بلاگ

خرچ بچانے کے لیے شادی کے ٹکٹ برائے فروخت

تاہم اب تین خواتین نے مل کر ایک ویب سائٹ تیار کی ہے، جہاں شادی کرنے والا جوڑا اپنی شادی کی تمام تقریبات کے ٹکٹ بیچ سکتا ہے اور غیر ملکی یہ ٹکٹ خريد كر شادی دیکھنے آ سکتے ہیں۔

’جوائن مائی ویڈنگ‘ نامی اس ویب سائٹ پر شادی کے ٹکٹ بیچنے والے سب سے پہلے جوڑے نمرتا اور نتن کے لیے یہ غیر ملکیوں سے رشتہ بنانے کا انوکھا طریقہ تھا۔

شادی کی تقریبات سے پہلے وہ ٹکٹ خريدنے والے کسی شخص سے نہیں ملے تھے اور صرف ای میل کے ذریعے ان سے رابطہ ہوا تھا۔

نمرتا نے مجھے بتایا، ’مجھے اور نتن کو جب اس ویب سائٹ کے بارے میں پتہ چلا تو ہم نے فورا فیصلہ کر لیا کہ اس کا حصہ بنیں گے لیکن خاندان کو سمجھانے میں وقت لگا۔‘

نمرتا اور نتن، دونوں کے گھر والوں کے ذہن میں یہی سوال تھا کہ اجنبی لوگوں کو اپنے اتنے اہم پروگراموں میں کیسے شامل کر لیں؟

نمرتا بھی ڈر رہی تھیں مگر ان کے لیے ان اجنبیوں پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔

بنگلورو میں ہونے والی اس شادی کی تین تقاریب تھیں جن میں سے پہلی مہندی اور سنگیت کی تقریب تھی۔

’میں جب وہاں پہنچی تو دیکھا کہ جہاں وہ کچھ کچھ گھبرائے ہوئے تھے وہیں کچھ ویسی ہی ہچکچاہٹ آنے والے غیر ملکی سیاحوں یا مہمانوں میں بھی تھی۔‘

آسٹریلیا کی روبيا براؤن اور سپین کی لےگاترے وہاں موجود کسی مہمان کو نہیں جانتی تھیں، لہٰذا وہ براہ راست نمرتا کے پاس ہی جا پہنچیں۔

لے نے کہا، ’کسی کے فنکشن میں ایسے شامل ہو جانا بدتميزي سی لگ رہی ہے، لیکن ہمارے لیے یہ بھارتی ثقافت کو بہتر طریقے سے جاننے کا اچھا طریقہ ہے۔‘

جیسا بھارتی شادیوں میں اکثر ہوتا ہے، روبيا اور لے کو بہت سی موسیقی اور رقص دیکھنے کو ملا۔

مہندی لگوانے اور کچھ مہمانوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے بعد، پوری تیاری کے ساتھ بھارتی لباس پہنے ہوئے یہ دونوں خواتین سب لوگوں میں اتنا گھل مل گئیں کہ آخر میں خود بھی ڈانس فلور پر تھركنے پہنچ گئیں۔

اگلے دن جب نیوزی لینڈ سے لیوک سنكلیئر اور آئرلینڈ سے جیمز ٹوہر اور نیو کیلی استقبالیہ پر پہنچے تو انھوں نے جینز، شرٹ اور سکرٹ ہی پہن رکھا تھا۔

تاہم مہمانوں کی تعداد ہی اتنی زیادہ تھی کہ اس ایک ہزار کی بھیڑ میں وہ گھل مل سے گئے۔

سیاحوں کی طرح خالی ہاتھ پہنچے جیمز کو سب سے پہلے ایک غلطی کا احساس ہوا اور بولے ’اب یہاں تھوڑا سا عجیب لگ رہا ہے۔ سب تحائف لے کر آئے ہیں اور ہم خالی ہاتھ۔ چلیے اب اپنی مسکراہٹ ہی تحفے کے طور پر بانٹ لیں گے۔‘

مگر دولہا دلہن سے ملاقات کے لیے بھی ایک لمبی قطار میں لگنا ضروری تھا اور قریباً 20 منٹ بعد باری آئی تو آخرکار نمرتا اور نتن سے ملاقات ہوئی۔

دو منٹ کی ملاقات، دعا، سلام، آپ کا شکریہ کہا، تصویر کے لیے مسکرائے اور بس سٹیج سے اتر گئے۔

جب استقبالیہ میں ایک ہزار لوگوں کے ساتھ تصویر كھنچواني ہو تو دو منٹ سے زیادہ وقت کہاں ہوتا ہے۔

غیر ملکی مہمان تیسرے دن یعنی شادی کے دن الگ تھلگ نہ محسوس کریں، اس کے لیے نمرتا اور نتن کے دوستوں نے ہی انھیں اپنے ہندوستانی لباس ایک دن کے لیے ادھار دے دیے۔

شادی کی پوجا اور باقی رسم و رواج انھیں سمجھ میں آئیں، اس کے لیے ہر وقت وہ دوست ان کے ساتھ بھی رہے۔

نمرتا نے بتایا، ’جوائن مائی ویڈنگ کا حصہ بننے کے لیے آپ تبھی سوچیں جب آپ کی مدد کرنے کے لیے دوست یا بھائی، بہن تیار ہوں، صرف ہمارے چاہنے سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہم تو سارا وقت سٹیج پر ہیں۔‘

تاہم کے دوستوں کی محنت رنگ لائی اور لیوک نے کہا، ’مجھے اس پورے تجربے میں یہاں کے لوگ سب سے زیادہ پسند آئے کیونکہ انھوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔‘

تو کیا وہ اپنے ملک واپس جا کر اپنی شادی پر انجان لوگوں کو ٹکٹ فروخت کر کے دعوت دیں گے؟

اس پر کسی نے بھی حامی نہیں بھری بلکہ لیوک نے کہا، ’ایک ہزار لوگوں میں تین اجنبی گھل مل جاتے ہیں مگر ہمارے یہاں تو شادی پر 100 لوگ ہی آتے ہیں، تو تھوڑا سا عجیب ہو سکتا ہے۔‘

اور نمرتا اور نتن کا کیا؟ انھیں اس پورے کام سے فائدہ ہوا؟ تجربہ تو ملا، مگر زیادہ پیسے نہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کے کھانے، ٹرین کے ٹکٹ اور مٹھائی وغیرہ کا خرچ نکال کر انھیں قریب 14،000 روپے ہی ملے۔

تاہم ویب سائٹ چلانے والوں کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ یہ منصوبہ جوڑوں کے پیسے کمانے اور اپنی شادی اور بہتر طریقے سے منعقد کرنے کا راستہ بن سکے گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close