بلاگ

پیچھے کوئی ہے؟

وقت مختصر ہے اور تحریر مختصر تر۔گاڑی چلانا کوئی ایسا کرتب نہیں، پہلی مرتبہ جب سیکھی تو ایک عزیز دوست کو ساتھ لیے ان کی رہنمائی ہی میں سیکھی۔

اس کے بعد تو تمام مشق کی بات ہے، جتنی مشق، اسی قدر یہ عمل لاشعوری ہوتا چلا جاتا ہے، آپ اپنی سوچ کے گرداب میں غرق سڑکوں پر تیرتے چلے جاتے ہیں۔

لیکن جب ہم دبئی میں وارد ہوئے تو فرمایا کہ دوبارہ سیکھو ورنہ تم کو سڑک پر نہ آنے دیں گے۔ عرض کیا کہ جو پاکستان میں چلا لے، جو راولپنڈی کے مری روڈ اور صدر سے بارہا زندہ سلامت گاڑی سمیت نکل آئے، اس کو کیا حاجت؟ بضد ہوئے کہ ایسا ہی ہوگا۔

چارو ناچار، فارم جمع کروائے ایک ڈرائیونگ سکول میں کلاسیں شروع ہوئیں۔ پہلے ایک بنگالی صاحب تھے، چار چھے دن ان کے ساتھ رہے پھر ایک پاکستانی صاحب نے ہاتھ پکڑا نام تھا جن کا سلیم۔

سلیم صاحب دلچسپ کردار تھے۔ بہت دھیما بولتے، وقت مقررہ پر لینے پہنچ چاتے، گاڑی ہمارے حوالے ہوتی۔ اب حضور کالا چشمہ پہنے نشست پر نیم دراز ہو کر آنکھیں موندے فرماتے جاتے دائیں موڑو، بائیں موڑو، ادھر دیکھو، ادھر دیکھو وغیرہ اور جہاں کہیں کچھ کوتاہی ہوتی تو سرزنش بھی فرماتے۔

باقی تو سب ٹھیک تھا لیکن سب سے دلچسپ پہلو وہ تھا کہ جب ہمیں بریک لگانا پڑتی۔ جوں ہی بریک پر پاؤں رکھو تو فرماتے ’پیچھے کوئی ہے؟‘ دو چار دن کے بعد تو ہم نے یہ معمول ہی سمجھ لیا کہ جب بھی بریک کی پچھلی بتی جلے گی، حضور کی دھیمی سرگوشی کی حد تک دبی آواز بھی ہوگی کہ ’پیچھے کوئی ہے‘؟

ایک روز ہم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ زندگی بھر بریک ایسے ہی دباتے آئے ہیں، یہ پیچھے کوئی ہے والا قصہ کیا ہے؟

ہاتھ میں کشمش کا دانہ منہ کا نشانہ لے کر پھینکتے ہوئے آپ نے ہاتھ سے گاڑی ایک طرف روکنے کا اشارہ کیا، سو ہم نےسٹرک کنارے روک دی۔ کچھ دیر کشمش چباتے رہے، نگل کر پھر کچھ یوں گویا ہوئے ’آپ ایک سو دس کی سپیڈ پر پر بھاگے چلے جا رہے ہیں، آپ کے پیچھے والا آدمی آپ کو دیکھتے دیکھتے اسی رفتار کے آس پاس آپ کے بھروسے پر گاڑی بھاگتا چلا آ رہا ہے۔ آپ پیچھے دیکھے بغیر اچانک بریک لگا دیں تو کیا ہوگا؟ وہ تو اسی رفتار سے آپ کے بھروسے چلتا آ رہا ہے، یوں اچانک رکنے سے آپ ہی میں آ لگے گا۔ پھر قصور کس کا ہوا؟ اس لیے اچانک بریک لگانے سے پہلے دیکھیں کہ پیچھے کوئی ہے‘؟

حالیہ جامعات و دیگر تعلیمی اداروں پر ہونے والے حملوں، ہمارے بھٹکے بھائی ہیں کہ را کے ایجنٹ ہیں اور اس پر ہوتی اگر مگر اور ملحقہ بحث کے تناظر میں یہ بات ہمیں کچھ یوں یاد آئی کہ لگ بھگ بیس پچیس برس ایک سو بیس کی رفتار پر جہادی تنظیموں پر مبنی تزویراتی گہرائی کے ایندھن سے چلتی ریاستی گاڑی کو مشرف دور میں کسی قسم کا حساب کتاب یا تجزیہ کیے بغیر بدحواسی میں اچانک بریک لگائی گئی۔

اب وہ جو ہماری رہنمائی میں پیچھے پیچھے بھاگے چلے آ رہے تھے، وہ ہمیں اسی رفتار سے آ کر لگ رہے ہیں، تعجب کی بات ہے کہ اتنے پیرزادوں، سلطانوں، چوہدریوں، لطیفوں جیسے جغادری ماہرین حرب و حکمت سمیت کسی نے بریک لگانے سے پہلے سوچا نہ پوچھا کہ ’پیچھے کوئی ہے‘؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close