تعلیم و ٹیکنالوجی

ناسا نے سرخ سیارے مریخ پر زلزلے کی پہلی ریکارڈنگ جاری کردی

پیساڈینا، کیلیفورنیا: ناسا کی جانب سے مریخ پر اتارے گئے جدید ترین خلائی کھوجی ’’انسائٹ مارس لینڈر‘‘ نے انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’مارس کوئیک‘ یعنی مریخی زلزلے کو ریکارڈ کرتے ہوئے اس کی گڑگڑاہٹ بھی گرفت میں لی ہے۔

ماہرین نے اسے ’مارس کوئیک‘ یعنی مریخی زلزلے کا نام دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرخ سیارہ مریخ اب بھی ارضیاتی طور پر سرگرم ہے۔ اس سے قبل ماہرین نے کہا تھا کہ مریخ پر رونما ہونے والے زلزلے کے جھٹکے اس پر چلنے والی ہوا یا فضا کی بجائے اندرونی زلزلوں سے واقع ہورہے ہیں اور اب اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخی زلزلوں کو جان کر ہم اس کی اندرونی ارضیاتی ساخت کو سمجھ سکتے ہیں۔ انسائیٹ خلائی جہاز گزشتہ برس نومبر میں مریخ پر اترا تھا اسے خاص طور پر مریخ کی اندرونی خبر دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جدید ترین آلات سے لیس انسائیٹ مریخ کا اندرونی درجہ حرارت، مٹی کی کیفیت، اس کی گردش اور زلزلہ جاتی سرگرمیوں پر تحقیق کے لیے بنایا گیا ہے۔ مریخی زلزلے اس پراسرار سیارے کے متعلق ہماری معلومات میں بہت اضافہ کرسکتے ہیں۔

انسائیٹ میں نصب سیسمک ایکسپیریمنٹ فار انٹیریئر اسٹرکچر (ایس ای آئی ای ایس) نے مریخی زلزلے کی پہلی آواز 6 اپریل کو ریکارڈ کی ہے جس پر ماہرین بہت خوش ہیں۔ ایس ای آئی ای ایس ٹیم کے سربراہ فلپ لاگنون نے بتایا، ’کئی ماہ سے ہم اس سگنل کے منتظر تھے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ مریخ اب بھی ارضیاتی لحاظ سے سرگرم ہے اور اس کی بدولت مریخ کی اندرونی کیفیت کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔‘

لیکن ماہرین نے زلزلے کے مزید تین جھٹکے بھی محسوس کئے ہیں تاہم ان کی شدت بہت ہی کمزور ہے۔ اب اگر قسمت مہربان رہی تو آگے بھی ایسے زلزلے وقوع پذیر ہوتے رہیں گے اور یوں مریخ کو سمجھنے میں مزید مدد ملے گی۔ انسائیٹ سے وابستہ مرکزی سائنسداں بروس بینرٹ کہتے ہیں کہ اب تک مریخ پر اس کے پس منظر کی آوازیں ہی ریکارڈ ہوئی تھیں لیکن پہلی مرتبہ ہم مریخی زلزلوں کے مشاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close