اسلام آباد

بالائی علاقوں میں پری مون سون بارشوں کا آغاز

بارش اورآندھی کے بعد پنجاب اورخیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی پارہ گرا رہا تاہم اندرون سندھ سمیت بیشتر علاقوں میں شدید گرمی کی لہربرقرار ہے جبکہ تمام تر حکومتی کوششوں اوردعوؤں کے باوجود غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں پری مون سون بارشوں کا آغاز ہو گیا، محکمہ موسمیات نے رواں برس مون سون (جولائی، اگست،ستمبر )کے دوران ملک میں10سے20 فیصد معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جبکہ اس دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر، سندھ اورشمال مشرقی بلوچستان میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے، آئندہ دو روز کے دوران کشمیر، اسلام آباد، بالائی پنجاب، ہزارہ ڈویژن میں کہیں کہیں جبکہ بالائی خیبر پختونخوا، فاٹا، جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور شمال مشرقی بلوچستان میں چندمقامات پر گردآلود تیز ہواؤں، آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

بارش اور تیز ہواؤں کے باعث گرمی کی حالیہ شدت میں مزید کمی کا امکان ہے تاہم ملک کے دیگرعلاقوںمیںموسم گرم اور مرطوب رہے گا، ہفتہ کے روز سب سے زیادہ درجہ حرارت روہڑی 49،ل اڑکانہ، شہید بینظیرآباد48، موہنجوداڑو، پڈعیدن 47، سبی، جیکب آباد46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، ادھر فیصل آباد اور گردونواح میں جمعہ کی رات کو آنیوالی تیزآندھی کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ، ایک خاتون زخمی ہو گئی، ہلاک ہونے والوں میں ستیانہ روڈ مچھلی فارم کے قریب رہائش پذیر فلک شیر اور ٹھیکریوالہ کے نواحی علاقے چک نمبر 82 گ ب کی ثریا بی بی شامل ہیں جبکہ ثریا کے ہمسائے طفیل کی بیوی رشیدہ بی بی شدید زخمی ہوگئی۔

چترال میں مستوج سب ڈویژن کے علاقے بریپ میں گلشیئر پگھلنے سے پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، سیلاب کے باعث 5 مکان مکمل طور پرتباہ ، بجلی کے کئی کھمبے سیلابی ریلے میں بہہ گئے، پھلوں کے باغات کو شدید نقصان پہنچا جبکہ بروغل جانے والی سڑک بھی دریا برد ہوگئی ، مقامی آبادی اپنے مکانات چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہو گئی، علاوہ ازیں کسووال اور عارف والا میں تراویح ، سحری وافطار کے وقت بجلی کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ سے روزہ داروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، بصیرپورمیں آندھی سے معطل برقی رو کی فراہمی 18 گھنٹے بعدجزوی طورپربحال کی گئی جس کی وجہ سے پورا قصبہ اندھیرے میں ڈوبا رہا۔

مساجداور گھروں میںپانی کی قلت پیداہوگئی، شیخوپورہ میں بجلی کی کئی کئی گھنٹے مسلسل بندش اور ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ کی لوڈشیڈنگ کے خلاف جنڈیالہ شیر خان، فیروزوالہ، شیخوپورہ پریس کلب کے باہر اوردیگر مقامات پراحتجاجی مظاہرے کیے گئے جہاں مظاہرین نے ٹائر جلا کر رو ڈ بلا ک کردیے، سکھر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کیخلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے، شکارپور روڈ کے مکینوں نے 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود علاقے کا خراب ٹرانسفارمر تبدیل نہ کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اورٹائر نذر آتش کر کے نعر ے بازی کی جبکہ احتجاج میں شامل خواجہ سراؤں نے سڑک پر سیپکو حکام کیخلاف ڈانس کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close