Featuredاسلام آباد

بیرونی ہاتھ بھی عدم اعتماد تحریک میں شامل ہے : اسد عمر

اسلام آباد: وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستانی تاریخ میں بیرونی سازش کوئی نئی بات نہیں۔

وفاقی وزی اسد عمر نے فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعظم کی تقریر سننے کے لیے لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچے۔ وزیراعظم نے تقریر میں مراسلے کا ذکر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مراسلے سے نظر آتا ہے بیرونی ہاتھ بھی عدم اعتماد تحریک میں شامل ہے۔ قومی راز بہت ہی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔ قومی راز سے متعلق قوانین بھی لکھے جاچکے ہیں۔ وزیراعظم تیار ہیں وہ سوچ رہے ہیں کس کے ساتھ خط شیئر کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز خط ایک حقیقت ہے، میں خود اس کو دیکھ چکا ہوں۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں ہوئی تھی، اس سے پہلے مراسلہ آیا۔ خط کا وہ حصہ جو عدم اعتماد سے جڑتا ہے اس کی حیثیت کیا ہے۔ مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ مراسلے میں ہے کہ عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں۔ یہ مراسلہ وزیراعظم عمران خان کے منصب پر بیٹھنے سے براہ راست جڑا ہے۔ اس مراسلے میں کیا ہے یہ اعلیٰ سول و عسکری قیادت تک محدود ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مراسلے میں کردار کون کون ہے، یہ بہت اہم بات ہے۔ مراسلے میں نواز شریف کا کردار ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ ظاہر ہے پی ڈی ایم اس بات سے لاعلم نہیں ہے۔ پی ڈی ایم کو بھی پتہ ہے مراسلے اور عدم اعتماد تحریک کا کیا تعلق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مراسلے سے واضح ہے بیرونی ہاتھ عدم اعتماد تحریک آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط دکھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم مراسلے کو چیف جسٹس پاکستان کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ خط میں براہ راست عدم اعتماد کی تحریک کا ذکر ہے۔ خط میں لکھا ہے عمران خان وزیراعظم رہے تو خوفناک نتائج ہوں گے۔

اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان دلیر آدمی ہیں، عوام کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ عمران خان پاکستان کے عوام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے چیف جسٹس کو بڑا ہونے کی حیثیت سے خط دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی تاریخ میں بیرونی سازش کوئی نئی بات نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت بھی کہہ رہا تھا نواز شریف کو باہر نہ جانے دو۔ نواز شریف نے اسرائیلی سفارتکار سے بھی ملاقات کی تھی۔ جو خط ہمیں آیا یہ عدم اعتماد سے پہلے آیا اور اس میں عدم اعتماد کا ذکر ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close