Featuredبلاگ

پیاس کربلا و روز عاشور

سلام یا سید الشہداء علیہ السلام

واقعہ کربلا تمام مسلمانوں کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔

تحریر۔نازیہ علی ” پاکستان کی بیٹی”

واقعہ کربلا محرم الحرام سنہ 61 ہجری کو عراق کے مقام کربلا میں پیش آنے والے اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں 7 محرم الحرام کو امام حسین علیہ السلام کے قافلے پر پانی بند کر کے دس محرم روز عاشور کو یزیدی فوج نے بے رحمی سے بھوک اور پیاس کے عالم میں امام حسین علیہ السلام اصحاب علیہ السلام اور اولاد حسین علیہ السلام کو شہید کیا۔

کربلا کے پیاسے شہیدوں کی یاد آج بھی یہ دن تمام مسلمانوں کے دل میں زندہ ہے یزید سے بیعت نہ کرنے کی امام حسین علیہ السلام کی اسلام کی زندہ رکھنے کی یہ عظیم اور لازوال قربانی ہے۔

واقعہ کربلا تمام مسلمانوں فقہ اہل تشیع اور فقہ اہل اہلسنت کے نزدیک تاریخ اسلام کا دلخراش ترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔ اہل تشیع حضرات اس دن وسیع پیمانے پر عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں اور یکم محرم الحرام سے 8 ربیع الاول تک مجالس و جلوس کا سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ اہلسنت حضرات بھی ماہ محرم میں نذر و نیاز کا خاص اہتمام کرتے ہیں ۔

نواسہ رسول خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسین ابن علی علیہ السلام فقہ اہل تشیع کے تیسرے امام ہیں جبکہ فقہ اہل سنت خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لاڈلے نواسے اور جنت کے سردار ہونے کی وجہ سے امام حسین علیہ السلام سے پیار اور انسیت کا اظہار کرتے ہیں امام حسین علیہ السلام دس سال منصب امامت پر فائز رہے اور واقعہ عاشورا میں شہید ہوئے۔
آپ امام علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام علیہا کے دوسرے بیٹے اور پیغمبر اکرم خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لاڈلے نواسے ہیں۔
اہل تشیع اور اہل سنت تاریخی مصادر کے مطابق خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے وقت آپ علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی اور آپ کا نام حسین علیہ السلام رکھا۔
امام حسین علیہ السلام اصحاب کساء میں سے ہیں، مباہلہ میں بھی حاضر تھے اور اہل بیتِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک بھی ہیں جن کی شان میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی فضیلت میں خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت ساری روایات بھی نقل ہوئی ہیں انہی میں سے یہ روایات بھی ہیں۔

حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جنت کے جوانوں کے سردار ہیں نیز حسین علیہ السلام چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہے۔
خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سے امام علی علیہ السلام کے دور حکومت تک کے تیس سالوں میں آپ کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔ آپ امیرالمؤمنین مولا علی علیہ السلام کی خلافت کے دوران ان کے ساتھ تھے اور اس دور کی جنگوں میں شرکت کی اور امام حسن علیہ السلام کی امامت کے دوران آپ علیہ السلام ان کے دست و بازو بنے۔
واقعہ کربلا کی اگر بات کی جائے تو اکثر تاریخی مصادر میں آیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب 2 محرم سنہ61 ہجری کو کربلا کی سر زمین پر پہنچے ہیں۔تاہم دینوری نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی آمد کی تاریخ کو یکم محرم الحرام قرار دیا ہے۔ اور اس قول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتاجب حر نے امام علیہ السلام سے کہا: "یہیں اتریں کیونکہ فرات قریب ہے۔

” امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس جگہ کا نام کیا ہے؟”۔سب نے کہا: كربلا۔

فرمایا: یہ كَرْب (رنج) اور بَلا کا مقام ہے۔ میرے والد صفین کی طرف جاتے ہوئے یہیں اترے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ رک گئے اور اس کا نام پوچھا۔ تو لوگوں نے اس کا نام بتا دیا اس وقت آپ نے فرمایا: "یہاں ان کی سواریاں اترنے کا مقام ہے، اور یہاں ان کا خون بہنے کا مقام ہے”، لوگوں نے حقیقت حال کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:”خاندان خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک قافلہ یہاں اترے گا”۔امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: یہ ہماری سواریاں اور ساز و سامان اتارنے کی جگہ ہے اور یہاں ہمارا خون بہنے کا مقام ہے۔اور اس کے بعد حکم دیا کہ ساز و سامان یہیں اتار دیا جائے اور ایسا ہی کیا گیا اور وہ پنج شنبہ جمعرات دو محرم کا دن تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق یہ چہارشنبہ (بدھ) یکم محرم سنہ 61 کا دن تھا۔

منقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسین علیہ السلام نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی اور روئے اور

فرمایا:”اللهم انا عترة نبيك محمد، وقد اخرجنا وطردنا، وازعجنا عن حرم جدنا، وتعدت بنو امية علينا، اللهم فخذ لنا بحقنا، وانصرنا على القوم الظالمين”۔
ترجمہ: خداوندا! ہم تیرے نبی خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے شہر و دیار سے نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہ خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور بار خدایا! بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما”۔
اس کے بعد آپ نے اصحاب علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور فرمایا:” ان الناس عبيد الدنيا، والدين لعق على السنتهم، يحوطونه ما درت معايشهم، فإذا محصوا بالبلاء قل الديانون”۔ ترجمہ: لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں اس کے بعد امام علیہ السلام نے سرزمین کربلا کو ـ جس کا رقبہ 4×4 میل تھاـ نینوی’ اور غاضریہ کے باشندوں سے 60000 درہم کے عوض خرید لیا۔ اور ان پر شرط رکھی کہ آپ ع کی قبر کی طرف لوگوں کی راہنمائی کریں گے اور تین دن تک ان کی پذیرائی اور ضیافت کا اہتمام کریں گے۔

دو محرم سنہ 61 ہجری کو امام حسین علیہ السلام اور اصحاب کے سرزمین کربلا پر اترنے کے بعد،حر بن يزيد ریاحی نے ایک خط عبید اللہ بن زیاد کے لئے لکھا اور اس کو اس امر کی اطلاع دی۔ حر کا خط ملتے ہی عبید اللہ نے ایک خط امام حسین علیہ السلام کے نام بھیجا جس میں اس نے لکھا تھا:”امّا بعد، اے حسین علیہ السلام! کربلا میں تمہارے پڑاؤ ڈالنے کی خبر ملی؛ یزید نے مجھے حکم دیا ہے کہ چین سے نہ سوؤں اور پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاؤں حتی کہ تمہیں خدائے دانائے لطیف سے ملحق قتل کروں یا پھر تمہیں اپنے حکم اور یزید کے حکم کی تعمیل پر آمادہ کروں!۔ والسلام”۔
مروی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے پڑھنے کے بعد خط کو ایک طرف پھینک دیا اور فرمایا:”جن لوگوں نے اپنی رضا اور خوشنودی کو خدا کی رضا اور خوشنودی پر مقدم رکھا وہ ہرگز فلاح نہ پاسکیں گے”۔ ابن زیاد کے قاصد نے کہا: "یا ابا عبداللہ! آپ خط کا جواب نہیں دیں گے؟ فرمایا: "اس خط کا جواب اللہ کا دردناک عذاب ہے جو بہت جلد اس کو اپنی لپیٹ میں لے گا”۔قاصد ابن زیاد واپس چلا گیا اور امام حسین علیہ السلام کا کلام اس کے سامنے دہرایا اور عبید اللہ نے امام علیہ السلام کے خلاف جنگ کے لئے لشکر تشکیل دینے کا حکم دیا۔
کربلا کے مظلوموں کی داستان خاصی طویل ہے مختصرا” شب عاشور کی طرف بڑھتے ہیں۔
امام حسین علیہ السلام نے دس محرم الحرام شب عاشور کی رات کے ابتدائی حصے میں اپنے اصحاب علیہ السلام کو جمع کیا اور اللہ تعالی’ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا:میرے خیال میں یہ آخری رات ہے جو دشمن کی طرف سے ہمیں مہلت دی گئی ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میں نے تمہیں جانے کی اجازت دے دی ہے۔ پس سب کے سب مطمئن ہو کر یہاں سے چلے جائیں کیونکہ میں نے تمہاری گردن سے میری بیعت اٹھا لی ہے۔ اب جبکہ رات کی تاریکی چھا گئی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر سب چلے جائیں۔

