More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredپنجاب

خواجہ آصف نے کشمالہ طارق کو خطیر رقم منتقل کی

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

لاہور: خواجہ آصف کی جانب سے کشمالہ طارق کو 12کروڑ دیئے جانے کا انکشاف

نیب حکام نے خواجہ آصف کے خلاف کیس میں پیپلزپارٹی کی رہنما کشمالہ طارق کو ادائیگیوں کے شواہد حاصل کر لیے، خواجہ آصف نےکشمالہ طارق کے اکاؤنٹ میں 12کروڑ روپے منتقل کیے۔

نیب نے کشمالہ طارق کے خلا ف تحقیقات کا آغاز کر دیا ، نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کشمالہ طارق کو ادائیگیاں خواجہ آصف کے فرنٹ مین نےکیں جس کے ذریعے 2 بار کشمالہ طارق کے اکاؤنٹ میں خطیر رقم جمع کروائی گئیں۔ خواجہ آصف کےفرنٹ مین نےجنوری 2015 میں7کروڑ جمع کرائے جب کہ کشمالہ طارق نے مئی 2015 میں 5 بار ایک ایک کروڑ روپے نکلوائے۔ کشمالہ طارق کے اکاؤنٹ میں ستمبر2015میں 5کروڑ آن لائن جمع ہوئے جس کے بعد انہوں نے مارچ2016 میں 3کروڑ روپے نکلوائے، کشمالہ طارق نےاگست 2016میں 4کروڑ روپےنکلوائے۔

ذرائع کے مطابق کشمالہ طارق کا فریدہ یاسین کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ تھا، کشمالہ طارق نےپنجاب انٹرپرائزز کو 2 بار بڑی رقوم منتقل کیں، پنجاب انٹرپرائززخواجہ آصف کےفرنٹ مین جاوید وڑائچ کے نام رجسٹرڈ ہے۔کشمالہ طارق کا پنجاب انٹرپرائزز سےتعلق کیا ہے؟ اس حوالے سے نیب نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں جب خواجہ آصف وزیر دفاع تھے تو ان کی پیپلزپارٹی سابق وفاقی وزیر کشمالہ طارق سے خفیہ شادی کی خبریں سامنے آئی تھیں ، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خواجہ آصف شادی کے بعد کشمالہ طارق کے ہمراہ باقاعدہ طور پر پارلیمانی لاجز میں رہائش پذیر ہیں، مگر اس حوالے سے دونوں رہنما کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہ آسکی ، تاہم یہ بھی کہا یہ جا رہا ہے کہ خواجہ آصف کی جانب سے یہ رقم کشمالہ طارق کو حق مہر کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف ان دنوں آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب کی حراست میں ہیں، جبکہ کشمالہ طارق مسلم لیگ ن کے سابقہ حکومت کےدور میں وفاقی محتسب مقرر ہوئی تھیں اورابھی تک اس عہدے پر براجمان ہیں نیب کی جانب سے کشمالہ کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیے جانے سے متعلق ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close