More share buttons
Share with your friends










Submit
بلاگ

کیا دنیا 5079 میں ختم ہوجائے گی؟

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

پراسرار اور مخفی علوم کی نابینا ماہر بابا وینگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جنھوں نے ایک زمانے میں جو حیرت انگیز پیش گوئیاں کی تھیں، ان میں Brexit (برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی) کے بارے میں بھی پہلے سے بتادیا گیا تھا اور امریکا میں ٹوئن ٹاورز پر حملے کی پیش گوئی بھی کی گئی تھی جس کے ساتھ ساتھ ISIS کے عروج اور دوسرے تاریخی واقعات کے بارے میں بھی بہت پہلے سے بالکل صحیح صحیح بتادیا گیا تھا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ بابا وینگا کی امریکی ٹوئن ٹاورز پر حملے کی پیش گوئی بالکل ٹھیک نکلی اور یہ واقعہ عالمی دہشت گردی کا ایک اہم اور ناقابل فراموش واقعہ ثابت ہوا جس کے پوری دنیا پر ناقابل بیان اثرات مرتب ہوئے۔

بابا وینگا نامی اس بلغاروی خاتون کا 86 سال کی عمر میں جب انتقال ہوا تو اس سے پہلے ہی وہ یہ پیش گوئی بھی کرچکی تھیں کہ ہماری اس دنیا میں ہمیشہ کے لیے کیا کیا اہم اور ناقابل یقین تبدیلیاں آنے والی ہیں، ان میں ایک اہم تبدیلی 2164 کی بھی کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ بتایا تھا کہ اس زمانے میں جانوروں کی حالت اس حد تک بدل جائے گی کہ وہ آدھے انسان اور آدھے جانور بن جائیں گے۔ گویا انسان پورا انسان نہیں رہے گا اور وہ نصف جانور بن جائے گا۔ اس پیش گوئی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ بھی سچ ثابت ہوگی یا نہیں، کیوں کہ ابھی 2164 کے آنے میں بہت وقت باقی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بابا وینگا نے ایک اور حیرت انگیز پیش گوئی سنہ 2288  کے حوالے سے بھی کی تھی جس میں ان نابینا خاتون نے بتادیا تھا کہ اس دور میں ٹائم ٹریول یعنی ماضی اور مستقبل کے زمانوں میں انسان کا سفر ممکن اور آسان ہوجائے گا۔ یعنی ان کے کہنے کے مطابق انسان آنے والے وقت کے بارے میں پہلے سے جان لے گا اور پھر اس حوالے سے اس کی پیش بندی کے لیے اقدامات بھی کرلے گا۔ بلاشبہہ یہ دونوں پیش گوئیاں یعنی انسان کے آدھا انسان اور آدھا جانور بننے والی پیش گوئی اور ٹائم ٹریول والی پیش بینی دونوں ہی اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہیں اور اگر سچ ثابت ہوسکیں تو ان کے اس دنیا پر جو بھی اثرات مرتب ہوں گے، ان سے کسی بھی طرح آنکھیں بند نہیں کی جاسکیں گی۔

اور اب بابا وینگا کی ایک اور انوکھی مگر پریشان کن پیش گوئی بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں آنجہانی نابینا خاتون نے یہ بتایا تھا کہ ہماری اس ہری بھری انسانوں سے آباد دنیا کا مکمل خاتمہ کب ہوگا، یعنی ہمارا یہ کرۂ ارض کس دور میں ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجائے گا۔

اور بلاشبہہ یہ پیش گوئی قابل فکر بھی ہے اور قابل تشویش بھی، کیوں کہ اس پیش گوئی کا مطلب ہے، قیامت کی تاریخ کا اعلان! گویا بابا وینگا نے دنیا کے مکمل خاتمے کی پہلے سے پیش گوئی کردی تھی۔ کیا یہ پیش گوئی سچ ہوگی یا نہیں، اس کے بارے میں سائنس دانوں اور عالمی ماہرین نے ابھی تک کسی بھی حتمی خیال یا آراء کا اظہار نہیں کیا ہے، اس پر ہم بعد میں بات کریں گے، مگر فی الوقت ہم بابا وینگا کے حالات زندگی کے بارے میں بات کریں گے کہ قدرت نے ان خاتون کو یہ خوبی یا صلاحیت کیسے عطا کردی کہ انہوں نے برسوں پہلے سے ہی آنے والے حالات کے بارے میں اہل دنیا کو بتادیا۔

