Featuredپنجاب

ایران میں انقلاب آیا اس کا ہمارے معاشرے پر اثر ہوا، 79ء کے بعد جہاد کی ترویج شروع ہوئی، میجر جنرل آصف غفور

پی ٹی ایم ریاست پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا

راولپنڈی: آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بناکر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہوگیا، آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں، کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا۔

میڈیا بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے پاک بھارت کشیدگی، پشتون تحفظ موومنٹ، ملک کے ماضی و حال کے واقعات پر تفصیلی گفتگو کی اور اس دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

بریفنگ کے دوران میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو آپ ورغلا رہے ہیں ان کے دکھوں کا احساس ہے، اگر آرمی چیف نے پہلے دن پیار سے بات کرنے کی ہدایت نہ کی ہوتی تو ان سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہر کام قانون کے تحت ہوگا، آپ نے جتنی آزادی لینی تھی وہ لے لی، آپ نے مسنگ پرسنز کی لسٹ دے دی ہے، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو افغانستان میں بیٹھی ہے اس کی لسٹ ہمیں دے دیں، پھر ہم ڈھونڈیں گے کہ مسنگ پرسنز کہاں گئے۔

پی ٹی ایم ریاست پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا، منظور پشتین کا کون سا رشتہ دار قندھار میں بھارتی قونصلیٹ گیا: میجر جنرل آصف غفور

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم ریاست پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا، منظور پشتین کا کون سا رشتہ دار قندھار میں بھارتی قونصلیٹ گیا؟ پی ٹی ایم سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے پاس کتنا پیسہ ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا ‘این ڈی ایس’ نے آپ کو احتجاج رکھنے کے لیے کتنے پیسے دیے، اسلام آباد دھرنے کے لیے ‘را’ نے کتنے پیسے دیے اور یہ کیسے پہنچے، 8 مئی 2018 کو جلال آباد میں طورخم ریلی کیلیے کتنے پیسے لیے اور وہ کہاں سے آئے، حوالہ ہنڈی کے ذریعے دبئی سے کتنا پیسہ آرہا ہے، 31 مارچ 2019 کو ‘این ڈی ایس’ نے کتنے پیسے دیے اور وہ کیسے آپ تک پہنچے’۔

میجر جنرل آصف غفور نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی ایم کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے، لر اور بر سے آپ کا کیا تعلق ہے، ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے اور ٹی ٹی پی اور آپ کا بیانیہ ایک ہی کیوں بنتا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں: سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے، میجر جنرل آصف غفور

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوئے، حکومت پاکستان افغان حکومت سے بات چیت کر رہی ہے تو آپ کس حیثیت میں اُن سے (افغان حکومت) بات کررہے تھے کہ لاش حکومتی نمائندوں کو نہ دی جائ، آپ نے کس حیثیت میں کہا کہ قبیلے کو میت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم سے کوئی اعلان جنگ نہیں، حکومت ان سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بھاگ بھاگ کر امریکا، افغانستان اور بلوچستان چلے جاتے ہیں، مسائل فاٹا میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں کیمپ لگائیں اور بولیں حکومت اور فوج آئے پھر دیکھیں کون نہیں جاتا، ہم وہاں جاتے ہیں کام کرتے ہیں لیکن یہ کہیں اور گھوم رہے ہیں۔

ایک جماعت پی ٹی ایم کو سپورٹ کررہی ہے، بچہ تو راؤ انوار اُن کا تھا

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا ایک جماعت پی ٹی ایم کو سپورٹ کررہی ہے، بچہ تو راؤ انوار اُن کا تھا، پی ٹی ایم کو سپورٹ کر کے کئی سوال بھی اٹھا دیے۔

