More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredپنجاب

ملکی مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا ، منفی بیان دینے سے گریز کیا

ہر جماعت کو حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، تاکہ اگلے الیکشن میں امپورٹڈ یا سلیکٹڈ کی بجائے الیکٹڈ حکومت آئے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

راولپنڈی: اپنے اور فوج کے خلاف جارحانہ رویے کا جواب دے سکتے تھے مگر درگرز سے کام لیا لیکن صبر کی بھی ایک حد ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع و شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور آرمی چیف آپ سے آخری بار خطاب کررہا ہوں، 29 نومبر کو اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوجاؤں گا، فوج کبھی شہدا کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی، شہدا کے اہلخانہ ہمارا فخر ہیں، شہدا کے اہلخانہ کا حوصلہ ہمیشہ بلند پایا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی، فوج کی قربانی کا عوام نے اعتراف نہیں کیا، دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کرتی ہے لیکن اس کے عوام اسے بہت کم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس دن رات عوام کی خدمت میں مصروف پاک فوج پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے، اس کی بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی سیاست میں مداخلت ہے، فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ فوج کاسب سےپہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، فوج نےفروری میں فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں، مگر اس آئینی عمل کا خیرمقدم کرنےکے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کانشانہ بناکر بہت نامناسب اور غیرشائستہ زبان استعمال کی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج پر تنقید شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا مناسب چناؤ کرنا چاہیے، جعلی جھوٹا بیانیہ بناکر ملک میں ہیجان پیدا کیا، اب اس جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے، اعلی فوجی قیادت کو غیر مناسب القابات سے پکارا گیا، فوجی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے، لیکن ملکی مفاد کیخلاف کوئی کام نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ناممکن بالکل گناہ کبیرہ ہےکہ ملک میں کوئی بیرونی سازش ہو اور فوج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہے، فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنے والے ہمیشہ ناکام ہوں گے، فوج کے پاس اس یلغار کا جواب دینے کےلیے متعدد مواقع اور وسائل تھے لیکن اس نے ملکی مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور منفی بیان دینے سے گریز کیا، لیکن سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہے۔

آرمی چیف کہا کہ میں اپنے اور فوج کیخلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں، کیونکہ پاکستان ہم سب سے افضل ہے، افراد اور پارٹیاں تو آتی جاتی رہتی ہیں، ملک میں ہر ادارے، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے بھی غٖلطیاں ہوئی ہیں،

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کوئی بھی ایک سیاسی جماعت اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی بلکہ سیاسی استحکام ضروری ہے، امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویئے پر نظرثانی کریں گی، وقت آ گیا ہے کہ تمام فریقین اپنی ذاتی انا کو ترک کرکے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں ملک کو بحران سے نکالیں، آگےبڑھناہےتوعدم برداشت اورمیں نہ مانوں کارویہ ترک کرناہوگا، 2018 کے الیکشن میں بعض جماعتوں نے فاتح جماعت کو سلیکٹڈ کا لقب دیا اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک جماعت نے دوسری جماعت کو امپورٹڈ کا لقب دیا، اس رویے کو رد کرنا ہوگا، ہار جیت سیاست کا حصہ ہے، ہر جماعت کو فتح و شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، تاکہ اگلے الیکشن میں امپورٹڈ یا سلیکٹڈ کی بجائے الیکٹڈ حکومت آئے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close