٭بابا وینگا کا ابتدائی زمانہ:

بابا وینگا نے اپنا ابتدائی دور یعنی اپنا بچپن بڑے مشکل حالات میں گزارا تھا، لیکن ہمیشہ صبر و ہمت سے کام لیا، کبھی اپنے کٹھن حالات کے باعث پریشان نہیں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ جب لڑکی تھیں، اس زمانے میں بھی انہوں نے کبھی اپنی زبان سے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں کی، انہوں نے اسی دور میں یہ کہا تھا کہ 5079 دنیا کے خاتمے کا آخری سال ہوگا، کیوں کہ اس سال میں دنیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجائے گی۔

لیکن ایک بات یہ بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ بابا وینگا نے مذکورہ پیش گوئی کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ سب کیسے اور کیوں ممکن ہوگا، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بابا وینگا کی 85 فی صد پیش گوئیاں بالکل درست ثابت ہوئیں اور اسی لیے انہیں اس حوالے سے دنیا بھر میں بہت شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور لوگ ان کی پیش گوئیوں کو آج بھی یعنی ان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی انہیں بہت اعتماد اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس سب کے علاوہ  بابا وینگا نے اگلے بارہ ماہ کے لیے کچھ ایسے حیرت انگیز واقعات کے بارے میں بھی پہلے سے بتادیا تھا جن کے باعث دنیا بھر میں بہت اہم تبدیلیاں رونما ہوسکتی تھیں جن میں ایک اہم بات انہوں نے یورپ میں معاشی و اقتصادی زوال کے بارے میں کی تھی اور دوسری بات یہ بھی بتائی تھی کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن پر قاتلانہ حملہ کیا جائے گا۔   بابا وینگا نے یہاں تک تو بتادیا تھا کہ ولادی میر پوتن پر حملہ کرنے والا ان کی اپنی سیکیوریٹی ٹیم کا ہی حصہ ہوگا، مگر یہ نہیں بتایا کہ اس حملے کا انجام کیا ہوگا، کیا پوتن اس حملے میں ہلاک ہوجائیں گے یا بچ جائیں گے۔

آنجہانی بابا وینگا کی ان پیش گوئیوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو عموماً اور عالمی راہ نماؤں کو خصوصاً پریشان کردیا ہے اور نہ جانے کتنے ہی لوگوں کو یہ سب پڑھ کر پسینہ آجائے گا، مگر یہ سب کی سب کس حد تک درست ثابت ہوں گی، ان کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کیوں کہ بابا وینگا اب اس دنیا میں نہیں رہیں جن سے ان باتوں کی تصدیق کروائی جاسکے۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بابا وینگا نے روس اور پوتن کی عالمی حکم رانی کے حوالے سے جو پیش گوئی کی تھی، وہ سبھی عالمی راہ نماؤں کے لیے باعث تشویش ہے۔ آخر بلغاروی نابینا بابا وینگا نے یہ پیش گوئی کیسے کردی تھی کہ ولادی میر پوتن پوری دنیا پر چھا جائیں گے اور ساری دنیا ان کے کنٹرول میں آجائے گی۔ کیا انہیں اس حوالے سے کسی عالمی سازش کا اندازہ تھا یا وہ پہلے سے عالمی جغرافیائی تبدیلیوں سے اس حد تک آگاہ تھیں کہ انہوں نے اتنی بڑی بات ایسے دھڑلے سے کہہ ڈالی تھی۔ بلغاروی نابینا خاتون نے اس واقعے کے بارے میں پہلے سے بتادیا تھا کہ یہ انوکھا اور حیرت انگیز واقعہ 2018 میں پیش آئے گا۔

