بلوچستان

کارکنوں کیخلاف کارروائی بند نہ کی گئی تو سول نافرمانی کی نوبت آسکتی ہے، بی این پی (مینگل)

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملکی داخلہ و خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اداروں کی جانب سے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے اور پارٹی رہنماؤں کے ماورائے قانون قتل عام کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نامعلوم افراد دراصل نامعلوم نہیں ہیں، سب کو معلوم ہے کون کسے مار رہا ہے۔ اگر ان اداروں نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو خدشہ ہے کہ خانہ جنگی اور سول نافرمانی تک نوبت آسکتی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو روز اول سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 70 سال سے ہم سراپا احتجاج ہیں۔ ہمارے کارکنوں اور رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ریاست اور حکومت اسے نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نام دے دیتی ہے، مگر حکمران دہشت گردی کے خاتمے اور دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے نعروں کے علاوہ عملی طور پر دہشتگردوں کی سرکوبی کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کر رہے۔

بلوچستان میں جو بدامنی ہے، اس میں بیرونی ہاتھ سے زیادہ آمروں کے دور میں بوئے گئے بیج ہیں، جن کا پھل ہم آج تک کاٹ رہے ہیں۔ لاٹھی کا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا۔ حکمران اور ادارے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ ہم اپنی مٹی سے محبت کرتے ہیں اور اس پر جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ ہر جگہ چیک پوسٹیں ہیں، لیکن امن کہیں نظر نہیں آتا۔ امن و امان کے لئے مختص اربوں روپے کرپشن کی نظر ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں لوگوں کا کاروبار تباہ ہوگیا ہے۔ کوئی بھی شخص محفوظ محسوس نہیں کرتا، لیکن حکمران خواب خرگوش میں ہیں۔ انہوں نے شہید ناصر شاہوانی سمیت پارٹی کے دیگر شہداء کو ان کی گراں قدر خدمات پر خراج تحسین پیش کیا، جبکہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر فورسز کے چھاپوں اور چادر و چاردیواری کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close