بلاگ

ساڈا منڈا صادق خان

گو گذشتہ روز بیشتر برطانیہ میں علاقائی اسمبلیوں اور شہری کونسلوں کے انتخابات ہوئے لیکن اگر پاکستانی میڈیا کی آنکھ سے دیکھا جائے تو برطانیہ میں صرف ایک جگہ ہی الیکشن ہوا یعنی لندن میں۔اور اس الیکشن میں کون جیتا ؟ ایک پاکستانی مسلمان؟ اور ہارا کون ؟ ایک ارب پتی یہودی خاندان کا چشم و چراغ ۔( ایک چینل نے تو جوش میں عرب پتی کی پٹی چلا دی)۔

پھر یہ بحث شروع ہوئی کہ صادق خان پنجابی ہے کہ غیر پنجابی۔یہ کنفیوژن اس لیے پھیلا کہ صادق خان کے ایک پرانے انٹرویو کا ٹوٹا کسی چینل نے چلا دیا جس میں وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں کہہ رہے ہیں کہ میرا خاندان تقسیم کے وقت بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آیا اور پھر ہم لوگ ساٹھ کی دہائی میں لندن آ گئے۔میرے رشتے دار کراچی میں بھی ہیں اور فیصل آباد میں بھی رہتے ہیں۔

ایک ویہلے صحافی نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے آنکھ ٹکائی ’میں نہ کہتا تھا اپنا مہاجر بچہ ہے‘۔۔۔دوسرے نے چیلنج کیا تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ فیصل آباد میں بھی اس کے رشتے دار ہیں اور فیصل آباد میں اکثریت ان کی ہے جو مشرقی پنجاب سے لٹ پٹ کے آئے تھے۔

پر افسوس کہ کل تک صادق خان کے کسی رشتے دار کو فیصل آباد اور کراچی میں ڈھونڈنے کی سرتوڑ میڈیائی کوششوں کو کامیابی نہ ملی اور ہر چینل کو حسرت ہی رہی کہ وہ صادق خان کی کسی خالہ کے بیٹے کے داماد کو تلاش کرکے ’اس وقت آپ کیسا مسوس کر رہے ہیں؟ ’ٹائپ سوالات پوچھ کر سینہ تان سکے کہ یہ ایکسکلوسیو انٹرویو سب سے پہلے آپ تک چنبیلی نیوز چینل نے پہنچایا۔

یہ سب دیکھتے سنتے مجھے براک حسین اوباما کی اماں این ڈنہم یاد آگئیں جو سن اسی کی دہائی میں کچھ عرصے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے مائیکرو کریڈٹ ڈویژن کی اہلکار کے طور پر گوجرانوالہ میں ایک پروجیکٹ کی نگرانی کرتی رہیں اور اس عرصے میں اوباما بھی ان سے ملنے لاہور آئے۔جب اوباما صدر بنے تو وسطی پنجاب کے کئی لوگ بہت خوش ہوئے ’اپنا گوجرانوالے تا منڈا اے ۔۔۔تے نالے شکر الحمدللہ مسلمان وی ۔۔۔۔ہن پاکستان دی امداد ودھ جائے گی۔‘

’گذشتہ برس وزیرِ اعظم نواز شریف نے ’اپنے اوبامے‘ کو ان کی والدہ کے قیامِ پاکستان کی یادگار تصاویر کا البم بھی پیش کیا۔

آج صبح ہی صبح میرے ایک جواں سال مفتی دوست نے فون کر کے جگا دیا ۔’سنا آپ نے؟ صادق خان ماشااللہ پنج وقتہ نمازی و تہجدگذار ہیں اور انھوں نے حج بھی کیا ہے ۔رفتہ رفتہ لندن کی طرح پورے مغرب کو اسلام کی حقانیت کا احساس ہو جائےگا اور یہ بھی کہ مسلمان کتنے امن پسند لوگ ہیں اور چند مٹھی بھر

میں نے جی جی کرتے ہوئے فون رکھ دیا اور یہ خواہش دل میں دبا لی کہ مفتی صاحب کو بتا دوں کہ صادق خان کو ایک برطانوی امام مسجد نے مرتد بھی قرار دیا تھا کیونکہ انھوں نے بیان دیا تھا کہ ہم جنس پرستوں کے مسائل کو بھی انسانی حقوق کے آئینے میں دیکھنا چاہیے۔

اپنے اپنے آئینے میں کسی شخص کو قید کر لینے میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ بڑی تصویر نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔کاش کوئی پاکستانی میڈیا پر یہ بحث بھی اٹھا سکتا کہ سو سے زائد قومیتوں پر مشتمل پچاسی لاکھ آبادی والے بین الاقوامی کثیر نسلی ، کثیر مذہبی تاریخی شہر لندن نے صادق خان کو ہی چھپن اعشاریہ آٹھ فیصد ووٹوں سے اپنا مئیر کیوں چنا۔

اگر تو مسلمان ہونے کے سبب چنا تو مسلمان تو لندن میں صرف ساڑھے بارہ فیصد ہیں۔اگر پاکستانی ہونے کے سبب چنا تو پاکستانی تو لندن میں صرف پونے تین فیصد ہیں۔ان کی مہم تمام قومیتوں نے مل کے کیوں چلائی؟ ایسا کیا ہے کہ ان کو شدت پسندی سے جوڑنے کی تمام تر انتخابی کوششوں کا الٹا اثر ہوا اور صادق خان سے زیادہ ووٹ برطانیہ میں آج تک کسی سیاستداں کو نہیں ملے؟

وہ جو ہر وقت ہر مسئلے کی جڑیں یہود و ہنود و نصاریٰ کی تکون میں تلاش کرتے ہیں زیک گولڈ سمتھ کی شکست کی کیا تاویل اب پیش کریں گے ؟ وہ جو کہتے کہ الیکشن پیسے کا کھیل ہے ۔اب ایک ارب پتی کے مقابلے میں ایک بس ڈرائیور کے مڈل کلاس بیٹے کی دھڑم دھکیل انتخابی فتح کو کس معاشی و سماجی خانے میں فٹ کریں گے ؟

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جمہوریت اگر چلتی رہے تو جمہوری رویے رفتہ رفتہ دل و دماغ میں بھی رچنے بسنے لگتے ہیں۔اور انسانی رویے نسلی، معاشی، علاقائی تعصبات سے اوپر اٹھنے لگتے ہیں۔

صادق خان کی جیت نے پاکستان جیسی جمہوریتوں کو ایک بڑا چیلنج دیا ہے۔ جس دن کراچی کا مئیر کوئی سنیل شنکر پاکستانی ہوگا، جس دن کوئی پیٹر جیکب کھلے مقابلے میں کسی ارب پتی صنعت کار کو اس کے گڑھ میں ہرائے گا، سمجھ لیجیے جمہوری سسٹم تعصبات اور عدم مساوات پر حاوی آنے لگا ہے۔جب تک یہ نہیں ہوتا یا نہیں سیکھا جاتا تب تک صادق خان کو اپنا منڈا کہتے ہوئے خوش ہو کر کنوئیں میں مطمئن رہنے اور اپنے نظام اور اغیار کے تعصبات کو کوسنے میں کوئی حرج نہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close