح الاسلام فاروقی مرحوم، مولانا عبد العزیز مرحوم، سید منور حسن۔ سید معروف شیرازی اور ڈاکٹر نثار احمد کے ساتھ اپنا مقام بنایا۔ اسی اکیڈیمی کے قیام کے دوران ان کی خدا داد تحقیقی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی۔ جس کے نتیجے میں کم عمری ہی میں وہ مسلۂ کشمیر پر ہونے والے اس وقت تک کے پاک بھارت مذاکرات پر ایک کتاب کے مصنف بن گئے۔ اور اس کے بعد انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان ایک پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت دیا اور پہلی پوزیشن حاصل کر کے ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کو آج تک کوئی توڑ نا سکا۔

ایک طرف وہ دن میں اکیڈیمی میں اپنے سینئر ساتھیوں سے اپنی صلاحیتوں کو صیقل کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ رات میں تین ہٹی کے ایک ہوٹل میں رات بھر جاری رہنے والی ایک انوکھی ادبی محفل میں شریک ہو کر اپنے ادبی ذوق کی آبیاری کر رہے تھے۔ اس ادبی محفل کے روح رواں مشہور ادیب، ڈرامہ نگار،نقاد، منفرد شاعر اور دانشور مرحوم سلیم احمد تھے اور اس کے شرکاء میں مرحوم جمیل الدین عالی، ممتاز نقاد قمر جمیل، افسانہ نگار مرحوم اعجاز احمد کے نام مجھے یاد رہ گئے ہیں۔بعد میں اس محفل کے شرکا میں اور بھی متعدد لوگ شامل ہوتے گے۔ جن میں فراست رضوی، سجاد میر اور جمال پانی پتی کے نام مجھے یاد آرہے ہیں۔

شادیوں کے بعد اگرچہ ہم رہائشی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے لیکن ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ ممتاز NIPA میں ملازم ہو گئے اور وہیں سے اسکالر شپ پر وہ پی ایچ ڈی کے لئے امریکا چلے گئے۔ اور ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد امریکا کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پروفیسر ہو گئے۔ ہم دونوں کا رابطہ مسلسل قائم رہا۔ یہاں تک کہ جب میرا بیٹا اعجاز عارف 1996 میں ایم ایس کرنے کے لئے لاس اینجلز کی مشہور یونیورسٹی USC میں جانے لگا تو ڈاکٹر ممتاز نے پوری رہنمائی کی۔اور وہاں جا کر اس سے ملاقات اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ اسی طرح جب ان کے بڑے بیٹے فیصل نے ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ لیا تو ڈاکٹر ممتاز نے اس کو میری رہنمائی اور سرپرستی میں دیا۔

ڈاکٹر ممتاز کے دوستوں اور شاگردوں کی تعداد بلا مبالغہ ہزاروں میں ہوگی، مجھے یقین ہے کہ وہ ہر ایک کے محبوب اور پسندیدہ شخصیت ہوں گئے اور ان میں سے ہر ایک ان کے اچانک بچھڑ جانے کی خبر پر اسی طرح غمگین ہو گا جس طرح میں ان کے بچھڑنے کے غم کو محسوس کر رہا ہوں۔

ڈاکٹر ممتاز ہر معاملے میں مجھ سے آگے تھے۔اور مجھے ہمیشہ ان کی صلاحیتوں پر رشک آتا رہا اور ہمیشہ فخر بھی رہا۔ میں غم روزگار میں کچھ ایسا الجھا رہا کہ علمی میدان میں آگے نا بڑھ سکا جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، خواہش کے باوجود حاصل نا کر سکا لیکن یہ فخر ہمیشہ رہا کہ میں علمی میدان میں اگرچہ ان سے بہت پیچھے رہا لیکن یہ فخر ہمیشہ رہا کہ میرے دو بھائی ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلا نی علمی مدارج کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔

ڈاکٹر ممتاز کی یادوں کو کہاں تک بیان کیا جائے۔ جب بھی فون پر بات ہوتی۔ پرانی یادوں کا تذکرہ ہوتا تو بہت خوش ہوتے۔ اس زمانے کو یاد کرتے اور کہتے ایسا وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئیگا۔ واقعی اب نا صرف وہ وقت لوٹ کر واپس نہیں آیئگا بلکہ اب کسی سے ان یادوں کا تذکرہ بھی نہیں ہو گا۔ کہ جس سے یہ یادیں وابستہ تھیں وہ ہم سے بہت دور اس جگہ چلا گیا ہے۔ جہاں سے کوئی آج تک واپس نہیں آیا۔ 
اللہ حافظ ڈاکٹر ممتاز۔
مجھے یقین ہے کہ اللہ آپ کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا وہ آپ سےراضی ہو گا۔ اور اپنے جوار رحمت میں جگہ دے گا۔
ڈاکٹر ممتاز آپ نے یہاں بھی پہلے جا کر آگے رہنے کی روایت کو قائم رکھا۔ ہم بھی اپنی باری کے منتظر ہیں۔ انشااللہ جلد ملاقات ہو گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے راضی ہوجائیں۔ یہی اصل کامیابی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close