More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلوچستان

تاریخی ناکامی پر سلیکٹڈ اور سلیکٹر کو استعفی دے دینا چاہیے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کوئٹہ: مریم نواز نے کہا ہے کہ کٹھ پتلیوں کا تماشا اب ختم ہونے والا ہے

کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئےمریم نواز نے کہا ہے کہ جسٹس فائز عیسی ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد سلیکٹڈ اور سلیکٹر دونوں کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے لوگوں نے محبت وشفقت سے استقبال کیا اس پر تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں توہین آمیزخاکوں سے مسلمانوں کے دلوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے6 سوبچوں کےاسکالرشپس کے منسوخ کر دیے کسی کو ان پر رحم نہیں آیا۔ مجھے پتہ ہےیہاں سے نوجوانوں کو اٹھالیاجاتاہے۔ بہنوں بیٹیوں کے کمروں میں راتوں رات گھس کر دروازے توڑنےکیا ہمارا کلچر ہے۔ ایک بچی کے تین بھائیوں کو لاپتہ کرنے کا پتہ چلنے پرمیرے آنکھ میں آنسو آگئے۔

مریم نواز نے کہا کہ عوام کی حاکمیت عزت پانے کے لیے آئے ہیں، سپریم کورٹ جسٹس شوکت عزیز کو انصاف دے، موجودہ حاکم عوام کونہیں کسی اور کو جواب دہ ہے۔ انہوں ںے کہا کہ اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو اور سیاست سے دور ہوجائو،جعلی حکومتیں مت بنائو۔ کٹھ پتلیوں کا تماشا اب ختم ہونے والا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹاف کالج کوئٹہ میں قائد اعظم کے کہے گئے الفاظ دل و دماغ میں گونج رہے ہیں۔ بابائے قوم نے اپنے حلف سے پاسداری کی تاکید کی تھی۔ کیا اس نصیحت پر عمل ہوا۔

مریم نواز نے اپنی تقریر میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی صوبائی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ماں باپ کے نام سے راتوں رات پارٹی بنائی گئی اور جو بچہ پیدا ہوا اس وزیر اعلیٰ بنادیا۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسی ریفرینس سے متعلق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے۔ مریم نواز نے کہا کہ کوئٹہ میں آج انہیں بابائے قوم کے باوفا ساتھی قاضی عیسی اور ان کا قابل فخر فرزند فائز عیسی بھی یاد آرہے ہیں جن کے خلاف بدنیتی پر مبنی ریفرینس بنا کر ججز کے نام پر دھبہ لگانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی۔ اس تاریخی ناکامی پر سلیکٹڈ اور سلیکٹر کو استعفی دے دینا چاہیے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close