More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلاگ

کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

فزت و رب الکعبہ؛ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا

جو لوگ اس جہاں میں اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں وہی حقیقت میں کامیاب ہیں۔

تحریر: فخر زیدی

مشکل کشا مولا علی علیہ السلام کی ایک اور انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی ولادت خانہ کعبہ جبکہ شہادت خانہ خدا یعنی مسجد میں ہوئی۔

19 رمضان کی غمگین سحر جب عبدالرحمن ابن ملجم نے محراب مسجد کو مولائے کائینات علیہ السلام کے مقدس لہو سے رنگ ڈالا تھا۔

19 رمضان کی وہ خونی سحر آج بھی افسردہ کیئے ہوئے ہے جب دشمن خدا، عبدالرحمن ابن ملجم ملعون نے محراب مسجد کو مولائے کائینات علیہ السلام کے مقدس لہو سے رنگ ڈالا تھا۔

امام علی علیہ السلام کو جب ضربت کا احساس ہوا، فرمانے لگے: بسم اللّہ و باللّہ و علی ملۃ رسول اللّہ، فزت برب الکعبہ۔

جب کوفہ میں آپ پر حملے کی خبر پھیلی تو ایسا ہی محسوس ہوا کہ اچانک زمین و آسمان میں تلاطم برپا ہوا اور اس تلخ واقعے سے خدا کے مومن بندوں کے دل غم و اندوہ سے لبریز ہوگئے۔ جبرئیل امین نے زمین و آسمان کے درمیان ندا دی۔ خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔ آسمان کے ستارے تاریک ہوگئے اور پرہیزگاری کی نشانیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ خدا کی قسم ایمان و ہدایت کی مضبوط زنجیر ٹوٹ گئی۔ محمد ؐکے چچازاد بھائی اور انکے وصی کی شہادت ہوگئی۔ ہاں اب ستاروں کی بینائی، علی ؑ کے عابدانہ آنسوؤں کا نظارہ نہیں کرسکیں گی اور آسمان کی سماعت انکی عاشقانہ مناجات نہیں سن سکے گی، امت مسلمہ انکے بلیغ خطبات سے محروم ہو جائیگی، اب کون دعویٰ سلونی کریگا۔؟

فرزند ابو طالب، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو بعض ایسے شرف اور فضائل حاصل ہیں، جو کسی بھی اور شخصیت کو نصیب نہیں ہوئے۔ آپ پروردہ نبوت ہیں، اس لئے کہ ابھی بچے تھے کہ نبی کریمؐ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب ؑ سے آپ کو گود لے لیا، حضرت ابو طالب ؑ نے نبی آخر کی پرورش فرمائی تھی، اپنے پاس رکھنے کے بعد امام علی ؑ کی پرورش اور نشوونما آنحضرتؐ ہی کے زیرسایہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ کسی اور انسان کو آنحضرتؐ کے زیرسایہ اتنی وقت گذارنا اور صحبت رکھنا نصیب نہیں ہوا، جتنا امیرالمومنین حضرت علیؑ کو موقعہ ملا۔

حضرت علی ؑ خود فرماتے ہیں کہ میں نبی کریمؐ کے ساتھ یوں ہوتا تھا جیسے اونٹنی کے ساتھ اس کا بچہ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے آنحضرتؐ نے اس طرح سے علم دیا، جیسے فاختہ دانہ دانہ کرکے اپنے بچے کو دیتی ہے۔ حضرت علی ؑ کا کہنا ہے کہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو میں غار حرا میں آنحضرت ؐکے ساتھ تھا۔ اس موقع پر میں نے ایک زبردست چیخ سنی تو میں نے آنحضورؐ سے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ شیطان کی چیخ ہے۔ پھر فرمایا: علی! جو میں دیکھتا ہوں، اگرچہ وہ تم نہیں دیکھتے، لیکن جو میں سنتا ہوں، وہ تم بھی سنتے ہو۔

