More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلاگ

امریکہ عراق سے کیوں نہیں نکلتا؟

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

تحریر: سجاد مرادی

امریکہ نے اپنے فوجیوں کی کچھ تعداد شام سے نکال کر عراق کے صوبہ الانبار کے مغرب میں واقع عین الاسد فوجی اڈوں اور کردستان کے شہر اربیل منتقل کر دی ہے۔ اگرچہ مشرق وسطی خاص طور پر عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا مفروضہ قوت پکڑ چکا ہے لیکن امریکی صدر کی اخراجات اور فائدے پر مبنی پالیسی کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ خطے سے مکمل طور پر فوجی انخلاء کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ بعض مخصوص علاقوں سے نکلنا چاہتا ہے۔ یوں امریکی فوجی صرف اس صورت میں ایک علاقے سے نکالے جائیں گے جب وہاں ان کی موجودگی اسٹریٹجک مفادات کے حصول کا باعث نہ بن رہی ہو۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے سی بی ایس نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے ایران پر "شرارت” کا الزام عائد ہوتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کا ایک حصہ عراق میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس طرح ایران اور مشرق وسطی کے بحران زدہ علاقوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس بارے میں درج ذیل چند نکات اہمیت کے حامل ہیں:

1)۔ اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تمام جغرافیائی علاقے اور ممالک یکساں اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ عراق مختلف اقوام پر مشتمل ہونے اور جیوپولیٹیکل پوزیشن کے سبب چھوٹا مشرق وسطی یا مشرق وسطی کے دل کے نام سے معروف ہے لہذا واشنگٹن کیلئے انتہائی درجہ اہمیت کا حامل ملک ہے۔ اس اہمیت کی ایک وجہ ایران کو کنٹرول کرنا بھی ہے۔ امریکہ نے گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ایران کی سرحد کے اردگرد مختلف فوجی اڈے قائم کر کے تہران کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے۔ عراق کے ساتھ ایران کی مشترکہ سرحد کی لمبائی تقریباً 1600 کلومیٹر ہے۔ یاد رہے ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکہ کی براہ راست موجودگی 2008ء میں منعقد ہونے والے واشنگٹن – بغداد سیکورٹی معاہدے کے سائے میں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے انجام پا رہی ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطی کی علاقائی سکیورٹی کے دائرے میں ایران بھی خاص خطرات، مواقع اور وسائل سے برخوردار ہے۔ ان میں سے ایک بڑا خطرہ امریکہ کی موجودگی کے باعث خطے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام ہے۔

ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ نے عراق جیسے کمزور سماجی، سیاسی اور سکیورٹی سیٹ اپ کے حامل جس ملک میں بھی قدم رکھا ہے وہاں قومی اور فرقہ وارانہ اختلافات میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں داعش جیسے شدت پسندانہ گروہ معرض وجود میں آئے ہیں۔ فروری 2014ء میں امریکی جنگی ہیلی کاپٹرز، ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر بھاری فوجی سازوسامان تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ہاتھ لگ گیا جبکہ امریکہ کی فوجی حکمت عملی کے تحت اگر دوست ملک کی جانب سے فوجی سازوسامان کی حفاظت ممکن نہ ہو تو اسے تباہ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ امریکی ایئرفورس نے آسمان سے داعش کے علاقوں میں اسلحہ پھینکا ہے۔ داعش کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی کی ایک بڑی وجہ یہی اقدامات ہیں۔ اس بارے میں شام کیلئے اقوام متحدہ کے سابق نمائندے اخصر ابراہیمی کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے معرض وجود میں آنے کی اصل وجہ عراق پر امریکی حملہ ہے۔ انہوں نے اس امریکی اقدام کو ایک بڑی غلطی قرار دیا جس کے باعث عراق میں دھڑے بندی اور تفرقہ پیدا ہوا ہے۔

مذکورہ بالا خطرات کے پیش نظر ایران اپنے اردگرد جاری سکیورٹی ایشوز میں بھرپور انداز میں سرگرم ہو کر ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اسی طرح خطے میں ایران کی سرگرمیاں جارحانہ نہ ہونے اور دفاع پر مبنی ہونے کی بھی یہی وجہ ہے۔ لہذا جس قدر امریکہ کی جانب سے درپیش خطرات کی شدت بڑھتی جاتی ہے ایران بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیتا ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد خود کو درپیش خطرات سے محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ لہذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو کنٹرول کرنے کا مطلب ایران کی علاقائی حدود میں امریکہ کی فوجی موجودگی میں اضافہ ہے۔ امریکی حکام اس حقیقت کو بگاڑ کر پیش کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ خطے میں ان کی فوجی موجودگی کا مقصد ایران کی جارحانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنا اور ایران کو خطے پر قابض ہونے سے روکنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں ان کی فوجی موجودگی ایران کیلئے خطرات پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے اور ایران ان خطرات سے بچنے کیلئے اور ان کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنے کیلئے علاقائی سطح پر ضروری اقدامات انجام دیتا ہے۔

2)۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ مختصر مدت میں امریکہ کی جانب سے مشرق وسطی خطے سے مکمل طور پر فوجی انخلا کا امکان نہیں پایا جاتا۔ اگرچہ ایران کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ امریکہ کی مشرق وسطی سے متعلق پالیسی کا اہم رکن ہے لیکن اگر اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک جیسے سعودی عرب وغیرہ ایسی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ امریکہ کی براہ راست مدد کے بغیر خاص طور پر سکیورٹی امور میں کوئی موثر کردار ادا کر سکیں۔ مزید برآں، روس شام کے سکیورٹی بحران پر کامیابی سے قابو پانے کے بعد ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ خطے سے امریکی فوجی انخلا کے بعد پیدا ہونے والا خلا کو پر کر سکے۔ اگرچہ امریکہ عراق سے امریکی فوجیوں کے عدم انخلا کی وجہ ایران کو کنٹرول کرنا ظاہر کر رہا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ ماضی میں انجام پانے والے اپنے اقدامات کا جواب دے۔ درحقیقت ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو کنٹرول کرنے کی ضرورت بیان کر کے عالمی رائے عامہ کی توجہ اصل حقائق سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں جبکہ عالمی رائے عامہ امریکہ سے اب تک انجام پانے والے اقدامات کی وجہ جاننا چاہتی ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے