اسلام آباد

پارلیمنٹ سپریم ہے مگر آئین زیادہ مقدم ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے، اگر عدلیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست عدم تواز ن کا شکار ہو جائے گی۔ جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے چیف جسٹس نے کہا ٹارگٹ سے انصاف دینا مزدوری ہے، دل سے کام کریں تو انصاف ہوتا ہے، عزم کے ساتھ قوم کی خدمت کریں، کینیڈا کے چیف جسٹس نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ میں پہلے جذبے سے کام کرتا تھا لیکن آج اپنے کام کو نوکری سمجھ رہا ہوں۔ اگر کسی نے نوکری سمجھ کر کام کرنا ہے تو یہ کام چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ہم سے شکایت ہے، اس کی ذمہ داری خود لیتا ہوں، عدلیہ ملک کا اہم ستون ہے، اگر ہم نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست عدم توازن کا شکار ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ججز کو بہت سی مشکلات ہونگی لیکن لوگوں کو انصاف دینے کے لیے یہ رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں، ماضی میں بڑے بڑے ججوں نے نامناسب حالات میں کام کیا۔ ہاتھ والے پنکھوں سے خود کو ہوا دے کر فیصلے کیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں تکبر نہیں کرتا، جس دن تکبر کروں گا تو وہ میرا آخری دن ہوگا لیکن ایک چیز پر سراٹھا کر مزہ آتا ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ اس ملک کو بنانے کے لیے قائداعظم سمیت اس وقت کے لوگوں نے بہت قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ہونے والی کانفرنس میں کئی ملکوں کے چیف جسٹسز آئے ہوئے تھے لیکن چینی چیف جسٹس صرف مجھے علیحدہ لے کر گئے اور تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے دوران میں نے چینی ہم منصب سے کہا کہ آپ لوگوں نے کمال ترقی کی ہے، میں تو آپ کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں، آپ کی اس ترقی کا راز کیا ہے۔ چینی ہم منصب نے بتایا کہ چین کی ترقی کا راز قوم بننے میں ہے کیونکہ چینی لوگوں نے قوم بننا سیکھ لیا ہے، اس لیے وہ ترقی کر رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایک سال پاکستانی دیانتداری سے کام کرنے کا تحفہ اس ملک کو دے دیں تو پھر دیکھیں گے کہ کتنی تبدیلی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج 40 ہزار روپے روازنہ کے حساب سے تنخواہ لیتے ہیں اور سپریم کورٹ اس سے 10 ہزار روپے زیادہ تنخواہ لیتے ہیں، ہمیں اس تنخواہ کا حق بھی ادا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن آئین سب سے زیادہ مقدم ہے، قوانین پارلیمنٹ نے بنانے ہیں، ہم مقننہ کے تابع ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا آج کے حالات سے نمٹنے کے لیے قوانین بھی اپ ڈیٹ ہوئے؟۔ چیف جسٹس نے طارق جمیل سے ملاقات کا ایک قصہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ طارق جمیل نے ملاقات میں بتایا کہ روز محشر سورج سوا نیزے پر آجائے گا، اس دوران ایک خطے میں چھاﺅں ہو گی اور عادل قاضی کو اس چھاﺅں میں آنے کی پکار دی جائے گی، عادل قاضی کو ججوں کی یہ عبادت اس دھوپ سے دور رکھے گی جو وہ انصاف کی فراہمی یقین بنا کر کرتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close