More share buttons
Share with your friends










Submit
بلاگ

نوجوانوں کا مبہم مستقبل اور کریئر کونسلنگ کا فقدان

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

ہمارے ملک کی آبادی کا تقریباً 55فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے نوجوان یعنی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ، نوجوان یعنی جوش سے بھرپورخون، نوجوان یعنی جذبے سے سرشار، نوجوان یعنی مضبوط اعصاب کے مالک ۔ آبادی کا تنا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہےاور یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کا باعث ہے۔ پاکستانی نوجوان بلا شبہ بہت ہوشیار اور عقلمند ہیںاور ان کی قابلیت اکثر اوقات سامنے آتی رہتی ہے۔ نوجوانوں کا کچھ حصہ تو سوشل میڈیا میں لگ کر اپنا وقت برباد کررہا ہے مگر ایک بہت بڑ ا طبقہ ابھی بھی ایسا ہے جو اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے کچھ کرگزرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔

وہ نوجوان جو اپنے اور اپنے ملک کےلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس قوت تو ہے مگر کس منزل کو جانا ہے معلوم نہیں ۔ ان کے پاس ارادے تو ہیں مگر منزل مبہم ہے۔کوئی بتانے والا نہیں ہے کہ مستقبل میں کرنا کیا ہے ؟ کوئی سمجھانے والا نہیں ہے کیسے کرنا ہے؟ کچھ خوش قسمت نوجوانوں کے علاوہ اکثریت کو اپنی منزل کے بارے میں کچھ پتا نہیں ۔ ان کی دلچسپی کیا ہےاس کو یہ ہی سمجھ نہیں آتا۔ اس کو اپنی ڈگری کرنی ہوتی ہے نہ کہ تعلیم مکمل کرنی ہوتی ہے کیونکہ ان پر نوکری کا پریشر ہوتا ہےاور گھر والوں کا دباؤ الگ ۔

ایک ناکامی کا خوف ہوتا ہےجو انھیں مسلسل خوف دلاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہوکر رہ جاتی ہیں اور یہ روبوٹ بن جاتے ہیں۔اسی خوف نے لاکھوں نوجوانوں کی تخلیقی ذہن کو روبوٹک ذہن بنادیا ہے۔ہمارے ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد آج تک کنفیوز ہے کہ ان کو کرنا کیا ہے کیوں کہ کرئیر کونسلنگ کے اداروںکی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور گھر میں بھی ایسا ماحو ل نہیںجومستقبل کے لئے ان کی حقیقی منزل کومتعین کرسکیں۔

پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ 55فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں کی ہے یعنی مستقبل روشن ہے مگر ان روشنیوں چمکنے کا موقع نہیں مل رہا ۔ نوجوان کو یہ نہیںسکھانا کہ اس فیلڈ میں جاؤ بلکہ ان کی دلچسپی کو سمجھا جائے پھر اس کے بعد ان کو گائیڈ کیا جائے کہ یہ پیشہ تمھاری دلچسپی ہے اوراس کو اس طرح چنا جاسکتا ہے۔ اسی طرح والدین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ انجئینر،ڈاکٹر ، پائلٹ اور بینکر کے علاوہ بھی بہت سی فیلڈ ہیں جس کو چنا جاسکتا ہے جس میں مستقبل بھی روشن ہے اور پھر زندگی بھر دلچسپی بھی رہے گی ورنہ مشین بن کر کام کرتے رہنا پڑے گا۔

تحریر: محمد علی حسن
بلاگر ایک صحافی اور کالم نگار ہیں۔ آپ سے ٹویٹر آئی ڈی  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close