صفحہ اول Featured کیا پاکستان میں بچوں سے زیادتی اور بدفعلی کے واقعات بڑھ رہے ہیں؟

کیا پاکستان میں بچوں سے زیادتی اور بدفعلی کے واقعات بڑھ رہے ہیں؟

54 second read
0
0
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

تین سال قبل، اگست 2015 میں پنجاب کے ضلع قصور کے ایک ہولناک واقعے کی خبر نے تہلکہ مچا دیا تھا، جہاں متعدد بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی کی رپورٹس منظرعام پر آئی تھیں۔ ان رپورٹس کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جارہی تھی، اس کے علاوہ اس انسانیت سوز فعل کو مخصوص افراد کو بھاری قیمت کے عوض براہ راست بھی دکھایا جاتا تھا۔

یہ غلیظ کھیل کم و بیش 10 سال تک چلتا رہا۔ بچے بلیک میل ہوتے رہے، ان کے گھر والے رسوائی کے خوف سے خاموش رہے اور پولیس کا حال تو سب ہی جانتے ہیں! اب ان کے بارے میں کیا کہا جائے، ہمیشہ کی طرح ثبوت کی کمی کے بہانے ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔

جنوری 2018 میں قصور دوبارہ خبروں میں آیا، لیکن اس بار 7 سالہ زینب کی دل دہلا دینے والی کہانی کے ساتھ، جسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا۔

ستمبر 2018 میں قصور سے 120 کلومیڑ کے فاصلے پر ضلع اوکاڑہ میں بھی بچوں سے بد فعلی اور زیادتی کے واقعات اُس وقت سامنے آئے، جب زیادتی کے شکار ایک بچے کی ویڈیو وائرل ہونے پر اس کے خاندان والوں کو پتہ چلا کہ اس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ہوا کچھ یوں کہ ستمبر 2018 میں ایک بچہ اپنے گھر گیا اور رونے لگا۔ اس نے اپنے والد کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتایا، جس پر سمجھداری اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچے کے والد نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور بچے کا طبی معائنہ بھی کروایا، جس میں زیادتی ثابت ہوئی۔ ملزم پکڑا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ شخص کم از کم ایک اور کیس میں ملوث ہے جس کی چھان بین فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کررہی ہے۔

جیو پاکستان نے اپنے طور پر اس معاملے کی تحقیق کی، جس کے نتائج نہایت دل خراش ہیں۔ پولیس کے مطابق ضلع اوکاڑہ میں سال 2010 سے 2018 کے دوران سیکشن 377 کے تحت بد فعلی کے 432 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 432 میں سے 198 واقعات بچوں سے بد فعلی کے تھے جبکہ 40 زیادتی کے تھے اور ان کی کُل تعداد 238 بنتی ہے۔

نیلی لکیر پولیس جبکہ سرخ لکیر ساحل کے اعداد و شمار پر مبنی ہے—۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پولیس کے مطابق ان میں سے 45 کیسز کی فائل عدم ثبوتوں کی بناء پر بند کر دی گئی۔

ستمبر میں ہونے والے اس واقعے کی مزید تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ضلع اوکاڑہ کے چھوٹے سے علاقے رینالہ خورد میں ہوا تھا۔ لڑکے نے اپنے گھر والوں کو اپنے ساتھ یہ گھناؤنا فعل کرنے والے شخص کا نام بتایا۔ ملزم کا بھی تعلق رینالہ خورد سے ہے۔ اس بچے کے گھر والوں نے ہمت کر کے تھانے میں رپورٹ درج کروا دی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد لڑکے کا ڈی این اے کروایا گیا جس میں اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہو گئی۔

ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے لیکن علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ پہلے بھی کئی بچے بدفعلی کا شکار بن چکے ہیں تاہم دھونس دھمکیوں کی وجہ سے کوئی آواز اٹھانے کی جراۤت نہیں کرسکا۔

پنجاب کے کچھ علاقوں میں بچوں سے زیادتی کے اعداد و شمار

ایک غیر سرکاری تنظیم ‘ساحل’ کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2010ء سے 2017ء کے دوران ضلع اوکاڑہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے 961 واقعات ہوئے۔

دوسری طرف ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 2018 میں جنسی زیادتی کی ویڈیو بنانے کے صرف 3 کیسز آئے، جن پر کارروائی کرتے ہوئے 2017 میں سرگودھا سے سادات امین کو گرفتار کیا جس کے بعد اسے 7 سال کی سزا ہوچکی ہے۔

نیلی لکیر پولیس جبکہ سرخ لکیر ساحل کے اعداد و شمار پر مبنی ہے—۔

اپریل 2017 میں سادات امین کو 8 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو بدفعلی کی فلمبندی کے لیے ناروے لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان بچوں کی فلمیں وہ پہلے بھی اپنے کلائنٹ کو ناروے بھجواتا رہا تھا۔ ایف آئی اے نے ملزم کے پاس سے 65000 ویڈیو کلپس بھی برآمد کیے جن میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی تھی۔ یہاں آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ سرگودھا، اوکاڑہ سے 240 کلومیڑ کے فاصلے پر ہے۔

پنجاب کے اب ان چند اضلاع کے ایک دوسرے کے درمیان فاصلے اور رپورٹ ہونے والے کیسز کو دیکھا جائے تو ساحل کے مطابق 2010 سے 2017 کے درمیان اوکاڑہ سے 961 واقعات منظر عام پر آئے جبکہ ضلعی پولیس نے 2010 سے 2018 میں بچوں سے زیادتی اور بد فعلی کے 238 مقدمات درج کیے۔

