Featuredاسلام آباد

دہشت گرد کو بھی بغیر عدالتی کارروائی کے مار نہیں سکتے

اسلام آباد: یہاں ہزاروں لاپتہ افراد کی فیملیز ہیں ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں، یہاں کوئی ریاست کے اندر ریاست نہیں یہاں ایک آئین ہے قانون ہے

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ مدثر نارو کی فیملی کی ملاقات وزیراعظم سے کرائی گئی ہے، وزیراعظم نے اس پر ہدایات جاری کردیں ہیں ہم اس کیس کو سیریس لے رہے ہیں، ہمیں کچھ وقت دے دیا جائے تو ہم اس کر رپورٹ جمع کراتے ہیں، وزیراعظم نے بہت شرمندگی کا اظہار کیا جب مدثر نارو کی فیملی سے وہ ملے، اگر مدثر نارو حکومت پر تنقید کرتا تھا تو یہ کوئی جرم نہیں ہم کوشش کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہاں کوئی Accountability نہیں ہے، ایک کمیشن بنا ہے فیملیز جاتی ہیں وہ تاریخ دے دیتے ہیں، یہاں ہزاروں لاپتہ افراد کی فیملیز ہیں ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں، یہاں کوئی ریاست کے اندر ریاست نہیں یہاں ایک آئین ہے قانون ہے ، یہاں آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، یہاں آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، ریاست

اس کی ذمہ دار ہے اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے ، دہشت گرد بھی ہو تو اس کو آپ بغیر کسی عدالتی کاروائی کے مار تو نہیں سکتے، کون طے کرے گا کہ یہ دہشت گرد ہے یا نہیں، کل کو ایس ایچ او کہے گا کہ دوسرا میرے خلاف بات کر رہا ہے اس کو اٹھا لو۔

یہاں ایک آئین ہے قانون ہے ، یہاں آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، یہاں آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، ریاست اس کی ذمہ دار ہے اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے ، دہشت گرد بھی ہو تو اس کو آپ بغیر کسی عدالتی کاروائی کے مار تو نہیں سکتے، کون طے کرے گا کہ یہ دہشت گرد ہے یا نہیں، کل کو ایس ایچ او کہے گا کہ دوسرا میرے خلاف بات کر رہا ہے اس کو اٹھا لو۔

یہ بھی پڑ ھیں : کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹروں نے عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑا دیا

وفاقی حکومت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ نیشنل سیکورٹی کو بھی مدنظر رکھنا ہے، آرٹیکل چھ کے تحت جن کو سزا ہو چکی ہم تو اس پر بھی عمل نہیں کرا سکے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم اس پر پھر فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جتنے چیف ایگزیکٹو گزرے یا یہ ہیں ان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ بیماریوں کا علاج عدالتی فیصلوں سے نہیں، عوام کے پاس ہوتا ہے کہ وہ سڑکوں پر آئیں، انیس سو ستر سے یہاں ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں۔

اگر ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے، جب تاثر یہ ہو کہ ریاست ان کرائمز میں شامل ہے تو اس سے سیریس کوئی چیز نہیں ہو سکتی، جنہوں نے مانا ہے ان کے خلاف کارروائی کرکے تو یہ کام شروع کر سکتے ہیں۔

عدالت کی معاونت کروں گا ، میں بھی رول آف لا اور جمہوریت کو سپورٹ کرتا ہوں۔ ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں کل ہی اس معاملے پر عدالت کی معاونت کے لیے تیار ہوں۔

عدالت نے کیس کی سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close