More share buttons
Share with your friends










Submit
اسلام آباد

حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات ناکام

Share on Pinterest
There are no images.
Share with your friends










Submit

اسلام آباد: وزارت پیٹرولیم اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے مابین ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کےسیکریٹری پٹرولیم کی زیرصدارت ہونے والے مذاکرات میں چیئرپرسن اوگرا عظمٰی عادل، ڈی جی آئل عبدالجبارمیمن کے علاوہ آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف شاہوانی اور آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر بابر اسماعیل بھی شریک ہوئے۔آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے چیرمین یوسف شاہوانی کا کہنا تھا کہ اوگرا کی پالیسیاں غلط ہیں اور ہم اوگرا کا قانون نہیں مانتے، اب اوگرا سوتا ہوا جاگ گیا موٹروے پر ہماری گاڑیوں کے بلاوجہ چالان کئے جارہے ہیں اور ایکسل بڑھانےکا بھی کہا جارہا ہے ہم نئے سسٹم پر نہیں چل سکتے وزارت پیٹرولیم کو پرانا سسٹم ہی بحال کرنا ہوگا۔
یوسف شاہوانی نے کہا کہ ہم پر لوگوں کی ہلاکتوں کا الزام لگایا جارہا ہے جب کہ احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کو آگ ہم نے نہیں لوگوں نے لگائی جس کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، ہمارے جو بھی مطالبات ہیں انہیں مانا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا دما دم مست قلندر جاری رہے گا۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترجمان اوگرا عمران غزنوی کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن کسی کی دھمکیوں سے بلیک میلنگ نہیں ہوں گے ہم نے آئل ٹینکرز ایسوسی سے درخواست ہے لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شبہ ہے آئل کمپنیاں اس ہڑتال کے پیچھے ہیں اور جو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اس بلیک ملینگ میں ملوث ہیں وہ بے نقاب ہوجائیں گی۔
اوگرا اور آئل ٹینکرز کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کا سب سے زیادہ خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا اور پٹرول کی قلت کے باعث پمپس پر طویل قطاریں لگ گئیں، متعدد پمپنگ اسٹیشنز پر پٹرول بھی ختم ہو گیا جب کہ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کو پٹرول کا کوئی متبادل بندوبست کرنا چاہیئے تھا۔

Share on Pinterest
There are no images.
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے