انٹرٹینمنٹ

فلپائنی ملکہ حسن کا اپنے فلسطینی والد کے لئے جذباتی پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

منیلا : گزشتہ سال فلپائن میں ملکہ حسن منتخب ہونے والی دوشیزہ غزہ میں کیے جانے والے اسرائیلی مظالم پر چپ نہ رہیں ان کا کہنا ہے کہ میں اس تکلیف کا احساس کرسکتی ہوں جس سے میرے بہن بھائی گزر رہے ہیں۔

 

 

 

فلپائن کی ملکہ حسن گیزینی گینادوس کی غزہ میں صورت حال کی بہتری کے لیے کی جانے والی دعا سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہی ہے۔ ملکہ حسن کا کہنا ہے کہ محبت کے اظہار کا یہ طریقہ مجھے میرے فلسطینی والد نے سکھایا۔

 

عرب نیوز کے مطابق گیزینی گینادوس کے والد کا تعلق فلسطین سے ہے جبکہ والدہ فلپائن سے ہیں، ملکہ حسن گیزینی گینادوس 2019 کے مس یونیورس ایونٹ میں فلپائن کی نمائندگی بھی کرچکی ہیں۔

 

25سالہ ماڈل نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ میں اس مشکل صورت حال کا صرف تصور کر سکتی ہوں جن سے میرے بہن بھائی گزر رہے ہیں، میں امید رکھتی ہوں کہ وہ اس ظالمانہ صورت حال میں بھی پُرامید رہیں گے، ہر ایک کے تحفظ کے لیے دعا ہے۔

 

فلپائن کے صوبے زمبونگا ڈیل نورٹ کے شہر ڈیپیٹن میں پیدا ہونے والی گینادوس کی پرورش فلپائن سے تعلق رکھنے والی والدہ نے ان کے والد سے علیحدگی کے بعد اکیلے کی ہے۔

 

گیزینی گینادوس 2019 میں عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد اپنے والد سے ملی تھیں اور تب سے غزہ میں رہنے والے اپنے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے والد نے مجھے سکھایا کہ “آئی لو یو” عربی میں کیسے بولا جاتا ہے، جو میرے لیے بہت اہم تھا کیونکہ میں کم ہی محبت کا اظہار کر پاتی تھی۔

 

ملکہ حسن نے کہا کہ اپنے پیاروں کو گلے لگاؤ، انہیں بوسہ دو اور انہیں دکھاؤ کہ تم ان سے کتنی محبت کرتے ہو، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

 

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی جو کہ فلسطینی گروپ حماس کے کنٹرول میں ہے، پر مسلسل گیارہ روز تک جاری رہنے والی فضائی بمباری میں کم سے کم 230 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ایک سو خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ کو غیرانسانی صورت حال کا سامنا ہے، ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں : میری دعا ہے کہ ہمیں پھر کبھی اس طرح کا سامنا نہ کرنا پڑے

 

گینادوس نے جمعرات کو عرب نیوز کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ امن قائم ہو گا۔ بقول ان کے مجھے معلوم ہے کہ اس جنگ نے ختم ہونا ہے اور امن آ سکتا ہے لیکن تبھی جب قتل کرنے والے اپنی توانائیاں کہیں اور بہتری میں صرف کریں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ اگر میں کسی طور بھی ان کی ممکن کرسکوں لیکن بدقسمتی سے میں اپنے خاندان والوں کے لیے صرف دعا ہی کر سکتی ہوں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close