More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredانٹرٹینمنٹ

اب فلموں میں ہیروز کی گرل فرینڈز ہی کاسٹ کی جا رہی ہیں

غیر مہذب کرداروں کی وجہ سے 30 فلمیں ٹھکرائیں، ملکا شراوت

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

 بولی وڈ: بولڈ پرفارمنس اور آئٹم گانوں میں جلوے دکھانے والی اداکارہ ملکا شراوت نے انکشاف کیا ہے ماضی میں فلموں کو نامناسب کرداروں کے باعث ٹھکرایا۔

بولی وڈ اداکارہ 43 سالہ ملکا شراوت نے انکشاف کیا ہے کہ حقیقی شخصیت اور زندگی سے مطابقت نہ رکھنے والے کردار دیے جانے پر انہوں نے ماضی میں 20 سے 30 فلموں میں کام کرنے سے انکار کیا۔

ملکا شراوت ماضی میں بولی وڈ میں اقربا پروری اور کام کے بدلے جنسی تعلقات جیسی روایات پر بات کرتی آئی ہیں اور انہوں نے پہلے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ماضی میں انہیں متعدد بار کہا گیا کہ وہ جس طرح اسکرین پر اداکاروں کے ساتھ رومانس کرتی ہیں، اسی طرح آف اسکرین بھی ان کے ساتھ رومانس کریں۔

ملکا شراوت نے بتایا تھا کہ انہیں کہا جاتا تھا کہ جس کام کو سر انجام دینے میں انہیں آن اسکرین یعنی فلم میں کوئی شرم نہیں آتی تو انہیں اسے بند کمرے میں کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟

اداکارہ نے کسی بھی اداکار، پروڈیوسر و ڈائریکٹر کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ بعض مرتبہ انہیں رات کو 3 بجے تنہائی میں ملنے کے لیے بلایا جاتا۔

اب بولی وڈ میں فلم پروڈیوسرز اور ہدایت کار عام اداکاراؤں کے بجائے اپنی گرل فرینڈز کو کاسٹ کر رہے ہیں۔

ملکا شراوت نے کسی بھی فلم ساز یا ان کی گرل فرینڈ کا نام نہیں لیا تھا تاہم دعویٰ کیا تھا کہ اب فلموں میں ہی ہیروز کی گرل فرینڈز ہی کاسٹ کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں خواتین کے حقوق پر بات کرنے کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا اور ان کی حق گوئی کی وجہ سے ہی ماضی میں انہیں 20 سے 30 فلموں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

اور اب ایک بار پھر انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے غیر مہذب کرداروں کی پیش کش کے باعث ماضی میں ڈھائی درجن فلموں کو مسترد کیا۔

ملکا شراوت کے مطابق انہوں نے جن کرداروں کی وجہ سے فلموں کو مسترد کیا اگر وہ یہ کردار نبھاتیں تو ان کی حقیقی اور فلمی شخصیت میں تضاد ہوجاتا۔

بھارت میں خواتین کے لباس اور ان کی چال کی وجہ سے انہیں ریپ اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے کلچر پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ کم علمی اور تعلیم سے دوری کا نتیجہ ہے۔

ملکا شراوت کا کہنا تھا کہ فلموں یا خواتین کے لباس پہننے کا ان کے ریپ کیے جانے سے کوئی تعلق نہیں، لوگوں کو سمجھنا ہوگا کہ کسی کا لباس دوسروں کو ریپ کی دعوت نہیں دیتا۔

بھارت کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جہاں کئی دہائیوں قبل ایک خاتون وزیر اعظم بنیں اور آج متعدد شعبوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں خواتین کا استحصال اور انہیں کم اہمیت دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close