Featuredدنیا

کوویڈ 19ویکیسن میں وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت طویل عرصے تک رہتی ہے

کیلیفورنیا :کورونا وائرس کے خلاف سائنسدانوں نے دنیا کو امید کی نئی کرن دکھا دی

امریکی محققین نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ انسداد کوویڈ 19ویکیسن لگوانے کے بعد انسان کی قوت مدافعت کافی عرصے تک وائرس کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

کورونا ویکسین کے حوالے سے کی گئی ایک تحقیق کے بعد امریکی محققین نے بتایا ہے کہ انسداد کورونا ویکسین کی خوراک لینے والے یا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی قوت مدافعت میں وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت طویل عرصے تک موجود رہتی ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد انسانی جسم میں کم از کم 8ماہ تک اس کے خلاف بہتر مدافعت قائم رہتی ہے جس کے باعث وائرس کے دوبارہ حملہ آور ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم میں کرونا وائرس کے خلاف مدافعت مکمل طور پر ختم ہونے میں کئی سال لگیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے کرونا وائرس کی ویکسین بار بار لگوانے کی مزيد ضرورت نہیں رہے گی اور وبا پر جلد قابو پانا بھی ممکن ہوگا۔

اس تحقیق کے شریک مصنف، کیلیفورنیا میں واقع لاجولا انسٹی ٹیوٹ فار امیونولوجی کے ریسرچر شین کروٹی کہتے ہيں کہ شروع میں ہمیں ڈر تھا کہ اس مرض کے خلاف مدافعت زيادہ عرصے تک قائم نہيں رہے گی تاہم اس تحقیق کے نتائج سے ہمارا خوف کچھ حد تک کم ہوگیا ہے۔

اس سے قبل ماضی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کوویڈ19 کے خلاف مدافعت زيادہ عرصے تک قائم نہيں رہتی، جس کے نتیجے میں اس مرض کے شکار لاکھوں افراد کا دوبارہ انفیکشن کا شکار ہونے کا امکان بہت زيادہ تھا۔

اس کے علاوہ دوسرے کرونا وائرسز کے خلاف مدافعت بھی زيادہ عرصے تک قائم نہيں رہتی، اسی لیے سائنسدانوں کو زيادہ حیرت نہيں ہوئی۔ تاہم جریدہ سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج کے مطابق جن افراد میں انفیکشن یا ویکسی نیشن کے بعد مدافعت پیدا ہوئی ہو، ان میں کوویڈ19 کا دوبارہ شکار ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ امکان بہت کم ہے لیکن صفر نہیں ہے تاہم ویکسینیشن کے ذریعے اجتماعی مدافعت پیدا کرکے اس مرض کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہے۔

اس نئی تحقیق میں کوویڈ19 کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والے 185 افراد (جن میں مرد حضرات اور خواتین دونوں شامل تھے) سے حاصل کردہ خون کے نمونوں کا معائنہ کیا گیا تھا۔

ان میں سے زیادہ تر افراد کو معمولی انفیکیشن ہوا تھا، لیکن سات فیصد افراد کو کچھ روز کے لیے ہسپتال میں رہنے کی ضرورت پیش آئی تھی۔

ان میں سے ہر ایک شخص نے ابتدائی علامات سامنے آنے کے بعد ریسرچ ٹیم کو چھ روز اور آٹھ مہینے کے عرصے کے دوران کم از کم ایک خون کا نمونہ فراہم کیا۔ ان میں سے 43 نمونے چھ مہینوں کے بعد حاصل کیے گئے۔

ریسرچ ٹیم نے ان نمونوں میں قوت مدافعت کے ان عناصر کی پیمائش کی جن کی بدولت دوبارہ انفیکشن کا شکار ہونے کے امکانات میں کمی ممکن ہے یعنی اینٹی باڈیز (جو کسی بیماری کی وجہ بننے والے پیتھوجن کی نشاندہی

کرتے ہيں تاکہ نظام مدافعت اس پر حملہ آور ہوسکے)، بی سیلز (جو اینٹی باڈیز بناتے ہيں) اور ٹی سیلز (جو انفیکشن کا شکار ہونے والے سیلز کا خاتمہ کرتے ہیں)۔

ریسرچرز کو یہ بات معلوم ہوئی کہ آٹھ مہینوں کے بعد ہمارے جسم میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز میں کچھ حد تک کمی ہوتی ہے لیکن ہر ایک شخص میں اس کمی کی شرح مختلف ہوتی ہے۔

ٹی سیلز کی تعداد میں بھی صرف کچھ حد تک کمی ہوتی ہے تاہم بی سیلز کی تعداد بعض دفعہ برقرار رہتی ہے اور بعض دفعہ اس میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اینٹی باڈیز کی تعداد میں کمی کے باوجود ہمارے جسم میں کرونا وائرس کے خلاف دوبارہ اینٹی باڈیز بنانے کی صلاحیت برقرار رہتی ہے جس کے باعث دوبارہ انفیکشن کے شکار ہونے کے امکانات بہت کم ہو جاتے ہيں۔

شین کروٹی کے مطابق ان نتائج کی بنیاد پر توقع رکھی جاسکتی ہے کہ ویکسینیشن کے بعد بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس تحقیق سے یہ امید ضرور پیدا ہوتی ہے کہ اگر ویکسینیشن کی مہم کامیاب ہوجائے تو اس وبا کا جلد خاتمہ ممکن ہوگا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close