Featuredدنیا

داعش ارکان میں سب سے زیادہ سعودی شہری ہیں، قطر نے سعودی عرب کا پول کھول دیا

دوحہ: قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم آل ثانی نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف سے گفتگو میں کہا کہ داعش ارکان کے زیادہ تر عناصر سعودی ہیں۔ قطر کے سابق وزیر اعظم نے ڈیلی ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا محاصرہ کرنے والے خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، دہشت گردوں کا بہانہ بنا کر قطر کے خلاف حملہ کرکے اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کی کوشش میں ہیں ۔

بن جاسم نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ داعش کا ایک بڑا حصہ سعودی عناصر پر مشتمل ہے، کہا کہ وہ ہم پر دہشت گردی اور ان جیسا جھوٹا الزام ایسی حالت میں لگا رہے ہیں کہ جب ایک بھی عالمی تنظیم نے واضح طور پر ان کے دعوے کی حمایت نہیں کی ہے۔ امریکا اور یورپ کے کسی بھی ادارے نے ہم پر دہشت گردی کا الزام عائد نہیں کیا بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہی ہیں جو یہ راگ الاپتے رہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہم پر دہشت گردی کے الزام عائد کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موضوع، مغرب کی ترجیحات ہے اور امریکا نیز یورپ سبھی یہی چاہتے ہیں کہ جب بھی دہشت گردی کے مسئلے پر بات ہوتی ہے تو اسے سنا جاتا ہے ۔قطر کے اس سابق عہدیدار نے کہا کہ قطر پر پابندی اور ناکہ بندی کے دو سال گزرنے کے بعد ہم کو یہ تک پتہ نہیں کہ وہ ہم پر کیا الزامات عائد کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں سیکیورٹی فورسز کی عمارت پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شامل 19 دہشت گردوں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب، 2 کا تعلق متحدہ عرب امارات، ایک کا مصر سے اور ایک کا تعلق لبنان سے تھا ۔

بن جاسم نے کہا کہ کیا ہمیں نہیں کہنا چاہئے کہ ان پندرہ سعودی شہریوں کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حکومتوں کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل تھی ؟ کیا ہمیں خاموش رہنا چاہئے کہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارتخانے نے ان افراد کے پرسنل اکاونٹ میں رقوم منتقل کی تھی ۔قطر کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب کے کتنے زیادہ بے روزگار افراد داعش میں شامل ہیں ؟ داعش میں شامل زیادہ تر عناصر سعودی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو چاہئے کہ مل کر سعودی عرب کی حمایت کریں کیونکہ اس میں میں استحکام اور قیام امن، علاقے کے لئے اہم ہے تاہم اس کے ساتھ ہی انہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ سعودی عرب کو قطر سمیت تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن اور اچھے تعلقات رکھنے چاہئے ۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے 5 جون 2017 سے قطر پر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرکے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیئے تھے اور اس ملک کے لئے اپنی زمینی،ہوائی اور سمندری سرحدوں کو بھی بند کر دیا تھا ۔ ان تینوں ممالک نے دوحہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لئے 13 شرطیں رکھی تھیں تاہم دوحہ نے ان شرطوں کو اپنی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کسی پر بھی عمل نہیں کیا ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close