انٹرٹینمنٹ

کیمرے والوں نے زندگی اجیرن کردی تھی : جینیفر گارنر

ہولی وڈ : اداکارہ جینیفر گارنر نےکہا ہے کہ فوٹوگرافرز نے زندگی کو ’سرکس‘ بنا دیا تھا۔

اداکارہ و سماجی کارکن جینیفر گارنر نے پہلی بار فوٹوگرافرز کی جانب سے ڈیڑھ دہائی تک پیچھا کرنے کے معاملے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمرے والوں نے ان کی زندگی اجیرن کردی تھی۔

جینیفر گارنر نے پہلی بار ذاتی اور ازدواجی زندگی سمیت بچوں کی تربیت و صحت پر فوٹوگرافرز کے پڑنے والے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ان کی زندگی کو ’سرکس‘ بنا دیا تھا۔

جینیفر گارنر نے پی بی ایس میڈیا کے شو ’ٹیل می مور ود کیلی کوریگن‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ فوٹوگرافرز نے 10 سال سے زائد عرصے تک ان کا اور ان کے بچوں کو پیچھا کیا۔

جینیفر گارنر نے بتایا کہ ان کے گھر کے باہر یومیہ کم از کم فوٹوگرافرز کی 6 اور بعض اوقات 20 گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتی تھیں۔

اداکارہ کے مطابق فوٹوگرافرز نے انہیں بیوٹی پارلر، شاپنگ مال، شوٹنگ سیٹ اور ہسپتال سمیت ہر جگہ جاتے ہوئے دیکھا اور ان کی ہر حال میں تصاویر کھینچیں۔

جینیفر گارنر نے بتایا کہ فوٹوگرافرز نے حمل کے دوران ان کی تصاویر کھینچیں، بچوں کی پیدائش کے بعد تصاویر کھینچی، جب وہ پہلی بار بچے کے ساتھ باہر نکلیں تب ان کی تصاویر کھینچیں، جب ان کے بچے چھوٹے ہوئے تب تصاویر بنائیں اور جب ان کے بچے بڑے ہوتے گئے تب بھی ان کی تصاویر بنائی جاتی رہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گھر، محلے، ہوٹل اور شاپنگ مال کے باہر ان کے انتظار میں کھڑی فوٹوگرافرز کی بہت زیادہ گاڑیوں کی وجہ سے ایک بار ان کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا جب کہ ان کے بچے کیمروں کو بندوقیں سمجھ کر ڈر جاتےتھے۔

انہوں نے بتایا کہ فوٹوگرافرز نے ان کی بین ایفلک سے شادی، محبت، بچوں کی پیدائش اور طلاق تک ان کا پیچھا کیا، جب ان کی شادی ختم ہوئی تو فوٹوگرافرز کی ڈیوٹی بھی ختم ہوئی۔

جینیفر گارنر کو امریکا میں اینٹی فوٹوگرافر مہم کی متحرک کارکن سمجھا جاتا ہے اور وہ ماضی میں حکومت سے ایسے قوانین بنانے کے مطالبے بھی کر چکی ہیں، جن میں اجازت کے بغیر تصاویر بنانے والے فوٹوگرافرز کو سزا دی جا سکے۔

جینیفر گارنر کی مہم کی بدولت ہی ریاست کیلی فورنیا نے 2013 میں ایسے قوانین بنائے جن سے فوٹوگرافرز پر کسی کی بھی اجازت کے بغیر تصویر لینے پر پابندی لگ گئی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close