٭بابا وینگا کو یہ خصوصیات کیسے ملیں؟

بابا وینگا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ بارہ سال کی تھیں تو وہ نابینا ہوگئیں جس کے بعد انہیں قدرت کی طرف سے پہلے سے مستقبل کے بارے میں جاننے کے بارے میں ایک انوکھا تحفہ ملا اور وہ آنے والے وقت کے حوالے سے پیش گوئیاں کرنے لگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک طوفان کے دوران تندوتیز ہواؤں کے تھپیڑوں نے انہیں غیرمحسوس انداز میں ہوا میں اٹھا کر ایک خالی میدان یا کھیت میں پھینک دیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب بابا وینگا کے حواس بحال ہوئے تو انہوں نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ انہیں نہ کھول سکیں، کیوں کہ ان کی آنکھیں دھول اور مٹی سے بھری ہوئی تھیں، وہ کوشش کے باوجود اپنی آنکھیں نہ کھول سکیں اور شدید تکلیف میں مبتلا ہوگئیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی آنکھوں کا بہت علاج کرایا اور ان کے تین آپریشن بھی کروائے مگر کوئی فرق نہیں پڑا اور ان کی بینائی ٹھیک نہ ہوسکی۔ اس کے بعد ان پر یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اندر مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں جاننے کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے اور وہ عالمی معاملات پر اپنے اس وجدان سے کام لیتے ہوئے پیش گوئیاں کرنے لگی ہیں۔

٭انہوں نے موت کو شکست دے دی:

بعد میں بابا وینگا نے 18 سال کی عمر میں اس وقت موت کو شکست دی جب وہ سینے کی جِھلّی میں سوزش کے مرض جسے pleurisy کہا جاتا ہے، اس مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے کو سانس اور پھیپھڑوں کی شدید تکلیف ہوجاتی ہے، اس موقع پر بابا وینگا کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ اب وہ بچ نہیں سکیں گی اور اسی بیماری کی شدت کے باعث وہ موت کا شکار ہوجائیں گی۔ لیکن خدا نے انہیں نئی زندگی دی، کیوں کہ بابا وینگا نے اپنی ہمت اور قوت ارادی سے موت کو شکست دے دی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اب آنجہانی بابا وینگا اس دنیا میں نہیں ہیں، اس کے باوجود ان کے پیروکاروں اور ان کے چاہنے والوں کی تعداد آج بھی لاکھوں کروڑوں تک پہنچی ہوئی ہے۔

٭وہ شروع سے صحت کے مسائل کا شکار رہیں:

بابا وینگا کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی ولادت قبل از وقت ہوگئی تھی، اسی لیے وہ شروع سے صحت کے بے شمار مسائل میں مبتلا رہیں، ان کی نشو ونما نہایت غربت کے عالم میں ہوئی تھی، انہی حالات میں جب ان کی سگی ماں اور سوتیلی ماں کا انتقال بھی ہوگیا تو انہیں اپنے بہن بھائیوں کی نگہ داشت اور دیکھ بھال بھی کرنی پڑی۔

اسی دوران ان کے سر پر ایک اور کڑی آزمائش بھی آگئی جب ان کے باپ کو پولیس نے بلغاریہ نواز سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ یہ ایک نہایت مشکل دور تھا، مگر انہوں نے ان حالات میں بھی اپنے آپ کو سنبھالے رکھا اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرتی رہیں۔

٭شروعات کیسے ہوئی؟

بابا وینگا نے اپنے اس پراسرار اور مخفی علم کا اظہار کیسے کیا، اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلے انہیں غیرمعمولی خواب دکھائی دیے جن میں وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتی تھیں، وہ انوکھی اور ناقابل یقین اور حیرت انگیز آوازیں بھی سنتی تھیں، وہ اپنے خوابوں میں دنیا سے چلے جانے والے لوگوں سے باتیں بھی کرتی تھیں اور پیڑ پودوں سے بھی گفت گو کرتی تھیں، ساتھ ہی انہیں انوکھے اور ناقابل یقین منظر بھی دکھائی دیتے تھے جس کے بعد یہ ہوا کہ وہ مستقبل کے بارے میں غیرمعمولی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی تھیں جو کافی حد تک درست اور سچ ثابت ہوتی تھیں۔ شروع میں تو لوگوں نے ان کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہ دی، مگر جب مستقبل کی پیش گوئیوں کے حوالے سے ان کی شہرت ساری دنیا میں پھیلتی چلی گئی اور اہل دنیا کو بابا وینگا کی اس پراسرار خوبی کا علم ہوا تو ان کے پاس آنے والے لوگوں کا تانتا بندھ گیا، کوئی ان کے پاس اپنی پراسرار بیماری کا علاج کرانے آرہا تھا اور کوئی ان سے اپنے مستقبل کے بارے میں جاننا اور پوچھنا چاہتا تھا۔