امیرالمومنین کے اتنے فضائل ہیں کہ گننا اور شمار کرنا ممکنات میں سے نہیں، یہ علی ؑ ہی تھے، جن کا مسجد نبوی میں کھلنے والا دروازہ رسول خدا نے بند نہیں کیا تھا، جبکہ دیگر صحابہ کے دروازے بند کر دیئے گئے تھے، آپ کی پاکدامنی اور عصمت کی گواہی قرآن نے دی تھی ، قرآن اس کا گواہ ہے کہ صرف علی ؑ ہی تھے، جنہوں نے اعلان نبوت سے پہلے بھی کوئی نادانی یا معصیت کاری نہیں کی تھی، نجانے کیسے لوگ محسن اسلام حضرت ابو طالب کے اس فرزند کیساتھ بغض و کینہ رکھتے ہوئے ناقابل قبول اور من گھڑت ضعیف روایات جنہیں خارجی اور ناصبیوں نے روایات کیا ہے کے سہارے آپ کے مقام و منزلت پر وار کرتے ہیں۔

ان لوگ کا شمار ان منافقین میں ہی ہوتا ہے، جنہیں زمانہ نبوت میں مسلمان پہچاننے کیلئے علی ؑ کا نام لیا کرتے تھے، ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک دن وہ گرفت میں آجائیں گے، تب انہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا، اس لئے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی حکومت ایک دن ختم ہوگی اور امام مہدی ؑ کا دور شروع ہوگا، جس میں عدل قائم ہو گا اور اہلبیت ؑ کے ساتھ تعصب کرنے والے اور ان کا دل دکھانے والوں کو ان کی کیئے کی سزا دی جائے گی۔

امیر المومنین حضرت علی ؑ انییسویں ماہ رمضان کو نماز صبح کی ادائیگی کے لئے مسجد کوفہ کی جانب گئے، جہاں اپنے وقت کا سب سے شقی ترین شخص ابن ملجم مرادی خارجی زہر میں بجھی تلوار لئے امام ؑ کی آمد کا منتظر تھا، تاکہ کائنات کی اس برترین شخصیت اور تاریخ انسانیت کے سب سے عظیم انسان کے فرق مبارک کو شگافتہ کرے۔ عبدالرحمان ابن ملجم ملعون نے انیسویں کی شب (فجر) میں آپ کے سر پر زہر میں بجھی تلوار سے ضربت لگائی اور دو روز تک موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد اکیس ماہ رمضان سن چالیس ہجری قمری کو آپ اپنی دیرینہ آرزو یعنی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ آپ کی زبان مبارک نے اس وقت یہی کلمات ادا کئے، فزت و رب الکعبہ(رب کعبہ کی قسم علی ؑ کامیاب ہوگیا) عربی قصیدہ جو حضرت محمد ابن ادریسؒ المشہور امام شافعی کا ہے۔ ان کے صرف دو تین اشعار درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

ان کان حب الولی رفضا فانتی ارفضی اطحیادی
ترجمہ: اگر علی ؑ کی محبت رفض ہے تو پھر میں تمام بندگان خدا سے زیادہ رافضی ہوں
لو ان المرتضیٰ ایدی محلہ لکان الخلق طرا سجدا الٰہ
ترجمہ: اگر علی ؑ اپنے رتبے کو ہی اپنے پہ ظاہر کر دیتے تو مخلوق ان کو سجدہ کرنے لگتی
و مات الشافعی فلیسی یدری علی رب ام رب اللہ
ترجمہ: شافی اس جستجو میں مرگیا کہ علی ؑ اس کا خدا ہے یا رب اس کا خدا ہے۔
اور شاعر نے آپ کی زندگی کا احاطہ اس شعر میں خوب کیا ہے:
کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

جس وقت آپ پر تلوار کا وار کیا گیا، اس وقت آپ ؑ نہایت ہی خضوع و خشوع کے عالم میں نماز صبح کی ادائیگی میں مشغول تھے اور اپنے خدا سے رازو نیاز کر رہے تھے، آپ کی خشوع و خضوع کا یہ عالم تو تاریخ نے لکھا ہے کہ جب آپ کے پاؤں میں ایک جنگ کے دوران تیر پیوست ہوگیا تو رسول خدا ؐ نے فرمایا کہ ابھی چھوڑ دو تکلیف ہوگی، جب نماز پڑھیں تو اس وقت نکال لینا، شائد اس انہماک اور خشوع و خضوع کا علم ابن ملجم اور اس کو بھیجنے والوں کو بھی بخوبی تھا، لہذا جیسے ہی آپ نے اپنا سر سجدہ معبود میں جھکایا تو شقی ابن ملجم نے اپنی تلوار اٹھائی اور اس فاتح بدر، خندق، خیبر و احد کے سر پر ضرب لگائی، کوئی بھی اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ کا مقابلہ سامنے آکر کرے، جس کی تلوار ذوالفقار کے کمالات کی دنیا معترف ہو، اس کا سامنا کرنے کی کس میں جرات تھی؟ امیر المومنین علی ؑ کی تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا، کی چمک سے دشمنان اسلام کے دل لرز اٹھتے تھے۔