اوکاڑہ سے 240 کلومیٹر دور سرگودھا میں ساحل کے اعداد و شمار تو نامکمل تھے لیکن ضلعی پولیس نے 275 مقدمات درج کیے جبکہ اوکاڑہ سے 80 کلومیٹر پر واقع پاکپتن میں ساحل نے 2010 سے 2017 تک 818 واقعات جبکہ ضلعی پولیس نے 104 واقعات کی رپورٹ درج کی۔

قصور، اوکاڑہ سے صرف 120 کلومیٹر دور ہے، اس ضلع میں ساحل کے مطابق 1412 واقعات ہوئے جبکہ پولیس نے 380 واقعات درج کیے۔

اوکاڑہ سے فیصل آباد 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، یہاں ساحل کے 2010 سے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق 938 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ پولیس نے 2017 سے 2018 کے دس ماہ کے دوران 293 مقدمات درج کیے۔ اوکاڑہ سے 129 کلومیٹر دور لاہور میں ساحل کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1970 واقعات منظر عام پر آئے جبکہ پولیس نے 1212 مقدمات کی رپورٹ درج کی۔

اوکاڑہ کے ڈی پی او کا کہنا ہے کہ کیسز کی تعداد زیادہ تو ہے مگر کسی گروہ کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے اور ابتدائی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب انفرادی واقعات ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوکاڑہ سے گرفتار ملزم کے خلاف ایف آئی اے کے پاس پہلے سے شکایت درج ہیں، جس کے تحت ملزم کے خلاف بچوں سے زیادتی کی ویڈیو بنانے کے مقدمہ میں تفتیش جاری ہے لہٰذا ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف علیحدہ ایف آئی آر درج کی ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پولیس اور ایف آئی اے ان جرائم سے ناواقف کیسے تھی؟ اگر یہ مان بھی لیا جائے تو اسے ان اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے۔ پولیس کا اصرار ہے کہ ان واقعات کا کسی منظم گروہ سے تعلق جوڑنا قبل از وقت ہے۔

دوسری طرف ڈی پی او اوکاڑہ اطہر اسماعیل کا کہنا ہے کہ پہلے ایسا سوچا جاتا تھا کہ لوگ خاندانی بدلے کے لیے اس طرح کے الزامات لگاتے تھے لیکن اب فارنزک ثبوت لیا جاتا ہے، جس میں سچ اور جھوٹ صاف پتا چل جاتا ہے۔

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت ایف آئی اے کے پاس شکایات درج ہوتی ہیں۔

بیشتر شکایات انٹرپول یا سفارت خانوں سے آتی ہیں۔ مثال کے طور پر سرگودھا کے سعادت امین کی اطلاع ناروے کے سفارت خانے نے ایف آئی اے کو دی، جس پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے ایکشن لیا۔

حال ہی میں کراچی میں ایف آئی اے نے چائلڈ پورنوگرافی کا پہلا مقدمہ درج کیا اور ملزم حمزہ کو گرفتار کیا۔ ملزم کے پاس سے پورنوگرافک تصاویر اور فلمیں بھی برآمد کی گئیں۔ ملزم حمزہ نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر گروپ بنائے ہوئے تھے جن پر یہ فلمیں اور تصاویر شیئر کی جاتی تھیں۔ ملزم بچوں کو بلیک میل کرکے پیسے بھی وصول کرتا تھا۔

ہمارے نمائندے نے اوکاڑہ میں ہونے والے واقعات کا شکار ایسے افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کی جنہوں نے پولیس میں مقدمہ درج کروایا، تاہم کوششوں کے بعد صرف تین خاندانوں سے رابطہ ہوسکا جبکہ دیگر متاثرہ خاندان اپنا گھر یا علاقہ ہی چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دو لڑکوں کو روزگار کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔

ایک متاثرہ بچے نے اسکول جانا چھوڑ دیا اور وہ بچہ جو کھیل کود میں بڑے شوق سے حصہ لیتا تھا، وہ اب اس خیال سے ہی کتراتا ہے۔

قصور میں دو کم عمر بچیوں کی فروخت

قصور کے علاقہ شریف پورا محلہ سے ایک اور افسوس ناک خبر نے بھی سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ پولیس کو قصور کے شریف پورا محلہ میں دو کم عمر بچیوں کی فروخت کی اطلاع ملی۔

یہ علاقہ پتوکی پولیس اسٹیشن سے صرف 2 کلومیٹر دورہے۔ پولیس نے شریف پورا محلہ میں چھاپہ مار کر گروہ کے دو کارندوں کو گرفتار کیا۔

ملزمان کے قبضے سے ساڑھے 3 سال اور 12 سال کی دو بچیوں کو بازیاب کروایا گیا جبکہ ملزمان کا ایک ساتھی تیسری بچی کو لے کر فرار ہوگیا۔

پولیس تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آیا کہ بچیوں کو عصمت فروشی کی نیت سے اغوا کرکے فروخت کردیا گیا۔ دوسری جانب علاقہ مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ یہاں یہ سب ہوتا رہا ہے، لیکن پولیس انجان بنی رہی۔

 

نوٹ: بدقسمتی سے بچوں سے زیادتی اور بدفعلی کے واقعات پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی پیش آتے ہیں، لیکن پنجاب میں اس طرح کے کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

’بلوچستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہو چکا، قابو پانے کیلئے جامعہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘

مستونگ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہو چکا ہے، اس مسئ…