عام طور سے بابا وینگا اپنے ہاتھ میں شکر کی ایک کیوب پکڑ کر اس میں ایسے دیکھتی تھیں جیسے وہ کوئی آئینہ ہو اور اس میں دیکھ دیکھ کر پوچھنے والے کو اس کے ہر سوال کا جواب دے دیتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ بابا وینگا کسی بھی فرد کے بارے میں سب کچھ ایسے بتادیتی تھیں جیسے ان کے ذہن اور ان کے دماغ میں مذکورہ فرد کے بارے میں کوئی فلم چل رہی ہو جسے دیکھ دیکھ کر وہ سب کچھ بتارہی ہیں، ایسا لگتا تھا کہ قدرت ان کے دماغ میں پوچھنے والے فرد کی پیدائش سے موت تک پوری فلم چلادیتی تھی۔ان کی کچھ ایسی پیش گوئیاں ملاحظہ کیجیے جو پوری ہوچکی ہیں یا جو انھوں نے کی ہیں مگر حقیقت بن کر سامنے نہیں آئیں۔

٭ڈونلڈ ٹرمپ پُراسرار بیماری کا شکار ہوجائیں گے:

یہاں یہ بات ہمارے سبھی قارئین اور عالمی لیڈروں اور سائنس دانوں کے لیے بہت زیادہ حیرت کا باعث ہوگی کہ بابا وینگا نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ ایک انوکھی اور پراسرار بیماری کا شکار ہوکر شدید بیمار ہوجائیں گے جس کی وجہ وہ بہرے بھی ہوجائیں گے، ان کی قوت سماعت اس بری طرح متاثر ہوگی کہ وہ ایک ذہنی عارضے brain trauma میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یہ ایسی پیش گوئی ہے جس کے بارے میں حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ اور اخبارات لکھ رہے ہیں کہ امریکی صدر بعض اوقات کسی بھی ملک کے بارے میں جیسے جیسے اعلانات کرتے ہیں بعد میں وہ ان پر پچھتاتے ہیں اور پھر ان سے یو ٹرن بھی لے لیتے ہیں، جن میں پاکستان کے حوالے سے ان کا وہ بیان بھی شامل ہے جب انہوں نے پہلے پاکستان سے ہر قسم کے مالی تعاون سے انکار کردیا تھا اور بعد میں پاکستان کو اپنا سچا اور پکا دوست بتاتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات کے استحکام پر زور دیا تھا۔ٹرمپ اور پوتن کے بارے میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 2019 کا سال ٹرمپ اور پوتن دونوں کے لیے ہی نہایت شدید پریشانیوں اور مسائل کا سال ہوگا۔

٭دنیا کی منجمد برف پگھل جائے گی:

1979 میں بابا وینگا نے کہا تھا:’’سب کچھ پگھل جائے گا، ساری برف ختم ہوجائے گی صرف ایک چیز کا کچھ نہیں بگڑ سکے گا اور وہ ہے، ولادی میر پوتن کی شان، یعنی روس کی شان! روس کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ روس سب کو مٹادے گا، اور وہ خود سب کا مالک بن جائے گا۔‘‘

٭قطبین کا پگھلاؤ:

2033 سے2045 تک قطبین کی برفانی چوٹیاں پگھل جائیں گی جس کے بعد سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہوجائے گی۔ اس دوران مسلم یورپ پر حکم رانی کریں گے اور عالمی معیشت ترقی پاتی رہے گی۔

