More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredتعلیم و ٹیکنالوجی

پتھریلی بارش

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

 آتش فشانی سیارے میں ایک لاوے کا سمندر بھی بہتا ہے

ہمارے نظام شمسی کے کناروں کے دوسری جانب پائے جانے والے سیاروں میں لاوا سیارے شامل ہیں یہ آگ کی گرم ترین دنیائیں ہیں جو اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب چکر لگاتی ہیں۔

سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جہاں بارش میں پانی نہیں بلکہ پتھریلی چٹانیں برستی ہیں اس آتش فشانی سیارے میں خطرناک اور طوفانی ہوائیں5000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 2۔141 بی نامی اس آتش فشانی سیارے میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے، یورک یونیورسٹی کے محققین نے ایک کمپیوٹر سمولیشن کے ذریعے اس منفرد سیارے کے موسم اور ماحول کی پیشگوئی کی ہے۔

یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے کے بہت زیادہ قریب واقع ہے اور اس کا دوتہائی حصہ آگ برساتی روشنی کی زد میں جبکہ اس کا تاریک حصہ سرد رہتا ہے۔

اس سیارے میں ایک لاوے کا سمندر بھی بہتا ہے جس کی گہرائی 62 میل ہوسکتی ہے جبکہ اس کی سطح پر 3100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سپرسونک ہوائیں چلتی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ تمام چٹانی سیارے بشمول زمین آغاز میں پگھلی ہوئی دنیائیں تھیں جو بہت تیزی سے ٹھنڈی ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرگئیں، آتش فشانی سیارے ہمیں اس ارتقائی عمل کی نایاب جھلکیاں فراہم کرتے ہیں۔

کمپیوٹر سمولیشنز میں عندیہ ملا کہ کے 2۔141 بی میں چٹانوں کی بارش ہوتی ہے کیونکہ یہاں معدنیاتی بخارات چٹانوں کو سپرسانک ہواؤں کے ذریعے اڑا دیتے ہیں اور پھر چٹانوں کی بارش لاوے پر برستی ہے۔

محققین کو توقع ہے کہ اگلی نسل کی دوربینوں سے وہ اس سیارے کے قریب سے مشاہدہ کرسکیں گے اور تصدیق ہوسکے گی کہ کمپیوٹر سمولیشنز کس حد تک مستند ہیں۔

اس حوالے سے ناسا کی جیمز ویبب اسپیس ٹیلی اسکوپ اہم ہوگی جو 2021 میں کام شروع کرے گی، یہ زمین کے حجم کا سیارہ ہے جس پر ٹھوس سطح، سمندر اور ماحول ہے جو چٹانوں سے بنا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close