Featuredتعلیم و ٹیکنالوجی

آپ کو بھی سردیوں میں زیادہ پشاب آتا ہے؟ حیران کن وجوہات جانیے

بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کا مثانہ کمزور ہوتا ہے یا حد سے زیادہ متحرک۔ ایسے لوگوں کو بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے لیکن وہ اسے معمولی چیز سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں حالانکہ پیشاب کا زیادہ آنا کئی خطرناک بیماریوں کا پیش خیمہ بھی ہوتا ہے اور اسے کسی طور نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ماہر یورالوجی ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا کے مطابق پیشاب کی زیادتی انسان کو ذیابیطس لاحق ہونے کی بڑی علامت بھی ہوتی ہے، ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں جب شوگر زیادہ ہو جاتی ہے تو گردے اسے جسم سے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے لیے وہ زیادہ پیشاب بنانا شروع کر دیتے ہیں اور آدمی کو بکثرت ٹوائلٹ جانا پڑتا ہے۔

لیکن آج ہم آپ کو سردیوں میں پشان آنے کی وجوہات سے آگاہ کررہے ہیں جو ماہرین کے ماہرین کے مطابق کسی بیماری کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم سکڑنے کا باعث ہے۔

ڈاکٹر بلانکا کہتی ہیں کہ یوں سردیوں میں جب ہمارا جسم زیادہ سکڑا ہوا ہوتا ہے تو اس میں مائع کو اندر جمع رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے ہمیں سردیوں میں پیشاب کی حاجت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گرمیوں میں ہمارے جسم سے کچھ مائع پسینے کی شکل میں بھی باہر نکل جاتا ہے۔

ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا کے بقول چونکہ ہمارے جسم میں خون کی کُل مقدار وہی رہتی ہے لیکن جب خون کی نالیاں سکڑتی ہیں تو خون کے پاس جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری رگوں میں خون کا دباؤ یا بلڈ پریشر زیادہ ہو جاتا ہے۔

یہ وہ موقع ہوتا ہے جب ڈائروسِس کا عمل شروع ہو جاتا ہے، یعنی پیشاب میں تیزی آ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے ہمارے گردوں کے خلیوں کے اندر بھی دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے گردوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ جسم سے غیر ضروری مائع مواد کو نکال دیں تاکہ بلڈ پریشر واپس نارمل ہو جائے۔

یوں جب گردوں کو غیر ضروری مائع سے نجات کا پیغام ملتا ہے تو ہمیں ٹوائلٹ کے لیے بھاگنا پڑ جاتا ہے۔

ڈاکٹر بلانکا مڈُرگا بتاتی ہے کہ ’اگر ہمارے جسم کا وہ عضو جہاں پیشاب جمع ہوتا ہے، یعنی ہمارا بلیڈر صحت مند ہو تو ہمیں پیشاب سے فارغ ہونے کے تھوڑی دیر بعد دوبارہ ٹوائلٹ نہیں جانا پڑتا، لیکن کچھ لوگوں کے بلیڈر معمول سے زیادہ کام کرتے ہیں یا زیادہ ایکٹِو ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افراد ہر تھوڑی دیر بعد ٹوائلٹ جانا چاہتے ہیں اور ان کو تسلی نہیں ہوتی۔

اس کی وجہ بلیڈر کے ارد گرد کے اعضاء کا خود بخود سکڑنا ہو سکتی ہے کیونکہ جب ہم کوئی چیز پیتے ہیں یا ٹھنڈ ہوتی ہے تو یہ اعضاء غیر ارادی طور پر سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close