جب کوفہ میں آپ پر حملے کی خبر پھیلی تو ایسا ہی محسوس ہوا کہ اچانک زمین و آسمان میں تلاطم برپا ہوا اور اس تلخ واقعے سے خدا کے مومن بندوں کے دل غم و اندوہ سے لبریز ہوگئے۔ جبرئیل امین نے زمین و آسمان کے درمیان ندا دی۔ خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔ آسمان کے ستارے تاریک ہوگئے اور پرہیزگاری کی نشانیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ خدا کی قسم ایمان و ہدایت کی مضبوط زنجیر ٹوٹ گئی۔ محمد ؐکے چچازاد بھائی اور ان کے وصی کی شہادت ہوگئی۔ ہاں اب ستاروں کی بینائی، علی ؑ کے عابدانہ آنسوؤں کا نظارہ نہیں کرسکیں گی اور آسمان کی سماعت ان کی عاشقانہ مناجات نہیں سن سکے گی، امت مسلمہ ان کے بلیغ خطبات سے محروم ہو جائے گی، اب کون دعویٰ سلونی کرے گا۔؟

آپ کی وصیت جسے امام حسن ؑ کے نام لکھا گیا ہے، اس کا مطالعہ ہر ایک کیلئے بہت ہی سود مند ہے، اس میں بھی امام ؑ نے وہ حقائق کھولے ہیں، جو واقعی ایک باپ کو اپنے فرزند اور اولاد کیلئے بیان کرنے اور متوجہ کرنے کی ضرورت رہتی ہے، صرف مختصر طور پر ایک پہرہ حاضر ہے۔ فرزند! یاد رکھو کہ میری بہترین وصیت جسے تمہیں اخذ کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اس کے فرائض پر اکتفا کرو اور وہ تمام طریقے جن پر تمہارے باپ دادا اور تمہارے گھرانے کے نیک کردار افراد چلتے رہے ہیں، انہیں پر چلتے رہو کہ انہوں نے اپنے بارے میں کسی ایسی فکر کو نظرانداز نہیں کیا، جو تمہاری نظر میں ہے اور کسی خیال کو فرو گذاشت نہیں کیا ہے اور اسی فکرونظر نے ہی انہیں اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ معروف چیزوں کو حاصل کر لیں اور لایعنی چیزوں سے پرہیز کریں۔ اب اگر تمہارا نفس ان چیزوں کو بغیر جانے پہچانے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر اس کی تحقیق باقاعدہ علم و فہم کے ساتھ ہونی چاہیے اور شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور نہ جھگڑوں کا شکار ہونا چاہیے اور ان مسائل میں نظر کرنے سے پہلے اپنے پروردگار سے مدد طلب کرو اور توفیق کے لئے اس کی طرف توجہ کرو اور ہر اس شائبہ کو چھوڑ دو، جو کسی شبہ میں ڈال دے یا کسی گمراہی کے حوالے کر دے۔ پھر اگر تمہیں اطمینان ہو جائے کہ تمہارا دل صاف اور خاشع ہوگیا ہے اور تمہاری رائے تام و کامل ہوگئی ہے اور تمہارے پاس صرف یہی ایک فکر رہ گئی ہے تو جن باتوں کو میں نے واضح کیا ہے، ان میں غور و فکر کرنا، ورنہ اگر حسب منشاء فکرونظر کا فراغ حاصل نہیں ہوا ہے تو یاد رکھو کہ اس طرف صرف شب کور اونٹنی کی طرح ہاتھ پیر مارتے رہو گے اور اندھیرے میں بھٹکتے رہوگے اور دین کا طلبگار وہ نہیں ہے، جواندھیروں میں ہاتھ پاؤں مارے اور باتوں کو مخلوط کر دے۔ اس سے تو ٹھہر جانا ہی بہتر ہے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close