More share buttons
Share with your friends










Submit
بلاگ

عادی سازی با اسرائیل، اتحاد امت کے خلاف سازش

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

عادی سازی با اسرائیل یعنی سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا یا پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ۔

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

ریاستی سطح پر ان تعلقات کو سفارتی تعلقات کہا جاتا ہے کہ جس کے بعد آپس میں تجارت اور دفاع سمیت متعدد ریاست کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون اور امداد کا سلسلہ شروع ہو جاتاہے ۔

یہاں یقینا نوجوانوں کے اذہان میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہو گا کہ آخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات یا عادی سازی کی اس قدر مخالفت کیوں کی جاتی ہے ;238; اس سوال کا سب سے آسان جواب یہ ہے کہ ہ میں یہ بات جان لینی چاہئیے کہ حقیقت میں اسرائیل کیا ہے ;238; اسرائیل ایک ایسی ناجائز ریاست کا نام ہے جو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین پر سنہ1948ء میں غاصبانہ تسلط حاصل کر کے امریکی و برطانوی آشیر باد کت ذریعہ مسلط ہوئی ہے ۔ اسرائیل ایک ایسی ریاست کا نام ہر گز نہیں کہ جسے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تشبیہ دیا جا سکے ۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرنے کی بات اس لئے بھی زیادہ کی جاتی ہے کہ ایک ایسی ناجائز ریاست جس کا وجود ہی غاصبانہ ہے اور اپنے قیام کے روز اول سے ہی نہ صرف فلسطین کے عوام کا قتل عام کرنے میں مصروف عمل ہے بلکہ فلسطین کے باہر کئی ایک ممالک میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں براہ راست ملوث ہے ۔ کیونکہ اسرائیل کے بانیان کا یہ خواب ہے کہ وہ ایک عظیم تر اسرائیل قائم کریں کہ جس کی سرحدیں نیل سے فرات تک ہوں ۔ اس کے لئے بنائے جانے والے نقشوں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ بہر حال سادہ سا جواب یہ ہے کہ کیا کسی چور اور ڈاکو کہ جو آپ کے بھائی کے گھر میں زبردستی گھس گیا ہواور آپ کے بھائی اور ان کے تمام اہل وعیال کو نکال باہر کیا ہوتو کیا اس چور اور ڈاکو کے ساتھ آپ دوستانہ تعلقات بنا زندگی گزارنا پسندکریں گے;238; یہی چور اور ڈاکو اسرائیل ہے جو ہمارے بھائیوں یعنی فلسطینیوں کے گھر میں گھس چکا ہے اور انہیں نکال باہر کیا ہے ۔ لہذا اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور سفارتی تعلقات کا مطلب یہ ہو اکہ اسرائیل کے تمام غلط اور مجرمانہ اقدامات کو بھی تسلیم کیاگیا ہے ۔

مسئلہ فلسطین ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے کہ جو دنیا میں سب سے اولین درجہ کی اہمیت رکھتا ہے ۔ فلسطین کے عوام کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مشترکہ طور پر نا انصافی کی ہے ۔ ان کی زمینوں پر اسرائیل کو قابض کیا گیا ہے ۔ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا ہے ۔ سب سے بڑھ پر مسلمانوں کا قبلہ اول جو مسلم امہ کے مابین اتحاد کی علامت سمجھا جاتا ہے آج بھی صہیونیوں کی بدترین سازشوں کا نشانہ بن رہا ہے ۔ قبلہ اول بیت المقدس وہ مقام ہے کہ جہاں شب معراج پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی (ص) مسجد الحرام سے یہاں تشریف لائے تھے اور یہاں اس مقام پر آپ (ص) نے انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی ۔ اب آئے روز صہیونی قبلہ اول کا تقدس پائمال کر رہے ہیں ۔ شعائر اللہ کو نقصان پہنچایا جا رہاہے ۔ انبیاء علیہم السلام کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جا رہی ہے ۔ فلسطینی عوام کو بے دردی سے قتل و غارت کا نشانہ بنانے کا عمل گذشتہ ایک سو سالوں سے جاری ہے ۔ کئی ایک جنگیں مسلط کی گئی ہیں ۔ اسرائیل نے پڑوسی ممالک کی زمینوں پر بھی غاصبانہ تسلط قائم کر لیا ہے ۔ داعش جیسے فتنہ کو اسرائیل ہی نے جنم دیا تا کہ خطے کو آگ وخون میں غلطاں کر کے اپنے ناپاک عزائم حاصل کرے ۔ ان تمام تر معاملات اور وجوہات کے باوجود دنیا بھر کے مسلمانوں کے مابین مسجد اقصی ٰ یعنی قبلہ اول بیت المقدس اور فلسطین باہمی اتحاد و یکجہتی کا مظہر رہا ہے ۔ دنیا میں چاہے مسلمانوں میں آپس کے کچھ بھی اختلافات موجود ہوں لیکن جب بھی بات انبیاء علیہم السلام کی مقدس سرزمین فلسطین کی ہو یاقبلہ اول بیت المقدس کی بات ہو تو مسلم امہ کے عوام متحد اور یکجا نظر آتے ہیں ۔ اس کی کئی ایک مثالیں دنیا کے ممالک میں موجود ہیں کہ فلسطین و القدس کے پرچم تلے مسلمان اقوام آپس میں متحد و یکجا نظر آتی ہیں ۔ اس قسم کے مشاہدات موجودہ دور میں ہ میں خود پاکستان کی سرزمین پر بھی مشاہدے میں آئے ہیں ۔

