More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredاسلام آباد

مرضی کا آرمی چیف، چیئرمین نیب نہیں چاہتا، اداروں میں میرٹ چاہتا ہوں

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

لاہور: سمری آنے کے بعد میں اور صدر آئین و قانون کے مطابق کھیلیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے مفرور نواز شریف سے مشاورت پر تحفظات ہیں، نواز شریف کی تو پوری کوشش ہوگی ایسا شخص آئے جو عمران خان کو سائیڈ لائن کرے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ میں اپنی پارٹی کا سربراہ ہوں تو صدر سمری سے متعلق مجھ سے ضرور بات کرینگے، سمری آنے کے بعد میں اور صدر آئین و قانون کے مطابق کھیلیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اہم تقرری کی سمری سے متعلق صدر سے رابطے میں ہوں، سمری سے متعلق صدر مجھ سے بھی بات کریں گے، اہم تقرری پر وزیراعظم ایک مفرور کے پاس پوچھنے کیلئے جاتا ہے، میں تو اپنی پارٹی کا سربراہ ہوں تو صدر مجھ سے ضرور بات کرینگے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں جو حالات بنادیے گئے قوم میں جذبہ ہے اسے قبول نہیں کریگی، ملک جس طرح چلایا جارہا ہے قوم اسے مزید قبول نہیں کرے گی، کوئی سمجھتا ہے اپنا آرمی چیف لاکر ہمیں مارپڑوائے گا تو قوم اس کیخلاف کھڑی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر جو حملہ ہوا شہباز شریف پورا ملوث تھا، نواز شریف بھی جانتا ہوگا، تسنیم حیدر پر ہے کہ وہ پولیس اور عدالت کو کیسے شواہد پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مرضی کا آرمی چیف، چیئرمین نیب نہیں چاہتا، اداروں میں میرٹ چاہتا ہوں، نام فائنل ہونے کے بعد اپنے سیاسی حق کے استعمال کا فیصلہ کریں گے، سمری آنے کے بعد میں اور صدر آئین و قانون کے مطابق کھیلیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جون میں بتادیا تھا مجھے مارنے کا منصوبہ بند کمروں میں بنایا گیا تھا، میں نے ویڈیو بھی بناکر رکھ دی تھی نام بھی ریکارڈ کرالیے تھے، ان لوگوں کا پھر منصوبہ تبدیل ہوا اور یہ پلان بی پر چلے گئے، انہوں نے منصوبہ بنایا سلمان تاثیر کے قتل کی طرح میرا بھی قتل کیا جائیگا، مریم اورنگزیب، جاوید لطیف نے پریس کانفرنس کرکے مذہبی منافرت کا الزام لگایا، میں نے دونوں منصوبوں سے متعلق پہلے سے آگاہ کردیا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے مفرور نواز شریف سے مشاورت پر تحفظات ہیں، نواز شریف کی تو پوری کوشش ہوگی ایسا شخص آئے جو عمران خان کو سائیڈ لائن کرے، فوج کا ڈسپلن اچھا ہے اسی لیے وہ بچا ہوا ہے ورنہ باقی ادارے تو انہوں نے تباہ کردیے، کوئی بھی ادارہ آئینی حدود سے تجاوز کرے تو ملک میں قانون کی بالادستی نہیں رہتی۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کامیاب اس لیے ہے کہ وہاں قانون اور انصاف ہے، پاکستان میں ایک سال سے چہ مگوئیاں چل رہی تھیں آرمی چیف کون بنے گا، گزشتہ سال اکتوبر ستمبر میں باتیں شروع ہوگئی تھیں کون آرمی چیف بنے گا، ملک اہم موڑ پر ہے اب تبدیلی نہ کی تو ملک مزید تیزی سے نیچے جائے گا، پہلے ہی کہا تھا ان سے معیشت نہیں سنبھالی جائے گی، میں نے کہا تھا یہ لوگ ملک کو ڈیفالٹ پر لے کر جائیں گے، 2018 میں تو یہ لوگ ملک کا دیوالیہ نکال کر گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت ان کا مقصد نہیں تھا اپنے کرپشن کیسز ختم کرنا تھا، خود بھی کہا اور شوکت ترین سے بھی پیغام بھجوایا کہ معیشت تباہ ہوجائے گی، آج معیشت کی صورتحال دیکھ لیں، پاکستان کا رسک 88 فیصد پر چلا گیا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close