اس موقع پر سب سے پہلے آپ کے اہل بیت پھر آپ کے اصحاب علیہ السلام نے پرجوش انداز میں امام علیہ السلام کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا اور اپنی جانوں کو آپ پر قربان کرنے اور آپ سے دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاریخی مصادر میں اس گفتگو کے بعض حصوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔آدھی رات کو ابو عبداللہ الحسین علیہ السلام اطراف میں واقع پہاڑیوں اور دروں کا معائنہ کرنے کے لئے باہر نکلے تو نافع بن ہلال جملی کو معلوم ہوا اور امامؑ کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔خیام کے اطراف کا معائنہ کرنے کے بعد امام حسین علیہ السلام بہن شہزادی زینب کبری سلام علیہا کے خیمے میں داخل ہوئے۔ نافع بن ہلال خیمے کے باہر منتظر بیٹھے تھے اور سن رہے تھے کہ زینب سلام علیہا نے بھائی حسین علیہ السلام سے عرض کیا:کیا آپ نے اپنے اصحاب علیہ السلام کو آزمایا ہے؟ مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ بھی ہم سے منہ پھیر لیں اور جنگ کے دوران آپ کو دشمن کے حوالے کر دیں”۔امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں نے انہیں آزما لیا ہے اور انہیں سینہ سپر ہو کر جنگ کیلئے اس طرح آمادہ پایا ہے کہ گویا یہ لوگ میری رکاب میں جنگ کرنے کو شیرخوار بچے کی اپنی ماں کے ساتھ رکھنے والی انسیت کی طرح انس رکھتے ہیں۔
نافع نے جب محسوس کیا کہ اہل بیتِ امام حسین علیہ السلام آپ کے اصحاب علیہ السلام کی وفاداری کے سلسلے میں فکرمند ہیں چنانچہ وہ حبیب بن مظاہر اسدی سے مشورہ کرنے گئے اور دونوں نے آپس کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ دوسرے اصحاب علیہ السلام کے ساتھ مل کر امام علیہ السلام کے اہل بیتِ علیہ السلام کو یقین دلائیں کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک امام حسین علیہ السلام کا دفاع کریں گے۔حبیب بن مظاہر نے اصحاب امام حسین علیہ السلام کو بلایا، بنی ہاشم کو خیموں میں واپس بھیج دیا پھر اصحاب علیہ السلام سے مخاطب ہو کر جو کچھ نافع نے امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے سنا تھا، کو دھرایا۔تمام اصحاب نے کہا: "اس اللہ کی قسم جس نے ہمارے اوپر احسان کر کے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے، اگر امام حسین علیہ السلام کے حکم کے انتظار میں نہ ہوتا تو ابھی ان دشمنوں پر حملہ کرتے اور اپنے جانوں کو امام علیہ السلام پر قربان کرنے کے ذریعے پاک اور اپنی آنکھوں کو بہشت کی دیدار سے منور کرتے۔”حبیب ابن مظاہر دوسرے اصحاب علیہ السلام کے ہمراہ ننگی تلواروں کے ساتھ حرم اہل بیت علیہ السلام کے قریب گئے اور بلند آواز سے کہا: "اے حریم رسول خدا خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کے جوانوں اور جوان مردوں کی شمشیریں ہیں جو کبھی بھی نیام میں واپس نہ جائيں یہاں تک کہ آپ کے بدخواہوں کی گردنوں پر اتر آئیں؛ یہ آپ کے فرزندوں کے نیزے ہیں اور انھوں نے قسم اٹھا رکھی ہیں انہیں صرف اور صرف ان لوگوں کے سینوں میں گھونپ دیں جنہوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت سے روگردانی کی ہیں۔روز عاشور محرم کے دسویں دن حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام اور عمر سعد کے لشکروں کا آمنا سامنا تھا۔ ابو مخنف کے مطابق امام حسین علیہ السلام کی فوج کی تعداد 32 گھڑ سوار اور 40 پیادہ تھا اور امام محمد باقر علیہ السلام کے مطابق پینتالیس گھڑسوار اور ایک سو پیادہ تھے۔ اس کے سامنے عمر بن سعد کی فوج تھی جس میں 30،000 کے قریب جوان تھے۔ جنگ شروع ہوئی اور حسین علیہ السلام اور انکے ساتھی شہید ہو گئے۔ حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد، عمر بن سعد کی فوج نے حسین علیہ السلام کی فوج کے 72 ارکان کے سروں کو نیزوں پر بلند کیا اور اجسام پر گھوڑے دوڑائے۔جنگ کی وجہ یہ تھی کہ حسین علیہ الحسن ابن علی علیہ السلام نے یزید کی بیعت نہیں کی۔ حسین ابن علی علیہ السلام ، یزید کی حکمرانی کو غیر قانونی، ناجائز اور غیر شرعی سمجھتے تھے اور امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ہمراہ واقعہ کربلا میں شہادت نوش کرتے ہوئے حق اور باطل کا فرق بتایا امام علیہ السلام نے ظلم کے سامنے نہ جھکنے اور ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کا پیغام دیا
دس محرم الحرام یوم عاشورا کا دن ہر سال ہمیں واقعہ کربلا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ انسانیت کا درس دیتا ہے۔
برائی اور اچھائی کا فرق صرف امام حسین علیہ السلام کی اس عظیم قربانی سے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ یزید تھا اور امام حسین علیہ السلام ہیں۔

 

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close