More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredسندھ

شہرقائد: کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 25 افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں

کے الیکٹرک کا غلطی ماننے سے انکار

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کراچی: اب تک مون سون بارشوں کے باعث کرنٹ لگنے سے 25 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

کراچی میں 6 جولائی سے شروع ہونے والے بارشوں کے 4 اسپیلز میں 25 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔

کارساز روڈ پر بجلی کی تار گرنے سے موٹر سائیکل سوار پچاس سالہ محمد رفیق جاں بحق ہوا۔ کریم آباد میں مسجد کے قریب سے گزرنے والا شخص کرنٹ لگنے سے جان سے گیا۔

ملیر ماڈل کالونی اور ہجرت کالونی میں دو افراد کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن گئے۔ ناگن چورنگی کے مسلم ٹاؤن میں ایک بچہ اور ناگن چورنگی کے قریب 30 سالہ شخص کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا۔

مون سون کے دوسرے اسپیل میں ایک پولیس اہلکار ارشد علی اور کلفٹن نیلم کالونی میں عابد حسین نامی شخص کرنٹ لگنے سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

بارشوں کے تیسرے اسپیل میں گارڈن فوارہ چوک کے قریب 55 سالہ یوسف، لانڈھی قذافی ٹاؤن میں 22 سالہ عثمان اختر اور گلشن حدید فیز ٹو میں 10 سالہ بچہ ارباب کرنٹ لگنے سے زندگی کی بازی ہار گئے۔ بارشوں نے انٹر کے طالبعلم ولید مجید کی بھی جان لے لی۔

مون سون کے چوتھے اسپیل میں کے الیکٹرک نا اہلی کے باعث مزید 14 افراد جان سے گئے۔

اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11 میں کے الیکٹرک کی ہائی ٹینشن وائر کی زد میں آکر 38 سالہ بلال جاں بحق ہوا۔ مہران ٹاؤن میں19 سالہ احتشام اور ابراہیم حیدری میں 60 سالہ پپو کی زندگی کے چراغ بجھ گئے۔

لیاقت آباد ایف سی ایریا میں 5سالہ جواد، جوڑیا بازار میں 30 سالہ منصب خان اور بلدیہ اتحاد ٹاون میں 18 سالہ لڑکا شاہد بھی موت کے منہ میں چلے گئے۔ مدینہ کالونی میں 6سالہ عبدالرحمن زندگی کی بازی ہار گیا۔

گلشن اقبال میں 28 سالہ سرفراز، سٹی کورٹ کے قریب 20سالہ جواد جبکہ سول اسپتال کے قریب 8سالہ انس کرنٹ لگنے سے جان سے گئے۔ ماڈل کالونی میں 27سالہ محمد بلال اور لیاری میں 30سالہ شخص جاں بحق ہوا، لانڈھی میں دکان کے شٹر سے کرنٹ لگنے سے 18

سالہ قیصر اور لیاری نیا آباد میں کرنٹ لگنے سے 32 سالہ شگفتہ جان سے گئیں۔

تاہم کے الیکٹرک نے ان تمام ہلاکتوں کی ذمہ داری لینے یا تحقیقات کرانے کے بجائے ہلاک ہونے والوں کی اپنی غلطی قرار دیا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close