اسلام آباد

میں نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے

میں کیلاش قبیلے کی ایک لڑکی کی جانب سے مذہب کی تبدیلی پر کیلاشیوں اور مسلم کمیونٹی کے درمیان جاری تنازع ختم ہوگیا ہے۔

جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسلام قبول کرنے والی نویں جماعت کی طالبہ رینا نے بتایا کہ ’میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے کیونکہ میں تعلیم یافتہ ہوں اور میں نےاسلامی کتب کا مطالعہ کیا جس سے میں متاثر ہوئی اور اسلام قبول کرلیا۔‘ انھوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا گیا ہے ۔

رینا کے چچا زاد ولی خان نےبتایا کہ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ مسلمان ہوئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے مزید بات نہیں کرنا چاہتے ہیں تا کہ حالات مزید خرابی کی طرف نہ جائے۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز اس واقعے پر کیلاش اور مسلم کمیونٹی درمیان تصادم ہوا جس میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے تھے پولیس نے اس وقت فریقین کو منتشر کرنے اور بڑے سانحے سے بچنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی۔

اس واقعہ پر چترال کے ضلعی پولیس افسر آصف اقبال نےبتایا تھا کہ پولیس نے لڑکی کو تحویل میں لیکر محفوظ جگہ پر رکھا ہے اور دونوں فریقوں کو چترال بلایا ہے تا کہ لڑکی کی مرضی سے مسئلہ حل ہو۔ ان کے مطابق اگر مسئلہ افہام و تفہیم سے حل نہیں ہوتا تو پھر دونوں کمیونٹیز کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سے قبل ڈی پی او کے مطابق دونوں کمیونٹیوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا تھا۔

کیلاش کے سماجی کارکن لوکی رحمت نے بی بی سی کو بتایا کہ 14 سالا لڑکی رینا نویں جماعت کی طلبہ ہیں اور وہ ’غلطی‘ سے اسلام قبول کر کے مسلمان ہو گئی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’بمبوریت میں چار سو کے لگ بھگ مسلمان دوسرے علاقوں سے آ گئے ہیں اور ٹولیوں کے شکل میں گھوم رہے ہیں جس سے کیلاشیوں کو خطرہ ہے تاہم پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے۔‘

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رات کو اعلیٰ پولیس افسران نے تھانہ بمبوریت میں فریقین کے رہنماؤں کے ساتھ جرگہ بھی کیا ہے تاہم کیلاشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس ہم پر دباؤ ڈال رہی ہے اور ہمارے اوپر مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے رہی ہے۔

خیال رہے کہ چترال پاکستان کا نسبتاً محفوظ اور سیاحتی علاقہ ہے جبکہ یہاں آباد کیلاش قبائل کی ثقافت جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے اور انکی رسم و رواج مقامی مسلم آبادی سے یکسر مختلف ہے۔

دو ہزار سال سے زائد عرصے سے یہاں آباد ان افراد کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔ چترال کے دشوارگزار پہاڑی علاقے میں قائم یہ علاقہ چترال شہر سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور کچھ عرصہ قبل تک افغانستان سے طالبان سرحد عبور کرکے کیلاش آتے تھے اور کیلاشیوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں حفاظتی چوکیاں قائم کر دی تھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close