پاک بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے مسلسل جھوٹ بولا گیا اس کے باوجود ہم نے لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، بھارت کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا رویہ تبدیل کرنا ہے، جس رویے میں تبدیلی بھارت چاہتا ہے وہ نہیں ہوسکتا۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ 26 فروری کو بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ہم نے جواب بھی دیا، اس واقعے کو 2 ماہ ہوگئے لیکن بھارت کی جانب سے ان گنت جھوٹ بولے گئے، ہم نے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، جھوٹ کو سچ کرنے کیلیے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پلوامہ میں واقعہ ہوا اور یہ پولیس کے خلاف پہلا واقعہ نہیں تھا، اس جیسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے، ہم نے بھارت سے کہا کہ اگر کوئی ثبوت ہیں تو پیش کیے جائیں۔

ترجمان پاک فوج نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بالاکوٹ کا آپ نے ڈرامہ رچایا، ہم نے کاؤنٹر اسٹرائیک کی، آپ نے رات میں حملہ کیا، ہم نے دن میں جواب دیا۔

انہوں نے کہا کہ 28 فروری کو بھارت میزائل فائر کرنے کی تیار کر رہا تھا، بھارت اپنے میڈیا کو بتائے ہم نے کیا جواب دیا، اس رات ایل او سی پر کیا ہوا، ہماری فائر پلاٹون نے اُن کی گن پوزیشن کو کیسے نشانہ بنایا، کتنی گن پوزیشن شفٹ کرنا پڑیں، کتنے فوجی مارے گئے، یہ باتیں بھارت میڈیا کو بتائے۔

جب ملکی دفاع کی بات ہو تو ہم ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرسکتے ہیں

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت میں الیکشن چل رہے ہیں اس میں بہت باتیں ہوتی ہیں، بھارت کہتا ہے ہم نے دیوالی پر ایٹم چلانے کے لیے نہیں رکھا، جب ملکی دفاع کی بات ہو تو ہم ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرسکتے ہیں، اگر دل ہے تو بھارت اپنی صلاحیت آزما لے لیکن پہلے نوشہرہ کی اسٹرائیک کا تجربہ یاد رکھے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے کہانی بنائی کہ پہلے پاکستان نے دو پائلٹ بتائے پھر ایک کردیا، جب جنگ ہورہی ہے تو اسٹوری اپ ڈیٹ ہورہی ہوتی ہے، اسی بنیاد پر پہلے کہا کہ دو پائلٹ تھے لیکن جب صورتحال واضح ہوئی تو اس کی وضاحت کی کہ ایک پائلٹ پکڑا گیا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان کا ایف سولہ طیارہ گرایا، ایف 16 تو بڑی بات ہے موٹر سائیکل لگ جائے تو اس کی خبر بھی نہیں چھپتی، آپ کے امریکا سے بہت اچھے تعلقات ہیں، امریکا سے کہیں کہ پاکستان کے ایف 16 طیارے گن لیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ 1971 ہے، نہ وہ فوج اور نہ وہ حالات، اگر 1971 میں ہمارا آج کا میڈیا ہوتا آپ کی سازشوں کو بے نقاب کرسکتا، وہاں کے حالات اور زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔

ایران میں انقلاب آیا اس کا ہمارے معاشرے پر اثر ہوا، مدارس میں اضافہ ہوا، جہاد کی ترویج زیادہ ہوئی

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خطے میں انٹرنیشنل پراکسی چل رہی ہیں اس کے نتیجے میں 79 کے بعد جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ایران میں انقلاب آیا اس کا ہمارے معاشرے پر اثر ہوا، مدارس میں اضافہ ہوا، جہاد کی ترویج زیادہ ہوئی، افغانستان کی جنگ کو جائز قرار دے کر اس وقت کے لحاظ سے فیصلے کیے گئے، نائن الیون کے بعد جب صورتحال تبدیل ہوئی تو ہمارے خطے میں معاشی جنگ شروع ہوئی، چین امریکا سب کے اپنے مفادات ہیں، بین الاقوامی قوتوں نے اپنے مفادات کے لحاظ سے پاکستان کو پالیسی بنانے پر مجبور کرنا چاہا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ نائن الیون سے لے کر آج تک پاکستان نے کائنیٹک آپریشن کیے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں، القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی وغیرہ جس کا بھی نام لیں، ہم نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کائنیٹک آپریشن کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close