More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلاگ

کورونا وائرس یا کورونا المیہ ۔۔۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ یہ کورونا وائرس ہے یا یہ کورونا انسانی المیہ ہے۔۔۔؟؟

تحریر: اسکالر خطیب علّامہ سیّد شہنشاہ حسین نقوی

گزشتہ دِنوں وزیر اعظم پاکستان جناب محترم محمد عمران خان کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ ایران میں وبا کے پھیل جانے پر مریضوں کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رہی تھی، جس کی وجہ سے اپنے لوگوں کو واپس لانا پڑا۔

راقم الحروف دیکھ رہا تھا کہ چند دوستوں نے برادر اسلامی ملک ایران سے زائرین کی واپسی کو پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ یہ جھوٹ بولا کہ ایران نے پاکستانیوں کو رکھنے سے انکار کیا او رپاکستان سے کہا کہ اپنے لوگ واپس بُلالیں، جبکہ وزیراعظم کے مطابق ایران کرونا سنبھالنے کی صلاحیت کھوچکا تھا، اس لیے اپنے شہری واپس بلائے کہ وہاں مر نہ جائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایران کیوں کرونا کو نہیں سنبھال پایا؟ اِس پر غور فرمائیں۔۔۔

ایک ایسا گھر جس کے دس افراد میں سے تین مریض ہَوں اور گھر میں فاقے چل رہے ہَوں، وہاں مریض کے مرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ بھوک، فاقے اور علاج کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے۔ یہی مسئلہ ایران کا ہے۔ایران پہ پہلے ہی امریکی پابندیاں 1979ء میں لگیں ۔ تب سے لے کر آج تک ایران مسلسل پابندیوں میں جی رہا ہے۔اوبامہ نے ایٹمی ڈیل کے بعد جب پابندیاں اُٹھائیں تو صرف ایک سال میں ایرانی جی ڈی پی منفی سے اُٹھ کر تیرہ پر چلی گئی تھی، مگر دو سال بعد ٹرمپ نے پھر پابندیاں لگادیں۔

راقم الحروف کتنے ہی لوگوں کو ایرانیوں کو بلا سوچے سمجھے نامناسب جملے کہتے دیکھ کر ان کی جہالت کا مشاہدہ کرچکا ہے۔ چلیں آج دیکھتے ہیں کہ یہ ایرانی دراصل ہیں کون۔۔۔۔؟ یہ جی کیسے رہے ہیں اور ان کا قصور کیا ہے؟تھوڑی سی دیر کے لیے فرض کریں کہ آپ بازار جاتے ہیں اپنے بچوں کے لیے روٹی لینے، آپ روٹی خریدتے ہیں اور ایک روٹی کی قیمت آپ کو 6500روپے ادا کرنی پڑتی ہے۔ دیانت داری سے جواب دیں، اپنے بچوں کو کتنے وقت کی روٹی اِس قیمت پر کھلا سکیں گے۔۔۔۔؟ شاید بمشکل ایک یا دو دن۔ اِس کے بعد آپ دشمن کے آگے ہتھیار پھینک کر ہاتھ کھڑے کردیں گے۔

ایرانی چالیس برسوں سے اپنے بچوں کو روٹی کم و بیش اِسی قیمت پر کھلا رہے ہیں۔ بات واضح نہیں ہوئی پوری ،پاکستان میں ڈالر 162روپے تک پہنچا تھا، ہماری چیخیں کہاں تک پہنچی تھیں۔ ہم پہ تو ایران کی طرح پابندیاں بھی نہیں تھیں ،پھر بھی یہاں کے لکھ پتی گھرانوں کو روتے دیکھا تھا۔ ایران میں ایک ڈالر کی قیمت آج اِس وقت بھی 42ہزار ریال سے زیادہ ہے۔ تو سوچیں، وہ کس طرح گزارہ کررہے ہوں گے۔۔۔؟؟!!کیا اُن کو بھی چیختے دیکھا۔۔۔؟؟

سن 1978ء میں ایران وہ ملک تھا جو افغانستان کو امداد دیتا تھا، مگر اُس وقت ایران امریکی کالونی تھا۔ عورتیں نیم عریاں پھرتی تھیں۔ زنا، شراب ، جوا وغیرہ ،سرکاری سطح پر یہ بُرے کام نہیں سمجھے جاتے تھے۔ امریکا کے اس پرچم تلے سعودی عرب اور ایران سب ایک تھے۔ یعنی اُس وقت سعودی عرب او رایران کے تعلقات بہتر تھے، یہ کافرانہ فتوے نہیں تھے ،کیوں کہ بے دِینی پر تو اعتراض ہوتا نہیں ہے جیسے ہی قرآن وسُنّت ،نبیؐ اور سیرتِ آئمہ اہلِ بیت ؑ کا نظام نافذ العمل ہوا، امریکا کے مذہبی گماشتوں کو تکفیری رنگ چڑھنے لگا۔

