More share buttons
Share with your friends










Submit
بلاگ

مغربی عراق میں امریکہ نئے دہشتگرد گروہوں کی تشکیل میں مصروف

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

تحریر: علی احمدی

مغربی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس گردش کر رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ داعش سے وابستہ سینکڑوں تکفیری دہشت گرد عناصر کروڑوں ڈالر کے ہمراہ عراق کے مغربی حصوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ نے عراق میں عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے خلاف بھی وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ مہم اور فوجی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ عراق کے سیاسی اور فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ مغربی عراق میں نئی نسل کے دہشت گرد گروہ تیار کرنے میں مصروف ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں عنقریب تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے مکمل خاتمے کی خبر دیتے ہوئے ایک اعلی سطحی امریکی فوجی کمانڈر کے بقول اعلان کیا ہے کہ داعش سے وابستہ سینکڑوں دہشت گرد 200 ملین ڈالر کے ہمراہ عراق کے مغربی علاقوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ آگاہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش سے وابستہ دہشت گرد ایسے وقت عراق کا رخ کر رہے ہیں جب شام میں ان کے آخری ٹھکانے بھی یکے بعد از دیگرے نابود ہوتے جا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ عراق آنے والے داعش کے دہشت گردوں میں بڑی تعداد عراق میں سرگرم القاعدہ کمانڈرز کی بھی ہے۔ اسی طرح بعض باخبر ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ یہ دہشت گرد امریکی فوجیوں سے رابطے میں ہیں اور انہیں امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے عراق میں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ ان کے پاس شام سے چوری کیا گیا بڑی مقدار میں سونا بھی موجود ہے۔ شام کے خبررساں ادارے "سانا” کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹرز نے شام کے جنوب میں واقع صوبہ حسکہ کے علاقے الدشیشہ میں بڑی تعداد میں داعش سے وابستہ دہشت گردوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں نے الدشیشہ میں بڑی مقدار میں سونا جمع کر رکھا تھا جو شامی عوام سے لوٹا گیا تھا۔ اسی طرح ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ داعش نے عراق کے شہر موصل اور شام کے دیگر علاقوں سے 40 ٹن سونا الدشیشہ منتقل کیا تھا۔

دوسری طرف عراقی پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاعی کمیٹی کے رکن علی جبار نے کہا ہے کہ امریکی فوجی کمانڈر عراق کے صوبوں الانبار، نینوا اور صلاح الدین سے عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کو باہر نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "عراق کے صوبے الانبار میں واقع امریکی فوجی اڈے "عین الاسد” اور عراق کے دیگر مغربی صوبوں میں موجود امریکی کمانڈرز حشد الشعبی کو ان عراقی صوبوں سے باہر نکال دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔” علی جبار نے کہا کہ امریکی فوجی حشد الشعبی سے خوفزدہ ہیں اور انہیں اپنی موجودگی کے علاقوں یعنی الانبار، نینوا اور صلاح الدین کے صوبوں سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح عراق کے سکیورٹی تجزیہ کار کاظم الحاج نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ اپنے ایجنٹس کے ذریعے عراقی سکیورٹی عہدیداروں، حشد الشعبی اور مغربی عراق خاص طور پر صوبہ نینوا میں موجود بعض اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "امریکہ عراق میں اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے داعش سے ہٹ کر دیگر مسلح گروہ تشکیل دینے کا منصوبہ رکھتا ہے۔”

عراق کے ایک اور سکیورٹی امور کے ماہر عباس العرداوی نے بھی کہا ہے کہ امریکہ عراق کے صوبوں الانبار، نینوا اور الجزیرہ (الانبار اور صلاح الدین صوبوں کے درمیان واقع علاقہ) میں نئی نسل کے دہشت گرد گروہ تشکیل دینا چاہتا ہے تاکہ ان علاقوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھا سکے۔ عباس العرداوی نے کہا: "اس امریکی سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے مذکورہ بالا علاقوں میں عراقی سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی اور عراقی قبیلوں کے سربراہوں کو اس سازش میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر راضی کرنے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے نیوز ویب سائٹ المعلومہ سے بات چیت کرتے ہوئے مزید کہا: "امریکہ نے القاعدہ اور داعش کے بعد عراق میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے اندر نئے ناموں سے جدید دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کی کوشش کی تھی اور آج بھی ان علاقوں میں نئی نسل کے دہشت گرد گروہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جن پر وہ قبضہ جمانا چاہتا ہے۔”

نوٹ: ادارہ کا مقالہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے