Featuredپنجاب

عمران خان کا تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان

اس کرپٹ نظام کا مزید حصہ نہیں بنیں گے

راولپنڈی: وہ 3 مجرم جنہوں نے پوری سازش کر کے مجھے قتل کرانے کی کوشش کی ابھی بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں

چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کرپٹ نظام کا مزید حصہ نہیں بنیں گے، تمام اسمبلیاں تحلیل کریں گے

عمران خان کا کہنا تھا کہ موت بڑے قریب سے دیکھی ہے، قوم کو پیغام ہے اپنے ایمان کو مضبوط کریں، 26 سالہ سیاست میں مجھے ذلیل کرنے کیلئے انہوں نے کوئی موقع نہیں چھوڑا، کبھی اتنے لوگ کسی وزیراعظم کیلئے نہیں نکلے جتنے میرے لئے نکلے، مجھے موت کی فکر نہیں تھی مگر میری ٹانگ نے میری مشکلات بڑھا دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج قوم اہم موڑ پر کھڑی ہے، طاقتور لوگ اپنے نیچے بیٹھے ہوئے تنخواہ دار لوگوں سے غلط کام کراتے ہیں، ان لوگوں کا ایمان نہیں ہوتا کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، پاکستانیوں ہمارا مستقبل یہ نہیں کہ ہم چیونٹیوں کی طرح رینگیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ جو حکومت آئے کہا جائے چور ہے حکومت چلی جائے، دوسری حکومت آئے تو چوروں کو این آر آو دے دیا جائے یہ نہیں ہو سکتا، پاکستان ایک عظیم ملک نہیں بنا تو اس کی وجہ قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں عدل وانصاف اور قانون کی حکمرانی تھی، غریب ملکوں میں صرف چھوٹا چور جیل جاتا ہے، خوشحال ممالک میں عدالتیں انصاف کرتی ہیں، غریب ممالک میں وزیراعظم پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے جاتے ہیں، 2 خاندانوں نے 30 سال ملک پر حکومت کی لیکن اداروں کو مضبوط نہیں کیا، دونوں خاندانوں نے اپنی کرپشن کیلئے اداروں کو کمزور کیا، کیا مجھ پر کرپشن کا الزام تھا جو ہماری حکومت گرائی گئی، ہماری حکومت کو سازش کے تحت ہٹایا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 2018 میں انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا، ہم نے ملک سنبھالا تو بیرون ملک جا کر دوست ممالک سے پیسے لئے، دوست ممالک سے پیسے مانگنے میں شرم محسوس ہوتی تھی، ملک سنبھالا تو کورونا آگیا جس نے دنیا میں تباہی مچائی، لاک ڈاؤن نہ لگانے پر انہوں نے مجھ پرتنقید کی، ہم نے لاک ڈاؤن نہیں لگایا، سستے قرضے دیئے، ورلڈ بینک نے بھی ہمارے احساس پروگرام کو سراہا، کورونا کے دوران احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو سپورٹ کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو سپورٹ کیا، ہیلتھ کارڈ لے کر آئے، ہماری حکومت میں 3 بڑے ڈیمز پر کام شروع کیا گیا، ساڑھے 3 سال میں ایک بار فیل ہوا، ساڑھے 3 سال میں طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لا سکا، جن پر کرپشن کیسز تھے انہیں قانون کے نیچے لانے کی بہت کوشش کی، مجھے کہا جاتا تھا احتساب کو بھول جائیں، معیشت پر توجہ دیں، یہ بھی کہا گیا کہ نیب کا قانون بدل دیں، جن کے پاس طاقت تھی وہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے، سب کو باری باری این آر او دیا گیا، مشرف نے پہلا این آر او دیا تو ہمارا قرض بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا کہ بار بار سنتے ہیں سائفر ایک ڈرامہ تھا، کیا قومی سلامتی کمیٹی میں پاکستانی سفیر اور ڈونلڈ لو کی گفتگو رکھی نہیں گئی تھی، کیا قومی سلامتی کمیٹی میں سائفر پر امریکا کو ڈی مارش کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا، سائفر کو ڈرامہ قرار دینا ملک کی توہین ہے عمران خان کی نہیں، ایک چھوٹا سا افسر دوسرے ملک کے وزیر اعظم کو ہٹانے کا کہہ سکتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 7 مہینے میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں 100 فیصد بڑھی ہیں، 88 فیصد سرمایہ کاروں کو حکومت پر کوئی اعتماد نہیں ہے، ہمارے دور میں ڈیفالٹ کے چانسز 5 فیصد تھے، ہمارے دور میں 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ ایکسپورٹ تھی، ہمارے دور میں 6 ہزار ارب سے زائد ٹیکس اکھٹا کیا گیا، ہمارے دور میں مہنگائی 14 فیصد تھی ، آج 45 فیصد ہے، ایف آئی اےمیں اپنا آدمی بٹھا کر سارے کیسز معاف کروا لیے گئے، نیب میں اپنا آدمی بٹھا کر وہاں سے بھی کیسز معاف کروا لیے، جو لوگ جیل میں ہیں ان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ غریب ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرآباد واقعے میں ایک نہیں 3 شوٹر تھے، پہلے ہی کہاتھاکہ کچھ لوگوں نے حملے کا پلان بنایا تھا، معظم کو وزیر آباد میں قتل کیا گیا، معظم شہید کو شوٹر نے گونی نہیں ماری، اس پر کسی اور نے گولی چلائی، معظم کو قتل کرنے والے دراصل شوٹر کو قتل کرنا چاہتے تھے، مجھ پر حملہ کرنے والے شوٹر کو قتل کرنا تھا جیسے لیاقت علی کے قاتل کو قتل کیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قوم کی آواز سننے کی بجائے ہم پر تشدد شروع ہو گیا، جتنے ضمنی الیکشن ہوئے قوم نے بار بار پیغام دیا، انہوں نے سمجھا پی ٹی آئی کی حکومت گرائیں گے تو پارٹی ٹوٹ جائے گی، مشرقی پاکستان میں جو ہوا مجھے یاد ہے، پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن ایف آئی آر نہیں کٹوا سکے، کبھی نہیں سوچا کہ پاکستان کے علاوہ میرا کوئی گھر ہو، خون کے آخری قطرے تک اس ملک کیلئے لڑوں گا، تاریخ گواہی دے گی کہ عمران خان اپنے ملک کیلئے آخری گیند تک لڑتا رہا، انصاف ہو گا تو تھانہ، کچہری کی سیاست ختم ہو جائے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام اسمبلیاں تحلیل کریں گے اور اسلام آباد نہیں جائیں گے کیونکہ وہاں تباہی مچے گی، پارلیمنٹری پارٹی سے مشاورت کے بعد تاریخ کا اعلان کرینگے، اس کرپٹ نظام کا مزید حصہ نہیں بنیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close