پھر آیۃ اللہ رُوح اﷲ موسوی الخمینیؒ آئے۔۔۔ اور ایران سے کچھ غلطیاں ہوگئیں۔ یعنی امریکا کے سامنے سر اُٹھانے کی غلطی، فلسطین واپس مانگنے کی غلطی، اسلامی نظام نافذ کرنے کی غلطی، اور سب سے بڑی غلطی کہ اب ہمیں امریکی کالونی نہیں بننا۔ وہ دن اور آج کا دن ہے، ایران امریکا کے سامنے سراُٹھائے کھڑا ہے۔ اُمّت کے کثیر ملکوں کی نامناسب باتیں بھی جھیل رہا ہے، فاقے بھی کررہا ہے۔ قاسم سلیمانی جیسے نڈر اور مجاہد فی سبیل اللہ جرنیل بھی قربان کررہاہے، مگربفضلِ تعالیٰ جھکنے پر راضی نہیں ہے۔

راقم الحروف جانتا ہے کہ (خدا نہ خواستہ) لاکھوں نہیں تو ہزاروں ایرانی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر کرونا وائرس میں جاں بحق ہوجائیں گے مگر امریکا سے بھیک نہیں مانگیں گے۔ گردن نہیں جھکائیں گے۔ اُصولاً جتنا ایرانی بھگت چکے ہیں، وہ امریکا کے سامنے سرجھکالیں تو بھی دُکھ نہیں۔ جس ملک کے شہری کو ایک انڈے کی قیمت 68ہزار ریال ادا کرنی پڑے، وہ کیا امریکا سے فلسطین کے لیے لڑتا ہُوا اچھا لگتا ہے۔۔۔؟

باقی رہ گئے یہ فرقہ پرستی کے مارے چند لوگ، تو سچ کہوں تو اِنھیں دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کرونا ہی اِن جیسے لوگوں کا بہترین علاج ہے۔ اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی اوقات دیکھو، تمہارے بڑوں نے تیل اور سعودی ریال کی طاقت کے باوجود پوری دُنیا کے مسلمانوں کو ملک چھوڑنے کے لیے صرف دو دن کی مہلت دی تھی، کیا ایرانیوں نے بھی ایسا کیا۔۔۔؟؟!! یقینا یہ زمینی حقائق لمحاتِ فکریہ ہیں۔۔۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

حالات پست بھی ہَوں تو ہمت رہے بلند
انسان جس زمیں پہ رہے، آسماں رہے

لہٰذا عزیزو! حقائق کو اُن کے اصل تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ منفی پروپیگنڈے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ہمیشہ زندگی کے ہر معاملے میں تصویر کا روشن رُخ ہی دیکھنا چاہیے۔
کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے۔۔۔ اِس وقت نہایت احتیاط کی ضرورت ہے اور رہے گی۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے، تاہم اِس وقت یہ امر بھی نہایت اہم اور ضروری ہے کہ انسانی اقدار کی پامالی سے حتی المقدور بچیے۔

ایک دوسرے سے ضروری فاصلے کے ساتھ بھی ملنے سے روکنا، جنازے میں شرکت سے روکنا، مریضوں کو تڑپتے ہوئے دیکھنا اور اُن کے قریب نہ جانا کہ کہیں ہمیں بھی یہ وائرس نہ لگ جائے ۔۔۔۔ یہ رویّے انتہائی نامناسب اور غیر انسانی ہیں۔ دِینی اور انسانی اقدار کی سربلندی بہرحال ضروری ہے۔ اِن کی پامالی اگر ہوگی تو بارگاہِ ربّ العزت میں باز پُرس یقینی ہے۔
عزیزانِ گرامی! اپنے دل اور اپنی رُوح میں دوسرے کی خاطر جینے کا جذبہ ایجاد کیجیے۔ یہ موجودہ دَور کا اوّلین تقاضا ہے۔ منفی پہلوئوں سے بچیے۔ مساجد اور امام بارگاہوں کے حوالے سے بعض لوگ منفی گفتگو کررہے ہیں۔ یہ انتہائی نامناسب رویّہ ہے۔ اِس سے لازمی گریز کریں۔ اِس وقت زندگی جس نہج پر ہے، اُس میں منفی اور متعصّب رویّوں کے بجائے مثبت اور تعمیری رویّے اپنائیے ۔ جوڑنے کی بات کیجیے۔ ایک دوسرے کام آئیے۔ غریبوں اور ضرورت مندوں کی حتی الامکان مدد کیجیے۔ ڈاکٹرز، نرسز،پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایسے لوگوں کے حتی المقدور کام آئیے جو انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے روکنے کی بھرپور سعی کررہے ہیں۔

ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اولڈ ہاؤسز کے حوالے سے پہلے ہی ہم پریشان تھے۔ضعیف العمر والدین جنھوں نے بے انتہا محنت اور مشقت کے ساتھ اپنے بچوں کو پالا پوسا، جوان کیا۔۔۔ کسی قابل کردیا،اور اب اُن کے ساتھ اُن کی اولاد اِس وائرس کے تناظر میں نا روا سلوک کررہی ہے ۔۔۔بے انتہا افسوس اور رنج کا مقام ہے ۔میں ایک اہم میٹنگ میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک معتبر شخصیت نے ہمیں بتایا کہ ایک جوان کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اُس نے اپنے ضعیف والدین کو ایک کمرے میں بند کردیا ہے، وہیں اُنھیں کھانا اور پانی وغیرہ ایک کھڑکی سے دے دیا جاتا ہے ،اُس کا کہنا ہے کہ کہیں ہمیں بھی کرونا نہ لگ جائے ۔۔۔
میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ یہ کرونا وائرس ہے یا یہ کرونا انسانی المیہ ہے۔۔۔؟؟!!

موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں یہ چار مصرے ذوقِ مطالعہ کے لیے پیش کررہا ہوں

وہ تعفن ہے کہ اِس بار زمیں کے باسی
مسجدیں بند ہوئیں، رِزق کمانے سے گئے
دل تو پہلے ہی جدا تھے میری بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

