Featuredانٹرٹینمنٹ

مسلم کش فسادات پر ہندو اداکاروں کی کھل کرمخالفت

 دہلی: بالی ووڈ کے معروف مسلمان فنکاروں کی جانب سے مسلسل خاموشی دیکھنے میں آرہی ہے

لیکن ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے معروف اداکاروں نے مسلمانوں پرڈھائے جانے والے مظالم کی کھل کرمخالفت کی۔

سٹیزن شپ ایمنڈمنٹ ایکٹ کے خلاف کیے جانے والے احتجاج میں 24 فروری کو امریکی صدرکے دورہ بھارت پرپہنچنے کے بعد تیزی آئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھانا شروع کردیے۔ مذہبی فسادات کاآغاز کردیا گیا اور مسلمانوں کی جان کے علاوہ املاک اور مساجد کو بھی نقصان پہنچایاجارہا ہے۔

اس مسلم مخالف قانون کے نفاذ کے بعد سے ہی بھارت میں مظاہرے جاری تھے۔ حالیہ فسادات کے نتیجے میں اب تک تقریبا 20 افراد جان سے جاچکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ اروند کیجروال کی جانب سے شہر میں کرفیو نافذ کرنے اور فوج بلانے کی درخواست دی جاچکی ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات میں بیگناہ انسانی جانوں کے زیاں پر بالی ووڈ کی معروف شخصیات نے بھی آواز اٹھائی ہے۔

اداکارہ روینہ ٹنڈن نے دہلی میں مسلمانوں پرکیے جانے والے تشدد کو کچھ شرپسند عناصر کی مرضی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اگر ہم میں تھوڑی بھی ہمدردی ہے توفسادات میں مرنے والوں کیلئے تعزیت کا اظہارتوکرسکتے ہیں کیونکہ وہ کافی عرصے سے انتہائی دباؤ میں ہیں۔


جاوید جعفری اس سے قبل مسلم مخالف قانون کیخلاف کھل کرآواز اٹھا چکے ہیں، انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کیلئے انتہائی افسوس کااظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایسے واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں گندی سیاست شامل ہے۔

ایشا گپتا نے اس صورتحال کاموازنہ شام سے کرتے ہوئے لکھا کہ شرانگیزی پھیلانے والے لوگ یہ جانے بغیر ایسا کرتے ہیں کہ وہ ایسا کس لیے کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بھارت اور میرے شہر کو غیر محفوظ بنارہے ہیں۔

اداکارہ سوارا بھاسکر نے دہلی کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی سے قیام امن کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ میری درخواست ہے ٹویٹس کرنے سے آگے بڑھیں۔

اداکارہ ریچا چڈا نے لکھا کہ بطور ایک سچا ہندو ہونے کے یقین ہے کہ مظالم ڈھانے والوں پر جلد ہی عذاب اور بیماریاں بن کر قہر نازل ہوگا کیونکہ ان کے ہاتھوں میں اپنا ہی خون ہے۔

فلمسازجاید اختر نے دہلی کی موجودہ صورتحال کو منصوبہ بندی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سب لوگ تنگ نظر سیاستدان کپل مشرا جیسے بن رہے ہیں، ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہلی میں فسادات متنازع شہریت کے قانون کیخلاف کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے ہوئے جن پر پولیس جلد قابو پالے گی۔

فلم ساز ہنسل مہتا نے انتہائی جرات مندانہ ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ احتجاج کرنے والا کوئی بھی شخص فساد نہیں چاہتا اور کوئی بھی فسادی احتجاج نہیں کرتا ‘‘۔

 

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close