عالمی استعمار اور اس کے شیطانی چیلے چاہے وہ براہ راست اسرائیل کی صورت میں ہوں یا یورپی ومغربی سامراج کی صورت میں ہوں ، مسلم امہ کے مابین مسئلہ فلسطین سے متعلق پائے جانے والے اتفاق اور اتحاد سے خاءف رہتے ہیں ۔ کیونکہ مسلمان اقوام کا اتحاد اور وحدت ہی ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جو دنیا کی ظالم و استکباری قوتوں کی ناک کو زمین پر رگڑ رہا ہے ۔ اسلام ومسلمین کے دشمنوں نے گذشتہ چند سالوں میں متعدد مرتبہ جنگ کے میدانوں میں شکست کھانے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد اور وحدت کو پارہ پارہ کیا جائے تو کہ مغربی استعمار غاصب اسرائیل کے تحفظ سے متعلق کئے گئے وعدوں کو یقینی بنانے کے لئے اسرائیل کو یقین دلوا سکے ۔

یوں تو اسلام و مسلمین کے دشمنوں نے ماضی میں فرقہ واریت، لسانیت اور نہ جانے کس کس طرح کے نعروں کو ایجاد کر کے خرافات کے مسلمان اقوام کو تقسیم در تقسیم کرنے کی ناکام کوششیں کی ہیں لیکن حالیہ دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکی و برطانوی استعمار اور ان کے دم چھلوں نے باقاعدہ مسلم اقوام کے مابین خلیج جنم دینے کے لئے جس ہتھیار کا استعمال کیا ہے وہ عادی سازی با اسرائیل کا ہتھیار ہے ۔ یعنی مسلم دنیا کی ان چند حکومتوں اور حکمرانوں کو کہ جو پہلے ہی مغرب زدہ ہو چکے ہیں اور مسلم امہ کی صفوں میں غدارتصور کئے جاتے ہیں ۔ ان ہی کے ذریعہ مسلم امہ کے قلب میں ایک اور خنجر گھونپنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ یعنی چند عرب مسلم حکمرانوں کے ذریعہ صہیونیوں کی غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلانات اور پھر اسرائیل کے ساتھ سفارتکاری جیسے معاملات کے آغاز کے ذریعہ وہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ فلسطین سے متعلق مسلم دنیا کی ایک آواز کو تقسیم کر دیا جائے تا کہ ایک طرف فلسطین کاز کمزور ہو جائے تو دوسری طرف عالمی استعماری قوتوں کا اسرائیل کے تحفظ سے متعلق کیا جانے والا وعدہ بھی یقینی ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا کے ہر گوش و کنار میں بسنے والے حریت پسند اسرائیل کے ساتھ عادی سازی کو مسلم امہ کے اتحاد کے لئے ایک زہر قاتل اور قلب میں خنجر کی مانند تصور کرتے ہیں ۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اقوام اپنے خلاف ہونے والی ان سازشوں کو سمجھیں اور درک کریں ۔ اسرائیل کے ساتھ عادی سازی صرف اور صرف فلسطین اور فلسطینی عوام کے خلاف ہی سازش نہیں ہے بلکہ اگر اس کو ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیا کی تمام مظلوم اقوام کی حق تلفی کے مترادف ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے مابین نفاق کا بیج بونے کے مترادف ہے ۔ آج جن مسلم اور عرب ریاستوں کے حکمرانوں نے فلسطین پر قائم صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے تو ا سکا مطلب صاف ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف جاری ایک سو سال ظلم کو بھی تسلیم کر لیا ہے ۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بطور پاکستانی اگر ہم مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں تو یہ عرب حکمران جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں آخر کس طرح یہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق کی حمایت کریں گے ;238; یقینا جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی حق تلفی ہے وہاں ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر مظلوم اقوام بشمول کشمیر کے عوام کی بھی حق تلفی ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی مسلمان عرب ریاستوں کے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلم امہ کے مابین نفاق ایجاد کرنے کی ان گھناءونی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے فلسطین کاز کے لئے متحد ہو جائیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر دنیا کے مسلمان اقوام باہمی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ فلسطین کاز کے لئے سرگرمیاں انجام دیں تو اسرائیل جو کہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے زیادہ دیر تک اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے ٹکا نہیں رہ سکتا ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close