More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredاسلام آباد

اگر ہم نے یہ کیا ہے تو ہمیں رہنے دینا چاہیے تھا آج ہم اس کی ذمہ داری لیتے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

اسلام آباد : ہم ہفتے کو 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پُرامن تاریخی احتجاج کریں گے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کا نہت آسان طریقہ ہے کہ زرداری خاندان اور شریف خاندان کا جو اربوں ڈالر باہر پڑا ہے اگر اس کا آدھا بھی پاکستان لے آئیں تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔

عمران خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں واضح بیرونی سازش کے ذریعے ملک میں حکومت بنتی ہے اس میں 60 فیصد لوگ ضمانت پر ہیں، بڑے بڑے لوگ جو 30 سالوں سے حکومت کررہے ہیں وہ آکر لوگوں کے ضمیر خرید کر مسلط ہو جاتے ہیں، بھیڑ بکریوں کی طرح سیاستدانوں کو خریدا گیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے لوگوں کو تیار کیا کہ بہت زیادہ مہنگائی ہو گئی ہے، مشکل حالات ہیں، لوگ تباہ ہوگئے، اب لوگ اس لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں کہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کونسی قیامت آ گئی، ان دو مہینوں میں کیا ہو گیا کہ قیمتیں بھی آسمانوں پر چلی گئیں، معیشت ، روپیہ ، اسٹاک مارکیٹ بھی نیچے چلی گئی۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کے حوالے سے کوئی پلان لانا تھا یا ان کو معیشت ٹھیک کرنی تھی کیونکہ یہ بڑے تجربہ کار سمجھے جاتے تھے، دو خاندان 30 سال سے ملک میں حکومت کررہے ہیں، بجائے مہنگائی کم کرنے اور معیشت ٹھیک کرنے کے انہوں نے صرف ایک کام کیا کہ 11 سو ارب روپے کے کرپشن کے کیسز این آر او دے کر معاف کروالیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ صنعتی ترقی سے لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، ہم نے لوگوں کو 55 لاکھ نوکریاں دی تھیں، اس کی وجہ یہ کنسٹرکشن سیکٹر کو اٹھانا، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں ریکارڈ ترقی ہوئا، ٹیکسٹائل سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کی برآمدات میں اضافہ ہونا شامل ہے، آئی ٹی کی برآمدات میں دو سالوں میں 75 فیصد اضافہ ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف بھی کہہ رہا تھا کہ پاکستان پائیدار ترقی کررہا ہے، زراعت میں فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہو رہی تھی کیونکہ ہم نے پوری منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ اگر باہر نکل کر مظاہرے کررہے ہیں تو آپ کو ڈنڈے کا استعمال اور تشدد کررہے ہیں، جمہوری حکومت لوگوں کو اپنے مسئلے بتاتی ہے اور ان کے دکھ اور درد سنتی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ کدھر گئی بجلی؟ ہمارے ساڑھے تین سالہ دور میں کیوں ایسی لوڈشیڈنگ نہیں تھی؟ ملک میں بجلی تو ہے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں ہی بجلی کے کارخانوں کا معاہدہ ہوا، بجلی بھی نہیں بن رہی اور ہم کپیسیٹی پیمنٹ کی مد میں پیسے بھی دے رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بجلی کے کارخانے درآمدی ایل این جی اور کوئلے کے لگائے تھے، ساہیوال جیسی جگہ پر انہوں نے کوئلے کا پلانٹ لگایا ہے، کراچی سے کوئلہ ساہیوال آتا ہے، جس نے بھی اس کارخانے کو لگایاہے اس کو جیل میں ڈالنا چاہیے کہ کیا سوچ کر بنایا تھا، ماحولیات پر اس کا علیحدہ منفی اثر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غداروں کے ساتھ مل کر سازش کی، آج آپ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جب آپ سازش کرکے آ گئے تو اب کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا عمران خان اور پی ٹی آئی نے کیا ہے، اگر ہم نے یہ کیا ہے تو ہمیں رہنے دینا چاہیے تھا آج ہم اس کی ذمہ داری لیتے۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ہفتے کو 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پُرامن تاریخی احتجاج کریں گے، اس کے علاوہ ہم لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ پشاور، لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں احتجاج کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ زندہ قوم بن کر سب لوگ اس احتجاج میں شامل ہوں، ہم توڑ پھوڑ نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کا ہی نقصان ہے، جمہوریت میں ہمارا یہ حق ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ ہماری بات سنے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حمزہ شہباز کی غیرقانونی حکومت موجود ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے، شکر ہے عدالتوں نے پہلے کو الیکشن کمیشن کو بے نقاب کردیا کہ انہوں نے غیر آئینی طریقے سے ہماری 5 مخصوص نشتسوں کو موقع نہیں دے رہے تھے۔

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close