More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredسندھ

کراچی کا کاروبار چلتا ہے، تو پاکستان چلتا ہے : خالد مقبول

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کراچی میں کب کاروبار کھلنا ہے، وہ کراچی کے منتخب نمائندوں کو کرنا ہے، دادو کے نمائندوں کو نہیں

خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی میں کب کاروبار کھلنا ہے اس کا فیصلہ دادو کے نمائندوں کو نہیں کرنا، وفاق اور صوبہ کراچی اور حیدرآباد کو آفت زدہ قرار دے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے تاجروں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک بار پھر اس ڈوبتے ہوئے کراچی کیلئے تاجروں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کب کاروبار کھلنا ہے، وہ کراچی کے منتخب نمائندوں کو کرنا ہے، دادو کے نمائندوں کو نہیں کرنا۔ کراچی کا کاروبار چلتا ہے، تو پاکستان چلتا ہے۔ کراچی کے تاجر جو بھی فیصلہ کریں گے۔ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونگے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ڈیلٹا ویریئنٹ کی جو نئی لہر آئی ہے اس پر ہم سب کو تشویش ہے۔ وفاق اور صوبہ کراچی اور حیدرآباد کو آفت زدہ قرار دے۔ آپ کراچی سے پچھلے 50 سالوں میں جتنی قربانی چاہتے تھے ہم دے چکے۔ اب قربانی دینے کی باری آپ کی ہے۔
ایم کیو ایم رہنماء نے کہا کہ تھوڑی دیر دکان کھلنے سے زیادہ رش ہوگا یا 24 گھنٹے کھلنے سے ہوگا۔ لوگوں کو بڑی بے شرمی سے کہا گیا کہ آپ ویکسین کروائیں ورنہ پولیس آپ سے پیسے لے گی۔ کراچی کے فیصلے کرنے کا حق کراچی کے مقامی افسروں کے سپرد کیا جائے۔
 
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ فیصلہ کیا جائے کہ اس وباء کے موقع پر جو رشوت لے گا، اسے معطل کرکے برطرف کیا جائے۔ وفاق کہتا ہے کہ لاک ڈاؤن قومی مفاد میں نہیں ہے، جبکہ صوبہ لاک ڈاؤن کو حل سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وباء کے موقع پر دکانداروں کو ریلیف دینے کہ بجائے انہیں جرمانے اور بند کروایا جارہا ہے۔ اب ایسا نہیں چلے گا اور ایسا نہ ہو کہ لوگ معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ لوگ 12 گھنٹے لائن میں لگ رہے ہیں اور انہیں پھر بھی ویکسین نہیں لگ رہی۔
 
انہوں مطالبہ کیا کہ اگر 30 فیصد لوگوں کو کراچی میں کورونا ہے، تو پھر لوگوں کو ویکسینیشن کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ کراچی کہ تاجروں کا ٹیکس معاف کیا جائے۔ کراچی کے تاجروں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں۔ تاجروں کے تمام یوٹیلیٹی بلز معاف کئے جائیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ کیا لاک ڈاؤن سیلیکٹڈ ہوتا ہے کہ کچھ علاقوں میں تو لاک ڈاؤن میں سختی ہے اور کچھ میں سب کاروبار کھلا ہے۔ میں محب وطن اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس نسل پرست حکومت کے اقدامات کو دیکھیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ مکمل لاک ڈاؤن کو ختم کیا جائے۔ پولیو کی طرز پر ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن کی جائے۔

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close