٭کلوننگ اکثر امراض ٹھیک کردے گی:

بابا وینگا نے عالمی صحت کے حوالے سے ایک اچھی پیش گوئی یہ کی تھی کہ آنے والا وقت کلوننگ کا ہوگا جب کلوننگ کے کام یاب استعمال کے باعث ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج میں کام یابی ملے گی ، کیوں کہ اس کی وجہ سے جسم کے اکثر اعضا کو آسانی اور سادگی سے بدلا جاسکے گا۔ اس ٹیکنیک کا کام یاب استعمال دنیا بھر کے لاکھوں بیمار انسانوں کے لیے بہت بڑی اور خوشی کی بات ہوگی۔

٭ایک اور اہم پیش گوئی:

بابا وینگا نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ جب ریاست ہائے متحدہ امریکا دنیا کے مختلف ملکوں پر ایک تباہ کن حملہ کرے گا تو اس وقت کلائمیٹ بیسڈ ایک اینٹی فریزنگ ہتھیار استعمال کیا جائے گا جو دنیا کو اس تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ 2072 اور 2086 کے درمیان طبقے سے محروم ایک ایسا کمیونسٹ معاشرہ فروغ پائے گا جو نئے قدرتی مریخی حملوں سے بچاؤ کے لیے ہر طرح کا تعاون کرے گا۔

2170 سے 2256 کے درمیان بہت کچھ وقوع پذیر ہوگا جن میں وہ مریخی کالونی بھی شامل ہوگی جو بعد میں نیوکلیئر پاور بن جائے گی اور وہ اس کے بعد کرۂ ارض سے آزادی کا مطالبہ بھی کردے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک زیر آب شہر کا قیام بھی عمل میں آئے گا اور ایلین لائف کی تلاش میں کچھ خوف ناک کھوج بھی کی جائے گی۔

٭ٹائم ٹریول کا خاتمہ:

2262 اور 2304 کے درمیان ہم ’’ٹائم ٹریول‘‘ کو توڑڈالیں گے، اسی دوران فرنچ گوریلے فرانس میں مسلم اتھارٹیز سے جنگ کریں گے۔ چاند کے سربستہ راز بے نقاب ہوں گے اور دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔2341  سے قدرتی اور انسان کے پیدا کردہ تباہ کن واقعات ہمارے کرۂ ارض کو اس حد تک تباہ و برباد کردیں گے کہ یہاں رہنا مشکل بلکہ ناممکن ہوجائے گا۔نسل انسانی یہ کرہ چھوڑ کر اور یہاں سے ہجرت کرکے ایک اور شمسی نظام کی طرف  چلی جائے گی، لیکن ذرائع وسائل کی قلت کے باعث جنگ اور لڑائیاں چھڑ جائیں گی۔

٭ نفرت ختم ہوجائے گی:

کرۂ ارض پر تو اب تہذیب و تمدن ختم ہوچکی ہے، انسان اب درندوں کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ ان کی قیادت و راہ نمائی کے لیے ایک نیا مذہب منظر عام پر آجائے گا جو انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لے جائے گا۔ 4302 سے4674 کے درمیان نفرت اور برائی کے تصورات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ انسان لافانی ہیں اور ایلینز کے ساتھ جذب ہوچکے ہیں۔ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے 340 ارب افراد خدا سے بات کرسکیں گے۔

٭ دنیا کا اختتام:

5079 میں پوری دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ یہ وہ نہایت پریشان کن پیش گوئی ہے جس کے بارے میں ابھی تک کسی کو بالکل یقین نہیں ہے، مگر بابا وینگا کے ماننے والوں کا خیال ہے کہ ان کی یہ بات بھی درست ثابت ہوگی اور 5079 دنیا کے اختتام کا سال ہوگا، کیا یہ ہوگا یا نہیں، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ یقینی طور پر آنے والا وقت ہی بابا وینگا کی بات کو صحیح یا غلط ثابت کرسکے گا اور اس کے لیے اہل دنیا کو 5079 کے سال کا انتظار کرنا ہوگا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے