More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredسندھ

فلور ملز مالکان کا گندم درآمد کرنے کا اجازت نامہ جاری کرنے کا مطالبہ

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کراچی: حکومت نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دیدی تو گندم میں سٹہ بازی اور ذخیرہ اندوزی رک جائے گی

فلور ملز مالکان نے گندم کے ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑنے کیلیے فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا اجازت نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری عامر  کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں فی 100 کلو گندم 9100 روپے تا 9200 روپے کے درمیان فروخت کی جا رہی ہے جبکہ فلور ملز مالکان تھوک میں فی کلو گرام آٹا 105 روپے سے 106 روپے میں فراہم کر رہے ہیں جو خوردہ سطح پر 115روپے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے  کہا کہ ایک ماہ قبل گندم کی فی 100 کلو قیمت 7800 روپے تھی جبکہ فی کلوآٹے کی قیمت 82 روپے تھی، اس طرح سے اب 100کلوگرام گندم 1400 روپے مہنگی قیمت پر مل رہی ہے جس کے نتیجے میں فی کلوگرام آٹے کی تھوک قیمت 24 روپے بڑھ گئی ہے۔
مقامی اوپن مارکیٹ میں مقامی ضروریات کے مطابق گندم کے ذخائر موجود ہیں لیکن منافع خور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے گندم کی کاشت میں ممکنہ رکاوٹ کی وجہ سے گندم میں سٹہ بازی کر رہے ہیں، اگر حکومت نے فلور ملوں کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دیدی تو گندم میں سٹہ بازی اور ذخیرہ اندوزی نہ صرف رک جائے گی بلکہ گندم و آٹے کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ممکن ہوسکے گی۔

دریں اثناکراچی ریٹیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین فرید قریشی نے بتایا کہ خوردہ سطح پر آٹے کی تمام اقسام کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کا اضافہ ہوگیا، انھوں نے بتایا کہ فی کلوگرام چکی آٹے کی خوردہ قیمت بڑھ کر 130 روپے فائن آٹے کی قیمت بڑھ کر 125 روپے اور ڈھائی نمبر آٹے کی فی کلو گرام قیمت بڑھ کر 120 روپے ہوگئی ہے،انھوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے فلورملوں کو گندم کا کوٹہ موصول ہونے کے بعد امکان ہے کہ آٹے کی خوردہ قیمت میں کمی واقع ہو۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close