Featuredسندھ

شہید ذوالفقارعلی بھٹو کی قربانی کبھی فراموش نہیں کریں گے

کراچی: کورونا وائرس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے شہید بھٹو کے وژن کی پیروی کرنی ہوگی۔

بلاول بھٹو زرادری نے کہا کہ شہید بھٹو کے پیغام میں یقین رکھنے والے تمام لوگ اور پیپلز پارٹی کسی بھی بحران میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹو عوامی لیڈر کے عدالتی قتل کو 40 برس بیت گئے۔

جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ذوالفقارعلی بھٹو سے کچھ سیاسی غلطیاں ضرور ہوئیں مگر بھٹو کو پھانسی دینے والے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کا پاکستانی سیاست میں ذکر بھی موجود نہیں ہے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 2007ء میں راولپنڈی میں قتل کر دی گئی تھیں۔

پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورپیپلزپارٹی کی پوری قیادت کا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے کيلی فورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے۔
ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔
1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔
بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیےگئے تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close