تعلیم و ٹیکنالوجی

افریقہ میں 60 ہزار برس قدیم انسانی نقل مکانی کے اشارے

خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت دنیا میں پائے جانے والے انسانوں کا تعلق اسی انسانی گروپ سے ہے جس نے تقریباً 60 ہزار برس قبل افریقہ سے نقل مکانی کی تھی۔

اب تقریباً 500 انسانی ’جینیوم‘ کی ایک نئی تحقیق سے بعض ایسے کمزور اشارے ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ شاید افریقہ سے انسانی ہجرت کا سلسلہ کافی پہلے شروع ہوا ہوگا۔

لیکن اس تحقیق کے نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایسے ابتدائی دور کے ہجرت کرنے والے انسان شاید پوری طرح سے نیست و نابود ہوچکے ہوں اس لیے ہمارے وجود سے متعلق جو موجودہ نظریہ ہے اس سے اس پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔

لوکا پگانی، میٹ مٹسپالا اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے اس ابتدائی دور کے گروپ کے متعلق جریدے نیچر میں لکھا ہے۔ انھوں نے اوقیانوس کے پاپوا نیوگینیانا جیسے ممالک کے افراد کے ڈی این اے کے جائزے کے بعد اس طرح کے نئے انکشافات کی بات کہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً دو لاکھ برس قبل افریقہ میں پنپنے کے بعد دور جدید کا انسان مصر سے گزرتا ہوا 60 ہزار سال پہلے جزیرہ عرب کے علاقے میں پہنچا تھا تھا۔

ابھی تک یہی نظریہ عام ہے کہ کوئی بھی دنیا میں زندہ غیر افریقی شخص بھی اپنی اصل جڑیں اسی ہجرت کرنے والےگروپ سے مربوط کر سکتا ہے۔

حالانکہ اب کافی دنوں سے یہ بات بھی کہی جاتی رہی ہے کہ اصل میں اس علاقے سے ابتدائی دور کے انسانوں کی نقل مکانی کا سلسلہ 60،000 برس سے پہلے ہی شروع ہوا ہوگا۔

اسرائیل میں انسانی فوسل کے بعض ایسے باقیات پائے گئے تھے جس کی تاریخ 90 ہزار سال سے لے کر تقریباً سوا لاکھ برس تک کی بتائی جاتی ہے۔

2015 میں جنوبی چین میں سائنسدانوں کو جدید دور کے انسانوں کو ایک ایسا دانت ملا تھا جس کی تاریخ تقریبا 80 ہزار برس پرانی بتائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں حال ہی میں ایک اور ثبوت سائبیریا کے اٹالی پہاڑیوں کی معدوم انسانی نسل کی ایک خاتون کے ڈی این اے سے بھی ملا تھا۔ اس کے تجزیے سے پتہ چلا تھا کہ یہ نسل تو تقریباً ایک لاکھ سال پہلے موجود تھی اور وہ بھی افریقی خطے سے باہر۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ افریقہ سے انسانی نقل مکانی پہلے شروع ہوئی ہوگی کیونکہ دنیا کے کئی علاقوں میں 60 ہزار برس پہلے ہی سے انسانی وجود کا پتہ چلتا ہے۔

تازہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگوں نے افریقہ سے پہلے ہی نقل مکانی شروع کی تھی لیکن حالات اور وقت کے ساتھ وہ معدوم ہوگئے اور پھر دوبارہ منظم طریقے سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر آباد ہوتے گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close