دِینی اور انسانی اقدارکی پامالی، اِسے کلچرل اٹیک کہیں یا بایو ٹیرراِزم یاکچھ اور، یہ وبا مصنوعی ہے یا قدرتی ، یہ وقت طے کرے گا۔
مساجد اور امام بارگاہوں کا بند ہونا اگرچہ انتہائی تکلیف دہ ہے، تاہم غیر معمولی وبا یا قحط وغیرہ کی صورتِ حال میں ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے۔تاریخ میں کب کب وبا کی بنا پر مساجد بند کرنا پڑیں،اِس کا بھی ذرا جائزہ لیتے ہیں۔موجودہ حالات میں بعض لوگوں کے مختلف دعووں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کبھی مساجد کو بند نہیں کیا گیا، اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ ابن الجوزی449ہجری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جمادی الآخر میں اِن شہروں اُندلس،آذر بائیجان، کوفہ وغیرہ میں ایسی خطرناک وبا پھیلی کہ ایک صوبے سے ایک ہی دن میں اٹھارہ ہزار جنازے اٹھائے گئے، لوگ شہروں میں جاتے تھے تو بازاربند ہوتے تھے ،راستے خالی ہوتے تھے، دروازے بند ہوتے تھے اور اکثر مساجد جماعتوں سے خالی ہوگئی تھیں۔‘‘(المنتظم ،جلد17،ص16،18)
ذہبی نے 448ہجری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:’’مصر اور اُندلس میں شدید قحط پڑگیا۔ ایسا قحط اور وبا قرطبہ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی، حتیٰ کہ مساجد کو تالے لگ گئے کہ کوئی نماز پڑھنے والا نہ تھا اور اُس سال کانام جوع الکبیر کا سال پڑگیا۔‘(سیر اعلام النبلاء،ص311،18)
مقریزی نے 749ہجری میں مصر میں طاعون کی وبا کا ذکرکیا اور کہا:’کئی جگہوں سے اذان بھی معطل ہوگئی، صرف ایک مشہور جگہ اذان دی جانے لگی ، اور اکثر مساجد اور عبادت گاہیں بند کردی گئیں۔‘(السلوک المعرفۃدول الملوک،ص4،88)
ابنِ حجر عسقلانی نے لکھا ہے:’827ہجری کے اوائل میں مکّے میں ایک بڑی وبا پھیلی جس سے ایک ایک دن میں چالیس چالیس اموات ہونے لگیں، حتیٰ کہ ربیع الاوّل تک سات لاکھ لوگ لقمۂ اجل بن گئے، یہ کہا جاتا ہے کہ اُن ایّام میں مکّے کے امام کے ساتھ صرف دوو آدمی نماز پڑھنے والے ہوتے تھے۔باقی ائمہ نے نماز ی نہ ہونے کے باعث اپنی جماعت ختم کردی تھی۔‘(انباء الغمر،ص326،3)
پاکستان میں صورتِ حال الحمدللہ اِتنی خراب نہیں ہے، اِن شا ء اللہ العزیز اب اندازہ ہورہا ہے کہ معاملات سب کی پُر خلوص کوششوں، کاوشوں کے نتیجے میں بہتری کی طرف تبدیل ہوتے جائیں گے۔
اپنے رب سے اپنا رابطہ زیادہ سے زیادہ بڑھائیے۔ وہ مسبّب الاسباب بھی ہے اور خالق الاسباب بھی ہے ۔اہلِ بیتِ عظّام ؑ سے توسّل اختیارکرتے رہیں۔قرآنِ کریم کی تلاوت اور ترجمے کا مطالعہ اپنی زندگی کا معمول بنالیجیے ۔رفاہی اور فلاحی کاموںمیں حصہ لینے کے لیے یا بسلسلۂ روزگاراگر کبھی گھر سے بہت ضروری نکلنا ہو تومقررہ اوقات میںآیۃ الکرسی پڑھ کرنکلیے۔قرآن حکیم میںایسی تاثیر ہے کہ رات کو پڑھیں گے تو صبح تک محفوظ اور صبح کو پڑھیں گے تو رات تک یقینی طور پرمحفوظ رہیں گے ۔
صدقہ ردِّبلا ہے۔ حسب استطاعت اور حسب توفیق صدقہ برابر دیتے رہیے۔ حکومت پاکستان اور ساری قوم کو کرونا وائرس کے خلاف مل کرجہاد کرنا ہے۔ حکومت خواہ صوبائی ہو یا وفاقی، اُس کے صحیح کاموں میں اُس کا بھرپور ساتھ دیجیے۔ انتخابات کے موقع پر سیاستدانوں کے پاس ہر علاقے کی ووٹوں کی پرچیاں بھی ہوتی ہیں، اُنھیں ہر گھر کے افراد اور اُن کی تعداد کا بھی علم ہوتا ہے، لہٰذا اُتنی تعداد میں سینی ٹائزر، ماسک اور حسب ضرورت راشن پہنچا کر بھی سیاست کی جاسکتی ہے۔

تنقید برائے تنقید سے گریز کیجیے۔ اگر تنقید کرنی ہے تو تعمیری اور اصلاحی تنقید کیجیے۔کسی شاعر نے کیا عمدہ کہا ہے
احساس مر نہ جائے تو اِنسان کے لیے
کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

’نہج البلاغہ میں حضرتِ مولا علی مرتضیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں،’دِین کا رشتہ سب سے حاکم رشتہ ہے۔ دِینی قدریں ہی درحقیقت اِنسانی قدریں ہیں۔ اِن کی حتی المقدور اور حتی الامکان پاسداری ہی اِس وقت اوّلین تقاضا ہے اور یہی انسانیت اور دِین کی آواز ہے۔

کورونا وائرس جو ایک عالمی وبا ہے، ایک خطرہ ہے مگر اِس سے بچائو ممکن ہے۔ تمام عمر اور جنس کے افراد خاص طور پر ایسے افراد جن کی قوّتِ مدافعت کمزور ہواور وہ بار بار بیمار پڑتے ہوں، کرونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

جان لیواعالمی وبا کورونا وائرس سے بچائو ممکن ہے۔

جان لیواعالمی وبا کورونا وائرس سے اس طرح بچاسکتا ہے۔

رش والے مقامات سے گریز کریں ۔

کھانسی اور چھینک سے متاثرہ شخص سے دُور رہیں۔

اپنے ہاتھوں کو صابن اور صاف پانی سے اچھی طرح دھوئیں،سینی ٹائزر اور دستانوں کا استعمال رکھیں

پانی کا استعمال بڑھائیں، ہر آدھا گھنٹے بعد پانی ضرور پئیں۔ (5) قوتِ مدافعت بڑھانے والی غذائیں اور سپلیمنٹس کا استعمال کریں۔
اﷲ تبارک و تعالیٰ آپ سب کو اس وائرس سے محفوظ اور اپنے فضل و کرم کے سائے میں رکھے ۔ (آمین)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close